مسیحی روزہ کی بابت کلام پاک کیا کہاتا ہے؟



سوال: مسیحی روزہ کی بابت کلام پاک کیا کہاتا ہے؟

جواب:
کلام پاک مسیحیوں کو روزہ رکھنے کا حکم نہیں دیتا۔ خدا کو اس ضرورت نہیں ہے یا مسیحیوں سے وہ اس کی مانگ نہیں کرتا۔ مگر اسی وقت کلام پاک روزہ کو ایک اچھی چیز بطور، فائدہ مند بطور اور نفع بخش بطور پیش کرتا ہے۔ اعمال کی کتاب میں ایمانداروں کی روزہ کی بابت لکھا ہوا ہے کہ جب بھی وہ کوئی فیصلہ لیتے تھے اس سے پہلے روزہ رکھتے تھے۔ (اعمال 13:2؛ 14:23)۔ روزہ اور دعا اکثر یہ ایک ساتھ جڑے ہوئےہیں (لوقا 2:37 ؛ 5:33)۔ بہت اکثر روزہ کا دھیان ایک یا دو وقت کے کھانے کو ترک کردینا ہوتا ہے۔ اس کے بدلے میں روزہ کا مقصد دنیا کی باتوں کو ہٹادینے کے لئے ہونا چاہئے تاکہ ہمارا پورا دھیان خدا کی طرف لگا رہے۔ روزہ خدا کو اور خود کو ظاہر کرنے کا طریقہ ہے کہ ہم خدا کے ساتھ رشتہ کے لئے سنجیدہ ہیں۔ روزہ ایک نیا ظاہری تناسب حاصل کرنے میں اور خدا پر نئے طور سے منحصر ہونے میں ہماری مدد کرتا ہے۔

حالانکہ کلام میں روزہ قریب قریب کھانے سے فاقہ کرنے کی بابت لکھا ہؤا ہے مگر روزہ رکھنے کے کچھ اور طریقے بھی پائے جاتے ہیں۔ جیسے کہ خدا پر پوری طرح سے دھیان دینے کے لئے، کسی بھی بات کو (اپنے کام کاج، محنت ومشقت) کو چھوڑ کر دعا بندگی میں وقت گزارنا بھی روزہ کہلاتا ہے (1 کرنتھیوں5-7:1)۔ روزہ کا ایک ٹہرایا ہوا وقت ہونا چاہئےخاص طور سے جب کھانے کا روزہ رکھا جاتا ہے۔روزہ میں ٹہرائے ہو‏ئے وقت سے آگے بڑھنا یا وقت کو آگے بڑھانا جسم کو نقصان پہنچاتاہے۔اس لئے مقررہ وقت کی ہدایت دی جاتی ہے۔ روزہ کا مقصد جسم کو سزا دینا بطور نہیں ہونا چاہئے۔

بلکہ خدا سے ھدایت پاکر اسی پر دھیان دینے کے غرض سے ہونا چاہئے۔ ہمکو یہ سمجھکرروزہ رکھنا چاہئے کہ اسی بہانے ہمار "وزن کم ہوجائیگا" بائیبل کا روزہ وزن کم کرنے کا طریقہ نہیں ہے بلکہ خدا کے ساتھ کی گہری رفاقت حاصل کرنے کی ہے۔ ہر کوئی روزہ رکھ سکتا ہے مگر کچھ لوگ کھانے کا روزہ نہیں رکھ سکتے۔ اس میں مردوں اور عورتوں کی بیماری کی حالات، ضیابطیس کے مریض وغیرہ شامل ہیں۔ مگر ہر کوئی خدا پر دھیان لگانے اور نزدیکی رفاقت حاصل کرنے کے لئے کچھ باتوں کو چھوڑ سکتا ہے۔

دنیا کی چیزوں سے اپنی نظریں پھیرنے کے ذریعہ ہم اور بھی کامیابی کے ساتھ مسیح پر دھیان کرسکتے ہیں۔ خدا کو اپنی مرضی کے مطابق قائل کرنے کے لئے روزہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ روزہ ہمکو بدلتاہے خدا کو نہیں۔ ہم دوسروں سے زیادہ روحانی دکھائی دیں اس کے لئے روزہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ روزہ ہمکو بدلتا ہے خدا کو نہیں۔ ہم دوسروں سے زیادہ روحانی دکھائی دیں اس کے لئے روزہ طریقہ نہیں ہے۔ روزہ حلیمی کے روح سے اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے رکھنا چاہئے نہ کہ چہرے پراداسی لیکر۔ متی18- 6:16 بیان کرتا ہے کہ "اور جب تم روزہ رکھو تو ریاکاروں کی طرح اپنی صورت اداس نہ بناؤ کیونکہ وہ اپنا منہ بگاڑتے ہیں تاکہ لوگ ان کو روزہ دار جانیں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر پاچکے۔ بلکہ جب تو روزہ رکھے تو اپنے سر میں تیل ڈال اور منہ دھو۔ تاکہ آدمی نہیں بلکہ تیرا باپ جو پوشیدگی میں ہے تجھے روزہ دار جانے اور صورت میں تیرا باپ جو تجھے پوشیدگی میں دیکھتا ہے تجھے بدلہ دیگا"۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



مسیحی روزہ کی بابت کلام پاک کیا کہاتا ہے؟