settings icon
share icon
سوال

جھوٹاعقیدہ کیا ہے ؟

جواب


عقیدہ "مختلف تصورات ونظریات کا ایک مجموعہ ہوتا ہے جن کی تعلیم دی جاتی ہے اور اُنہیں سچا مانا جاتا ہے۔" بائبلی عقائد اُن تعلیمات کو کہتے ہیں جو خُدا کے نازل کردہ کلام یعنی بائبل مُقدس کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں۔ جھوٹا عقیدہ وہ خیال ہے جو خُدا کے کلام میں بیان کردہ عقیدے میں اضافہ کرتا ہے ، اُس سے دور کرتا ہے ، اُس کی مخالفت کرتا ہے یا پھر اُسے کالعدم قرار دے دیتا ہے۔ مثال کے طور پر مسیح کے بارے میں کوئی بھی تعلیم جو اُس کی کنواری سے پیدایش کا انکار کرتی ہے وہ جھوٹا عقیدہ ہے کیونکہ یہ کلام کی واضح تعلیم سے متصادم ہے (متی 1باب18 آیت)

پہلی صدی کے آغاز میں ہی غلط عقائد کلیسیا کے اندر سرایت کر گئے تھے اور نئے عہد نامے کے بہت سارے خطوط اُن جھوٹے عقائد کی غلطیوں کو دور کرنے کے لیے لکھے گئے تھے (گلتیوں 1باب6-9 آیات؛ کلسیوں 2باب20-23 آیات؛ ططس 1باب10-11 آیات)۔ پولس نے اپنے نوجوان ساتھی خادم تیمتھیس کو نصیحت کی کہ وہ اُن لوگوں کے حوالے سے خبردار رہے جو بدعتوں کو پھیلاتے اور خُداوند کے گلّہ کو غلط تعلیمات میں الجھاتے ہیں : " اگر کوئی شخص اَور طرح کی تعلِیم دیتا ہے اور صحیح باتوں کو یعنی ہمارے خُداوند یِسُوع مسیح کی باتوں اور اُس تعلِیم کو نہیں مانتا جو دِین داری کے مُطابِق ہے۔وہ مغرُور ہے اور کُچھ نہیں جانتا بلکہ اُسے بحث اور لفظی تکرار کرنے کا مرض ہے ۔ جن سے حَسد اور جھگڑے اور بَدگوئِیاں اور بدگمانِیاں۔اور اُن آدمِیوں میں ردّ و بدل پَیدا ہوتا ہے جن کی عقل بِگڑ گئی ہے اور وہ حق سے محرُوم ہیں اور دِین داری کو نفع ہی کا ذرِیعہ سمجھتے ہیں " (1 تیمتھیس 6باب3-5 آیات)۔

مسیح کے پیروکاروں کی حیثیت سے ہمارے پاس الٰہیات سے ناواقف رہنے کا کوئی بہانہ نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس "خُدا کی ساری مرضی"(اعمال 20باب27 آیت) موجود ہے - بائبل مُقدس مکمل ہے۔ اور جب ہم "خُدا کے حضور مقبول ہونے کے لیے حق کے کلام کو درستی سے کام میں لاتے ہیں" (2 تیمتھیس 2باب15 آیت)تو اِس بات کا بہت کم امکان ہوتا کہ ہم کسی کی چکنی چُپڑی باتوں میں آئیں ۔ جب ہم خُدا کے کلام کو جانتے ہونگے تو ہم پھر آگے کو بچےّ نہ رہیں گے "اور آدمیوں کی بازِی گری اور مَکّاری کے سبب سے اُن کے گمراہ کرنے والے منصُوبوں کی طرف ہر ایک تعلِیم کے جھوکے سے موجوں کی طرح اُچھلتے بہتے نہ پِھریں " گے (افسیوں 4باب14 آیت)۔

جھوٹے عقائد اور فرقہ ورانہ اختلاف کے درمیان فرق کی نشاندہی کرنا ضروری ہے۔ مختلف کلیسیائی گروہ کلامِ مُقدس کے اندر موجود ثانوی مسائل کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔ یہ کلیسیائی اختلافات ہمیشہ ہی جھوٹے عقائد کی وجہ سے نہیں ہوتے۔ کلیسیا کی پالیسیاں ، حکومتی فیصلے، عبادت کا انداز وغیرہ جیسے سبھی موضوعات پر بحث کی جا سکتی ہے کیونکہ کلام میں اِن پر براہِ راست بات نہیں کی گئی ہے۔یہاں تک کہ اُن مسائل پر بھی جن پر کلام بھرپو ر توجہ دیتا ہے اکثر مسیح کے بہت ہی مخلص شاگردوں کی طرف سے بحث کی جاتی ہے۔ تشریح یا عمل کرنے میں اختلاف لازمی طور پر جھوٹے عقائد کی پیروی قرار نہیں دی جا سکتی، نہ ہی ایسی چیزوں کو خُدا کے بدن یعنی کلیسیا میں تقسیم کا باعث بننا چاہیے (1 کرنتھیوں 1باب10 آیت)۔

جھوٹا عقیدہ وہ ہے جو کسی بنیادی سچائی یا کسی ایسی تعلیم کی مخالفت کرتا ہے جو نجات کے لیے ضروری ہے۔ جھوٹے عقیدے کی کچھ مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:

• جہنم کے وجود سے انکار ۔ بائبل جہنم کوابدی عذاب کے ایک حقیقی مقام کے طور پر بیان کرتی ہے جو کہ ہر ایک غیر نجات یافتہ رُوح کی منزل ہے (مکاشفہ 20باب15 آیت؛ 2 تھسلنیکیوں 1باب8 آیت)۔ جہنم کے وجود سے انکار براہِ راست طور پر خُداوند یسوع مسیح کے اپنے الفاظ سے متصادم ہے (متی 10باب28 آیت؛ 25 باب 46 آیت)، اور اِس لیے یہ ایک جھوٹا عقیدہ ہے۔
• یہ تصور کہ "بہت سے خُدا" موجود ہیں۔ یہ فلسفہ حال ہی میں رواداری کی آڑ میں مقبول ہوا ہے ۔ اِس جھوٹے عقیدے میں کہا جاتا ہے کہ کیونکہ خُدا محبت ہے اِس لیے اُس کی طرف رجوع لانے والا اگر مخلص ہے تو وہ کسی بھی مذہب کے تحت کوشش کرے تو اُسے قبول کیا جائے گا۔ اِس طرح کی نسبتی تعلیم پوری بائبل مُقدس کے خلاف جاتی ہے اور واضح طور پر ہماری نجات کے لیے خُدا کے بیٹے کے مجسم ہونے اور ہمارے گناہوں کی خاطر مصلوب ہونے کی ضرورت کو ختم کر دیتی ہے (یرمیاہ 12باب17 آیت؛ یوحنا 3باب15-18 آیات)۔ یہ عقیدہ واضح طور پر خُداوند یسوع کے اِن الفاظ کی بھی براہِ راست تردید کرتا ہے کہ وہی خُدا تک جانے کی واحد راہ ہے۔
• کوئی بھی ایسی تعلیم جو یسوع مسیح کی ذات کو نئے سرے سے اور نئے طریقے سے بیان کرنے کی کوشش کرے۔ ایسا کوئی عقیدہ جو یسوع مسیح کی الوہیت، اُس کی کنواری مریم سے پیدایش، اُس کے گناہ سے مبّرہ ہونے، اُس کی حقیقی موت اور اُس کے اپنے بدن میں جی اُٹھنے کا انکار کرتا ہے وہ جھوٹا ہے ۔ کسی بھی گروہ کا علمِ المسیح کے بارے میں گمراہ کن رویہ آسانی سے اُس گروہ کی ایک علیحدہ فرقے یا بدعت کے طور پر زُمرہ بندی کر سکتا ہے، جو مسیحی ہونے کا دعویٰ تو کر سکتا ہے لیکن حقیقت میں مسیحی ہوتا نہیں۔ حتیٰ کہ کچھ اہم کلیسیائی فرقوں نے یہ اعلان کر کے تیزی کے ساتھ برگشتگی کی طرف کھسکنا شروع کر دیا ہے کہ وہ کلامِ مُقدس کی لغوی تشریح اور یسوع مسیح کی الوہیت پر یقین نہیں رکھتے۔ 1 یوحنا 4باب1-3 آیات اِس بات کا واضح طو ر پر اعلان کرتی ہیں کہ بائبل کی بنیاد پر ترتیب دئیے گئے علمِ المسیح سے انکار کرنا "مخالفِ مسیح" ہونا ہے۔ خُداوندیسوع کلیسیا کے اندر جھوٹے اُستادوں کو "بھیڑ کے روپ میں بھیڑیے" کے طور پر بیان کرتا ہے(متی 7باب15 آیت)۔
• یہ تعلیم جو نجات کے لیے ضروری خُداوند یسوع مسیح کے صلیب پر پورے کئے گئے کام میں مذہبی اعمال کا اضافہ کرتی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ تعلیم زبانی طور پر تو کہے کہ نجات صرف ایمان کے وسیلے ہے لیکن اِس کے ساتھ مذہبی اعمال (جیسے کہ بپتسمے) پر بھی زور دے۔ یہاں تک کہ کچھ گروہ بال بنانے کے انداز ، کپڑوں اور کھانے پینے کے حوالے سے بھی قانونی سازی کرتے ہیں۔ رومیوں 11باب6 آیت ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ہم فضل کو کبھی بھی اعمال کے ساتھ ملانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ۔ افسیوں 2باب8-9 آیات بیان کرتی ہیں کہ ہمیں ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ ہماری طرف سے نہیں بلکہ خُدا کی بخشش ہے۔ اور نہ اعمال کے سبب سے ہے تاکہ کوئی فخر نہ کرے۔ گلتیوں 1باب6-9 آیات اُس شخص کو ملعون قرار دیتی ہے جو فضل کے وسیلے نجات کی خوشخبری کو بدل کر پیش کرتا ہے۔
• ایسی تعلیم جو فضل کو گناہ کرنے کے اجازت نامے کے طور پر پیش کرتی ہے۔ بعض اوقات اِسے "آسان ایمان کا نظریہ" کہا جاتا ہے۔ اِس جھوٹے نظریے کا مطلب خُدا کے حضور راست ٹھہرنے کے لیے ہر کسی کو یسوع مسیح کے متعلق حقائق پر ایمان لانا، اپنی زندگی میں کسی خاص وقت پر کوئی دُعا کر لینا اوراپنی زندگی کے اختتام پر آسمان پر جانے کی یقین دہانی کے ساتھ اپنی زندگی پر قابو پانا ہے۔پولس نے رومیوں 6 باب میں اِس طرح کی سوچ کا سامنا کیا اور اُس پر بات کی ہے۔ متی 7باب21-23 آیات کے اندر یسوع نے خبردار کیا ہے کہ وہ لوگ جو اِس قسم کے عقیدے کو اپناتے ہیں اُن کی یسوع کے ساتھ کبھی واقفیت نہیں ہوتی۔ 2 کرنتھیوں 5باب17 آیت بیان کرتی ہے کہ وہ جو "مسیح میں" ہیں وہ "نیا مخلوق " بن جاتے ہیں۔ یہ تبدیلی کسی ایماندا ر کی طرف سے مسیح پر ایمان لانے کے وسیلے سے آتی ہےجو کہ کسی ایماندار کے باطنی رویے کو تبدیل کر دیتی ہے۔ یسوع مسیح کو جاننے اور اُس سے محبت کرنے کا مطلب یسوع کی تابعداری کرنا ہے۔

شیطان نےباغ عدن کے وقت سے خُدا کے کلام کے حوالے سے تذبذب پیدا کرنے اور اِس میں بگاڑ ڈالنے کی کوشش کی ہے (پیدایش 3باب1-4 آیات؛ متی 6باب6 آیت) ۔ جھوٹے اُستاد، شیطان کے خادم "راستبازی کی منادی کرنے والوں" کی طرح ظاہر ہونے کی کوشش کرتے ہیں (2 کرنتھیوں 11باب15 آیت)، لیکن وہ اپنے پھلوں سے پہچانے جائیں گے(متی 7باب16 آیت)۔ جھوٹے عقیدے کو فروغ دینے والا ایک جعلی شخص اپنے رویے سے تکبر ، لالچ اور خُدا کے خلاف بغاوت کی علامات کو ظاہر کرے گا(یہوداہ 1باب11 آیت) اور وہ اکثر یا تو جنسی بے راہ روی کو فروغ دے گا یا پھر اُس میں ملوث ہوگا (2 پطرس 2باب14 آیت؛ مکاشفہ 2باب20 آیت)۔

ہمارےلیے اِس بات کو جاننا دانشمندی ہوگا کہ ہم کسی بدعت کا شکار ہونے کے کس قدر قریب ہو سکتے ہیں، اور بیریہ کے لوگوں کی طرح ہر ایک چیز کی تحقیق کرنا بھی دانشمندی کی بات ہوگی جن کے بارے میں اعمال 17باب11 آیت میں لکھا ہے کہ "اُنہوں نے بڑے شوق سے کلام کو قبُول کِیا اور روز بروز کِتابِ مُقدّس میں تحقیق کرتے تھے کہ آیا یہ باتیں اِسی طرح ہیں۔ "جب ہم ابتدائی کلیسیا کی قیادت پر دھیان دینے کو اپنا مقصد بنا لیتے ہیں تو جھوٹے عقائد سے بچنے کے ہمارے امکان بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں ۔ اعمال 2باب42 آیت بیان کرتی ہے کہ " یہ رسُولوں سے تعلِیم پانے اور رفاقت رکھنے میں اور روٹی توڑنے اور دُعا کرنے میں مشغُول رہے۔ " اِس طرح کی عقیدت اور رفاقت ہماری حفاظت کرے گی اور اِس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہم اُس راہ پر ہیں جسے یسوع نے ہمارے سامنے رکھا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

جھوٹاعقیدہ کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries