settings icon
share icon
سوال

کیا وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان ایمان سے منحرف ہوتے جا رہے ہیں ؟

جواب


ہرایک بچہ جس کی زندگی کے ابتدائی سالوں کا آغاز کلیسیا کے اندر ہوتا ہے وہ لازمی طور پر کلیسیا کے اندر قائم نہیں رہتا بلکہ بہت سے نوجوان جیسے جیسے بالغ ہو رہے ہیں وہ ایمان سے منحرف اور کلیسیا سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔ بارنا گروپ(Barna Group) ایک نمایاں تحقیقاتی ادارہ ہے اور اس کی توجہ مذہب اور ثقافت کے رشتے پر مرکوز ہے اس گروپ کی طر ف سے کئے گئے ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں نو جوانوں کی مکمل آبادی کے 1 فیصد سے بھی کم لوگ بائبلی نظریہ حیات کے حامل ہیں ۔ اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اعدادو شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ 18 سے 23 سال کی عمر کے مسیحیوں میں سے نصف سے بھی کم لوگ بائبلی نظریہ حیات رکھتے ہیں ۔

بارنا گروپ بائبلی نظریہ حیا ت کو مندرجہ ذیل مسیحی عقائد پر ایمان کے طور بیان کرتا ہے ۔

• حتمی اخلاقی سچائی موجود ہے ۔

• بائبل مکمل طور پر لاخطا ہے ۔

• شیطان ایک علامتی نہیں بلکہ حقیقی ذات ہے ۔

• کوئی بھی شخص اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا ۔

• یسوع مسیح نے زمین پر گناہ سے مبّرہ زندگی بسر کی تھی ۔

• خدا آسمان و زمین کا عظیم خالق ہے اور تمام کائنا ت پر حکمرانی کرتا ہے ۔

ایک اور سروے فُلر سیمنری کی طرف سے کیا گیا ہے ۔ اس سروے میں بھی غورو خوص کیا گیا ہے کہ نوجوان ایمان سے کیوں دُور ہو رہے ہیں ۔ فُلرسیمنری کے سروے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا : اِس حوالے سے کہ آیا مسیحی نوجوان اپنی کلیسیا کو چھوڑ دیں گے یا پھر اپنے ایمان پر قائم رہیں گے سب سے اہم عنصر یہ ہے کہ اپنے گھر کو چھوڑنے سے پہلے کیا اُن نوجوانوں کے پاس ایسا کوئی محفوظ مقام موجود ہے جہاں پر وہ اپنے ایمان کے بارے میں اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کر سکیں۔ ایسا محفوظ مقام اُنہیں صرف دو جگہوں یعنی اُن کے گھروں میں اور نوجوانوں میں خدمت کے اداروں میں ملتا ہے۔

فلر سیمنری کے سروے نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ کلیسیا کے نوجوانوں سے متعلق زیادہ تر پروگراموں میں نوجوانوں کو ان کے ایمان میں مضبوط کرنے کی بجائے تفریح اور پیزا فراہم کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نو عمر لوگ ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے بالکل تیار نہیں ہوتے ہیں جن کا اُنہوں گھر چھوڑنے پر سامنا ہو گا۔اگر کچھ نوجوانوں کو ایمان کے ساتھ زندگی بسر کرنے کےلیے کبھی مضبوط بنیاد میسر نہیں ہوتی تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ وہ اپنے ایمان سے منحرف ہوجاتے ہیں ۔

بارنا گروپ اور یو –ایس- اے- ٹوڈے(USA Today) دونوں کی طرف سے کئے جانے والے دو مزید سروے ظاہر کرتے ہیں کہ 75 فیصد مسیحی نوجوان ہائی سکول کے بعد ایمان سے منحرف ہو جاتے اور کلیسیا کو چھوڑ دیتے ہیں ۔ اُن کے ایسا کرنے کی ایک بنیادی وجہ عقلی تشکیک پرستی ہے ۔ لیکن اِن میں سے کتنے نوجوانوں کو واقعتاً اُن کے گھروں یا کلیسیاؤں میں بائبل کی تعلیم دی گئی تھی ؟اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آج کل کے بچّے ہر ہفتے اوسطاً 30 گھنٹے سکول میں گزارتے ہیں جہاں اُنہیں اکثر اُن تصورات کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے جو بائبلی سچائیوں سے یکسر مختلف ہوتے ہیں مثلاً نظریہ ارتقاء اور ہم جنسیت کو قبول کرنا وغیر ہ۔ اس کے بعد وہ گھر آتے اور ہر ہفتے کے آئندہ کے 30 گھنٹے اشہارات اور مزاحیہ پروگرام پر مبنی ٹیلی ویژن شو دیکھنے ، ویڈیو گیمز کھیلنے اور سوشل میڈیا کے استعمال میں صرف کر دیتے ہیں ۔ یہ سب ہفتہ واربائبل کلاس میں گزارے جانے والے 45 منٹ کے دورانیے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے ۔ بائبلی تربیت کے مقابلے میں دنیاوی اثر ات پر مبنی سرگرمیوں میں گزرے جانے والے وقت کی مقدار کو دیکھتے ہوئے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ مسیحی نظریہ حیات سے خالی نوجوان گھر کیوں چھوڑ جاتے ہیں اور کیوں بہت سے لوگ ایمان سے دُور ہوتے جا رہے ہیں ۔ بہت سے نوجوانوں کو نہ صر ف ایمان سے متعلق عقائد میں غیر مستحکم حالت میں چھوڑ دیا گیا ہے بلکہ اُنہیں ایسے متشکک لوگوں کے نقطہ نظر کو عقلمندی سے پرکھنے کی تعلیم بھی نہیں دی جار ہی جو ان کے ایمان کو یقیناً چیلنج کریں گے ۔ اِ ن میں سے زیادہ تر طلباء کالج کے کلاس روم میں داخل ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں جہاں کالج کے تمام اساتذہ میں سے آدھے سے زیادہ مسیحیوں کوعداوت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اُنہیں اور اُن کے ایمان کو مذاق اور اپنے عتاب کا نشانہ بنانے کے کسی بھی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔

نوجوانوں کو اُن کے ایمان سے دور ہونے سے بچائے رکھنے کا ایک اہم عنصر اُن کے والدین کا اثرو رسوخ ہے ۔ جیسا کہ امثال کی کتاب بیان کرتی ہے کہ "لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کر جس پر اُسے جانا ہے۔ وہ بُوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مُڑے گا" ( امثال 22باب 6آیت)۔ ایک خا ص تجزیے میں معلوم کیا گیا ہے کہ جب دونوں والدین کلیسیا میں ایماندار اور متحرک ہوتے ہیں تو اُن کے بچّے93 فیصد تک ایمان میں قائم رہتے ہیں ۔ جب والدین میں سے صرف ایک رُکن ایماندار ہوتا ہے تو اُن کےبچّوں کے ایمان پر قائم رہنے کی شرع 73 فیصد ہوتی ہے۔ جب والدین میں سے کوئی بھی کلیسیا میں خصوصی طور پر سرگرم نہیں ہوتا تو اُن کےبچّوں کے ایمان پر قائم رہنے کی شرح صرف 53 فیصد رہ جاتی ہے ۔ اور وہ والدین جن میں سے کوئی بھی کلیسیا میں بالکل سرگرم نہیں ہوتا اور جو صرف کبھی کبھار گرجا گھر جاتے ہیں اُن کے معاملے میں یہ شرح 6 فیصد تک گر جاتی ہے ۔

نظریات کے بازار میں مد مقابل بہت سے عقائد ہیں ۔ نسبتیت پسندی اور تشکیک پرستی کو ہمارے معاشرے میں عام طور پر " روشن خیالی " کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ مسیحی والدین کو اپنے بچّوں کی خدا کے کلام کے مطابق تربیت کرنی چاہیے (استثنا 6باب 6-9آیات)۔ نوجوانوں کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ ایمان سے دور ہوئے بغیر گھر سے باہر جا سکیں ۔ انہیں اس بارے میں لازمی طور پر تربیت دی جانی چاہیے کہ وہ اپنے غیر نجات یافتہ دوستوں کو کیسے جواب دے سکتے ہیں ۔ انہیں اُس امید کی وجہ بیان کرنے کےلیے تیار رہنا چاہیے جو اُن کی زندگی میں پائی جاتی ہے ( 1پطرس 3باب 15آیت)۔

یہ حقیقت ہر مسیحی گھرانے اور ہر کلیسیا کےلیے فکر مندی کی بات ہونی چاہیے کہ بہت سے نوجوان اپنے ایمان سے منحرف ہو رہے ہیں ۔ معاشرے میں پائی جانے والی لادینیت یا دنیا میں عام بڑھی ہوئی بائبلی نا خواندگی کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں ہے ۔ اگر دنیا بائبلی لحاظ سے ناخواندہ ہے تو پھر کلیسیا کو جزوی طور پر قصور وار ٹھہرایا جانا چاہیے کیونکہ کلیسیا "خُدا کی خاص ملکیت ہے تاکہ اُس کی خوبیاں ظاہر (کرے) جس نے (اُسے) تارِیکی سے اپنی عجیب روشنی میں بُلایا ہے " ( 1پطرس 2باب 9آیت)۔ کلیسیاؤں کو اپنے نوجوانوں کے پروگراموں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ نوجوانوں کو اِدھر اُدھر کی باتوں ، موسیقی کے بینڈوں اور فلموں کے ساتھ محظوظ کرنے کی بجائے ہمیں اُنہیں منطق ، سچائی اور مسیحی نظریہ حیات کے ساتھ کلام ِ مقدس کی تعلیم دینے کی ضرورت ہے ۔ فرینک ٹورک جو مسیحی مصنف اور دفاعِ ایمان کے بارے میں تعلیم دیتا ہے وہ نوجوانوں کے ایمان سے منحرف ہونے کے مسئلے کی کچھ اس انداز میں نشاندہی کرتا ہے "ہم جس چیز کےوسیلہ سے اُنہیں جیتتے ہیں ہم اُنہیں اُسی کے لیے کھینچتے ہیں ۔ اگر ہم اُن کو تفریح اور عزم کی کمی کے ساتھ جیتے ہیں تو ہم انہیں تفریح اور عزم کی کمی کی طرف کھینچ لیتے ہیں ۔ چارلس سپرجن اُس وقت اپنے دور سے آگے تک سوچ رہا تھا جب اُس نے کلیسیا سے گزارش کی تھی کہ وہ بکریوں کو محظوظ کرنے کی بجائے بھیڑوں کی گلہ بانی کرے"

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان ایمان سے منحرف ہوتے جا رہے ہیں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries