settings icon
share icon
سوال

محبت میں پڑنے/مبتلا ہونے کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے ؟

جواب


"محبت میں مبتلا ہونے " کا مطلب کسی پر فریفتہ ہونا یا کسی انسان کے لیے چاہت کااحساس رکھنا ہے ۔ محبت میں مبتلا ہونا کسی شخص کی اُس جذباتی کیفیت کا اظہار ہے جس میں وہ خو شی بھر ےاحساسات رُوح پر قابض ہونا شروع ہو جاتے ہیں جنہیں محبت کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ بائبل محبت میں مبتلا ہونے کے بارے میں بات نہیں کرتی لیکن اِس میں محبت کے بارے میں بیان کرنے کو بہت کچھ ہے۔

بائبل محبت کو ایک جذبے کی بجائے دانستہ عمل کے طور پر پیش کرتی ہے۔ ہم محبت کرنے کا انتخاب کرتے ہیں؛ یعنی ہم کسی اور شخص کے بہترین مفاد کے لیے کام کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ "محبت میں مبتلا ہونے " کا تصور پُر جوش جذبات اور (امکان سے بڑھ کر) متلاطم ہارمونز پر انحصار کرتا ہے۔ محبت کے بارے میں بائبلی نقطہ نظر یہ ہے کہ محبت احساسات کے بغیر بھی وجود رکھ سکتی ہے؛"اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت" رکھنے کے حکم کی پیروی کرنے کے لیے کسی ہارمون کی ضرورت نہیں ہے (یعقوب 2باب 8آیت)۔

خوشگوار جذبات یقیناً اکثر محبت کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں اور ہم فطری طور پر کسی ایسے شخص کے لیے پُر جوش جذبات رکھتے ہیں جس کے لیے ہم کشش محسوس کرتے ہیں۔ اور بلاشبہ اپنے شریک ِ حیات کی رفاقت میں ہونے پر مثبت جذبات اور متلاطم ہارمونز کا تجربہ کرنا اچھی اور مناسب بات ہے۔ لیکن اگر "محبت میں مبتلا ہونا" محض اتنی سی بات ہے تو ہم بڑی مشکل میں ہیں۔ جب احساسات کم ہو جاتے ہیں تو پھر کیا ہوتا ہے ؟ جب ہارمونز متلاطم ہونا بند ہو جاتے ہیں تو پھر کیا ؟ کیا اُس وقت ہم محبت میں مبتلا " نہیں" ہیں ؟

محبت کو کبھی بھی جذبات یا مصلحت یا رومانوی کشش پر منحصر عمل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے ۔ "محبت میں مبتلا ہونے " کا تصور درحقیقت جذبات سے سر شار افراد کی جذباتی حالت پر غیر ضروری زور دیتا ہے۔ اس فقرے کے الفاظ سے قریباً ایسا لگتا ہے جیسے محبت میں مبتلا ہونا کوئی حادثہ ہو : "مَیں تمہار ی محبت میں مبتلا ہونے پر مجبور ہوں ۔"یہ کسی گانے کا بہترین مصرعہ تو بن سکتا ہے لیکن حقیقی زندگی میں ہم اپنے جذبات پر قابو رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔ بہت سے ازدواجی رشتے اس وجہ سے ختم ہو چکے ہیں (اور بہت سے بے وقوفانہ طور پر شروع ہوئے ہیں) کیونکہ کوئی کسی غلط شخص کی "محبت میں مبتلا ہو گیا تھا/تھی ۔اس بات سے قطع ِ نظر کہ کوئی شخص کتنی شدت سے کسی کی "محبت میں مبتلا " ہوا / ہوئی تھی خُدا طلاق سے بیزار ہے (ملاکی 2 باب 16آیت )۔

محبت کوئی ایسی حالت نہیں ہے جس میں ہم اچانک مبتلا ہو جاتے ہیں؛ بلکہ یہ ایک عہد ہے جس میں ہم بتدریج ترقی کرتے ہیں۔ "محبت میں مبتلا ہونے " کے تصور کے ساتھ پریشانی کا ایک حصہ یہ ہے کہ دنیا نے اُس مفہوم کو توڑ مڑوڑ دیا ہے جو مفہوم حقیقی محبت رکھتی ہے ۔ یہ کہنا اکثر زیادہ درست ہو گا کہ جو لوگ "محبت میں مبتلاہوتے ہیں" وہ اصل میں "شہوت " یا "دیوانگی " یا "نا مناسب جذباتی انحصار کا شکا ر"ہو جاتے ہیں۔" محبت "سب سے عمدہ طریقہ" ہے (1 کرنتھیوں 12باب 31آیت )۔ "محبت صابر ہے اورمہربان " (1 کرنتھیوں 13باب 4آیت ) اور ہم صبر یا مہربانی کی حالت میں مبتلا نہیں ہوتے۔ ہم محبت میں جتنا بڑھتے جائیں گے ہم اتنا ہی زیادہ دینے والے اور دوسروں پر توجہ مرکوز کرنے والے بنتے جائیں گے (دیکھیں یوحنا 3باب 16آیت اور 1 یوحنا 4باب 10آیت )۔

"محبت میں مبتلا ہونا" ایک دل کش فقرہ ہے اور یہ ایک شاندار رومانوی حالت میں داخل ہونے کے خوشگوار احساسات کو اُبھارتا ہے۔ اس طرح کے احساسات اپنے آپ میں درست ہیں اور ممکن ہے کہ محبت میں مبتلا ہونے والوں نے واقعی ایک بہترین ساتھی پالیا ہو۔ لیکن ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ محبت جسمانی کشش پر مبنی جذباتی وابستگی سے بڑھ کر ہے۔ " محبت میں مبتلا " ہونے والے لوگ بعض اوقات اپنی صورتحال کی حقیقت سے اندھے ہو جاتے اور بڑی آسانی سے اپنے جذبات کی شدت کو حقیقی محبت سمجھنے کی غلطی کر سکتے ہیں۔ غزل الغزلات کی کتاب میں دلہن جب اپنے شوہر کو نصیحت کرتی ہے تو وہ سچی محبت کے مستقل ہونے کی بات کرتی ہے:" نگِین کی مانِند مجھے اپنے دِل میں لگا رکھ اور تعوِیذ کی مانِند اپنے بازُو پر "( غزل الغزلات 8 باب 6آیت ) ۔ دوسرے الفاظ میں"اپنے تمام جذبات (اپنے دل) اور اپنی تمام طاقت (اپنے بازو) کو میرے لیے وقف کر دے"۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

محبت میں پڑنے/مبتلا ہونے کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries