settings icon
share icon
سوال

خُدا کے خاندان کا حصہ ہونے سے کیا مُراد ہے ؟

جواب


بائبل مُقدس یہ تعلیم دیتی ہے کہ خُداوند یسوع مسیح اور خُدا باپ ایک ہیں (یوحنا 1باب1-4 آیات)، اور یہ بھی کہ صرف وہی خُدا باپ کا اکلوتا بیٹا ہے (عبرانیوں 1باب1-4آیات)۔ یہ خاندانی اصطلاح اِس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خُدا باپ خُداوند یسوع کو اپنے خاندان کا ایک رُکن سمجھتا ہے۔ نئے سرے سے پیدا ہونے والے مسیحیوں کے طور پر ہمیں بھی یہ بتایا گیا ہے کہ ہم بھی خُدا کے خاندان کے افراد ہیں (رومیوں 9 باب8آیت؛ 1 یوحنا 3باب1-2 آیات)۔ ہم خُدا کے اِس خاندان کا حصہ کیسے بنتے ہیں؟ جب ہم انجیل کے پیغام کو سُنتے ، اپنے گناہوں کا اعتراف و اقرار کرتے اور اپنا ایمان اور اعتقاد یسوع مسیح پر رکھتے ہیں، اُس وقت ہم خُدا کی بادشاہت میں خُدا کے بچّوں کے طور پر نئے سرے سے پیدا ہوتے ہیں اور یوں ہم ساری ابدیت کے لیے اُس کی میراث کے وارث بنتے ہیں (رومیوں 8باب14-17آیات)۔

اب جبکہ خُداوند یسوع مسیح کو خُدا کا اکلوتا بیٹا کہا گیا ہے، ایمانداروں کو خُدا کے ایسے بچّوں کے طو رپر بیان کیا گیا ہے جو خُدا کے خاندان میں نیا جنم لیتے ہیں، جنہیں بڑھنے، پھلنے پھولنے اور اپنے ایمان میں بالغ ہونے کی ضرورت ہوتی ہے (افسیوں 4باب11-16آیات)، ہم خُدا کے ایسے بیٹے اور اُس کی میراث کے ایسے وارث ہیں جنہیں لے پالک کے طور پر اُس نے اپنے خاندان میں قبول کیا ہے (گلتیوں 4باب4-7آیات)۔ خُدا کا لامحدود فضل اور رحم افسیوں 1باب5-6 آیات کے اندر ظاہر ہوا ہے، جس میں بیان کیا گیا ہے کہ "اور اُس نے اپنی مرضی کے نیک اِرادہ کے موافق ہمیں اپنے لئے پیشتر سے مُقرّر کِیا کہ یسُو ع مسیح کے وسیلہ سے اُس کے لے پالک بیٹے ہوں۔تاکہ اُس کے اُس فضل کے جلال کی ستایش ہو جو ہمیں اُس عزیز میں مُفت بخشا۔ "

خُدا کے فرزندوں کے طور پر ہماری میراث کیا ہے؟ خُدا کی بادشاہی سے کم کچھ بھی نہیں (متی 25باب34 آیت؛ 1 تھسلنیکیوں 2باب12 آیت؛ عبرانیوں 12باب28 آیت)۔ افسیوں 1باب3 آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ایماندار مسیح یسوع میں آسمانی مقاموں پر ہر ایک رُوحانی برکت پاتے ہیں۔ یہ رُوحانی برکات لامحدود، ابدی اور مسیح یسوع کی ذات کے اندر موجود ہیں اور خُدا کے فضل کے وسیلے سے ہمیں خُدا کے فرزند ہونے کے ناطے یہ برکات عطا کی گئی ہیں۔ زمینی بچّوں کے طور پر ہم عام طور پر اُن سبھی چیزوں کو وراثت میں حاصل کرتے ہیں جو ہمارے والدین مرنے کے بعد اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ لیکن خُدا کے معاملے میں ایماندار ابھی سے صلیب پر مسیح یسوع کی قربانی کے وسیلے خُدا باپ کے ساتھ راست تعلق کے استوار ہونے کی بدولت اُس کی میراث کے اجر کو پار ہے ہیں۔ ہماری میراث کے دیگر تحائف میں ایک ایماندار کی زندگی میں رُوح القدس کا اُس وقت بس جانا بھی شامل ہے جس وقت وہ خُداوند یسوع پر ایمان لاتا ہے (افسیوں 1باب13-14آیات)، جس سے ہم ایمانداروں کو اِس دُنیا کے اندر خُدا کے لیے زندگی گزارنے کی قوت ملتی ہے، اور یہ علم بھی ملتا ہے کہ ہماری نجات ابدیت تک اُس کے وسیلہ سے محفوظ ہے (عبرانیوں 7باب24-25 آیات)۔

خُدا کے خاندان کا فرد ہونا وہ سب سے بڑی برکت ہے جو ایمانداروں کو عطا کی گئی ہے اور یہ ایسی برکت ہے جسے ہمیں حلیمی کے ساتھ اپنے گھٹنوں پر جھک کر خُدا کی حمدو ستائش کرنے کی تحریک دینی چاہیے۔ ہم ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتے جس کی بدولت ہم اِسے پانے کے مستحق ٹھہریں کیونکہ یہ ہمارے لیے اُس کی محبت، رحم اور فضل کا تحفہ ہے۔ نا اہل ہونے کے باوجود ہمیں زندہ خُدا کے بیٹے اور بیٹیاں ہونے کے لیے بلایا گیا ہے (رومیوں 9باب25-26 آیات)۔ کاش ہم سب ایمان کے ساتھ اِس دعوت اور پیشکش کا جواب دیں!

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا کے خاندان کا حصہ ہونے سے کیا مُراد ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries