settings icon
share icon
سوال

کیا آسمان پر جانے کے بعد ہم اپنے دوستوں اور خاندانی افراد کو جاننے پہچاننے کے قابل ہونگے؟

جواب


بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ فردوس میں پہنچنے کے بعد سب سے پہلے وہ اپنےاُن دوستوں اور پیاروں سے ملنا چاہتے ہیں جو اُن سے پہلے وفات پا چکے ہیں ۔ ابدیت میں، اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد کو دیکھنے ، جاننے اور ان کے ساتھ وقت گزار نے کےلیے ہمارے پاس بے شما ر وقت ہوگا۔ تاہم فردوس میں ہمارا اصل مقصد عزیز و اقارب کو دیکھنا اور جانناپہچاننا نہیں ہے ۔ بلکہ وہاں ہم خدا کی عبادت کرنے اور فردوس کے عجائب سے لطف اندوز ہونے میں زیادہ مگن ہونگے۔ اپنے پیاروں سے ہمارا اتحاد نو ِ ممکنہ طور پر ہماری زندگیوں میں خدا کے فضل اور جلال ، اُس کی شاندار محبت اور اُس کےعظیم کاموں کے بیانات سے بھرا ہوگا ۔ اِس حقیقت کے پیش ِنظر ہم اور زیادہ شادمان ہوں گے کہ ہم دوسرے ایمانداروں کے ساتھ مل کر خداوند کی حمد و ستائش کرسکتے ہیں خصوصاً اُن کے ساتھ جن سے ہم زمینی زندگی میں بہت محبت کرتے تھے۔

بائبل اِس بارے میں کیا کہتی ہے؟کیا آئندہ زندگی میں ہم لوگوں کو پہچاننے کے قابل ہوں گےیا نہیں ؟' اُس عورت نے جس کا آشنا جِن تھا جب سموئیل کو عالم ِ ارواح سے اُوپر بُلایا تو ساؤل بادشاہ نے سموئیل کو فوراً پہچان لیا (1 سموئیل 28باب 8-17آیات)۔جب داؤد کا بیٹا مر گیا تو داؤد نے کہا " مَیں تو اُس کے پاس جاؤں گا پر وہ میرے پاس نہیں لوٹنےکا" ( 2سموئیل 12باب 23آیت)۔ اِس حقیقت کے باوجود کہ داؤد کا بیٹا شِیرخواری کی حالت میں مرگیا تھا اُس کا خیال تھا کہ جب وہ فردوس میں جائے گا تو وہ اپنے بیٹے کو پہچان لے گا۔ لوقا 16باب 19-31آیات میں موت کے بعد بھی ابراہام، لعزر اور امیر آدمی قابل شناخت تھے ۔ پہاڑ پر دُعا کے وقت جب موسیٰ اور ایلیاہ کےساتھ یسوع مسیح کی صورت بدل گئی تھی تو اِس موقع پر بھی یہ تینوں قابلِ شناخت تھے(متی 17باب 3-4آیات)۔ ان تمام مثالوں میں ، بائبل یہ ظاہر کرتی دکھائی دیتی ہے کہ موت کے بعد آئند ہ زندگی میں بھی ہم قابلِ شناخت ہونگے ۔

بائبل بیان کرتی ہے کہ جب ہم فردوس میں پہنچیں گے" تو ہم بھی اُس کی مانند ہوں گے کیونکہ اُس کو ویسا ہی دیکھیں گے جیسا وہ ہے " (1یوحنا 3باب 2آیت)۔ جس طرح ہمارے زمینی بدن پہلے آدمی کی طرح ہیں اُسی طرح ہمارے جلالی بدن مسیح کی صورت پر ہونگے ( 1کرنتھیوں 15باب 47آیت)۔ " اور جس طرح ہم اِس خاکی کی صورت پر ہوئے اُسی طرح اُس آسمانی کی صورت پر بھی ہوں گے ۔کیونکہ ضرور ہے کہ یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہنے اور یہ مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہنے " (1 کرنتھیوں 15باب 53،49آیات)۔ بہت سے لوگوں نے یسو ع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد اُسے پہچان لیا تھا (یوحنا 20باب 20،16؛ 21باب 12آیت؛ 1 کرنتھیوں 15باب 4-7آیت)۔اگر یسوع اپنے جلالی بدن میں قابلِ شناخت تھا تو یقیناً ہم بھی اپنے جلالی بدن میں قابلِ شناخت ہوں گے ۔ موت کے بعد آئندہ زندگی میں اپنے عزیز و اقارب کو دیکھنا فردوس کا ایک شاندار پہلو ہوگا ہے مگر فردوس ہمارے بارے میں کم اور خدا کے بارےمیں زیادہ ہے ۔ اپنے عزیز و اقارب سے اتحادِ نو اور اُن کے ساتھ ابدیت تک خدا کی عبادت کرنا کیسا راحت انگیز ہو گا ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا آسمان پر جانے کے بعد ہم اپنے دوستوں اور خاندانی افراد کو جاننے پہچاننے کے قابل ہونگے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries