settings icon
share icon
سوال

گناہ میں گرنے کی بدولت انسانیت کیسے متاثر ہوئی؟

جواب


"لیکن گُناہ کا جو حال ہے وہ فضل کی نعمت کا نہیں کیونکہ جب ایک شخص کے گناہ سے بہت سے آدمی مر گئے تو خُدا کا فضل اور اُس کی جو بخشش ایک ہی آدمی یعنی یسوع مسیح کے فضل سےپیدا ہوئی بہت سے آدمیوں پر ضرور ہی اِفراط سے نازِل ہوئی"(رومیوں 5باب 12آیت)۔ گناہ میں گرنے کے بے شمار اور دور رس اثرات ہیں ۔ گناہ نے ہماری ذات کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے ۔ اس نے نہ صرف ہماری زمینی زندگی کو بلکہ ہماری ابدی منزل کو بھی متاثر کیا ہے ۔

گناہ میں گرنے کا ایک فوری اثر خدا سے انسان کی جُدائی تھا ۔ باغِ عدن میں آدم اور حوّا کا خدا کے ساتھ کامل رشتہ اور رفاقت تھی ۔ جب اُنہوں نے خدا کے خلاف سرکشی کی تو خدا کے ساتھ اُن کی رفاقت ٹوٹ گئی ۔ اپنے گناہ سے واقف ہونے کے باعث وہ خدا کے حضور شرمندہ ہوئے ۔ اُنہوں نے خود کو خدا سے چھپایا ( پیدایش 3باب 8-10آیات) اور تب ہی سے انسان خود کو خدا سے چھپا تا چلا آرہا ہے ۔ صرف مسیح کے وسیلہ سے ہی اس رفاقت کو بحال کیا جا سکتا ہے کیونکہ اُس میں ہم خدا کے حضور بالکل اُسی طرح راستباز اور پاک بن جاتے ہیں جیسے آدم اور حوّا گناہ کرنے سے پہلے راستباز اور پاک تھے ۔ "جو گناہ سے واقف نہ تھا اُسی کو اُس نے ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا تاکہ ہم اُس میں ہو کر خُدا کی راست بازی ہو جائیں "( 2کرنتھیوں 5باب 21آیت)۔

گناہ میں گرنے کی وجہ سے موت ایک حقیقت بن گئی اور ساری مخلوق پر غالب ہوئی ۔ اب تمام انسان ، جانور اور پودے مرجاتے ہیں ۔ " تمام مخلوقات مل کر اب کراہتی " (رومیوں 8باب 22آیت) اور اُس وقت کا انتظار کر رہی ہیں جب مسیح آکر سب مخلوقات کو موت کے اثرات سے چھڑائے گا ۔ گناہ کی وجہ سے موت ایک ناگزیر حقیقت بن گئی ہے اور کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں۔ "کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے مگر خُدا کی بخشش ہمارے خُداوند مسیح یسوع میں ہمیشہ کی زِندگی ہے"( رومیوں 6باب 23آیت)۔

گناہ میں گرنے کا ایک اور اثر یہ ہے کہ انسان اپنے اُس مقصد کو کھو چکا ہے جس کے لیے اُسے پیدا کیا گیا تھا ۔ انسان کی زندگی کا سب سے اہم اور بڑا مقصد خدا کی تمجید کرنا اور اُس میں ہمیشہ مسرور رہنا ہے ( رومیوں 11باب 36آیت؛ 1کرنتھیوں 6باب 20آیت؛ 1کرنتھیوں 10باب 31آیت؛ 86زبور 9 آیت)۔ چنانچہ خدا سے محبت کرنا تمام اخلاقیات اور نیکی کی بنیاد ہے ۔ اپنی ذات کو سب سے اعلیٰ ٹھہرانے کا فیصلہ اس کے بالکل اُلٹ ہے ۔ خود غرضی گناہ میں گرنے کا جوہر ہے اور یہی خود غرضی خدا کے خلاف کئے جانے والے باقی تمام گناہ کا باعث بنتی ہے ۔ کسی بھی لحاظ سے دیکھا جائےتو گناہ دوسروں کو نظرانداز کرتے ہوئے خود مرکزیت کا شکار ہونا ہے اور اِس کی تصدیق ہماری روز مرّہ کے طرزِ زندگی سے ہوتی ہے۔ ہماری توجہ صرف اور صرف ہماری اپنی ذات ، خصوصیات اور کارناموں پر ہوتی ہے ۔ ہم اپنی کمیوں کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہم زندگی میں اُن چیزوں کی خواہش کے ساتھ ساتھ جو دوسروں کے پاس نہ ہو زیادہ فوائد اور مواقع کی تلا ش میں رہتے ہیں ۔ ہم اپنی خواہشات اور ضروریات کے بارے میں زیادہ فکر مندی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ دوسروں کی خواہشات اور ضروریات کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔ مختصر یہ کہ ہم اپنی زندگی کے تخت پر اپنے آپ کو بیٹھاتے ہوئے خدا کے حق پر قابض ہو جاتے ہیں ۔

جب آدم نے اپنے خالق کے خلاف سرکشی کا فیصلہ کیا تو وہ اپنی پاکیز گی سے محروم ہو گیا ، اُسے جسمانی اور رُوحانی موت کا سامنا کرنا پڑا اور گناہ کے باعث اُس کا ذہن تاریک ہو گیا اور ایسے ہی اُس کی آئندہ نسل کے ذہن بھی ہیں ۔ پولس رسول غیر ا قوام کے لوگوں کے بارے میں کہتا ہے کہ " جس طرح اُنہوں نے خُدا کو پہچاننا ناپسند کِیا اُسی طرح خُدا نے بھی اُن کو ناپسندیدہ عقل کے حوالہ کر دیا کہ نالائق حرکتیں کریں" ( رومیوں 1باب 28آیت)۔ وہ کرنتھس کی کلیسیا کے ایمانداروں کو بتاتا ہے کہ " اُن بے اِیمانوں کے واسطے جن کی عقلوں کو اِس جہان کے خُدا نے اَندھا کر دِیا ہے تاکہ مسیح جو خُدا کی صورت ہے اُس کے جلال کی خوشخبری کی روشنی اُن پر نہ پڑے " (2کرنتھیوں 4باب 4آیت)۔ یسوع مسیح فرماتا ہے کہ "مَیں نُور ہو کر دنیا میں آیا ہوں تاکہ جو کوئی مجھ پر اِیمان لائے اندھیرے میں نہ رہے" ( یوحنا 12باب 46آیت)۔ پولس رسول افسس کی کلیسیا کے ایمانداروں کو یاد دلاتا ہے کہ " تم پہلے تارِیکی تھے مگر اب خداوند میں نُور ہو۔ پس نُور کے فرزندوں کی طرح چلو" (افسیوں 5باب 8آیت)۔ نجات کا مقصد یہ ہے کہ خدا "اُن کی آنکھیں کھول دے تاکہ اندھیرے سے روشنی کی طرف اور شیطان کے اِختیار سے خُدا کی طرف رجوع لائیں اور مجھ پر اِیمان لانے کے باعث گناہوں کی معافی اور مقدسوں میں شرِیک ہو کر میراث پائیں" ( اعمال 26باب 18آیت)۔

گناہ میں گرنے کی بدولت انسانوں میں ایک بگاڑ کی حالت پیدا ہو گئی تھی۔ پولس رسول نہ صرف اُن لوگوں کے بارے میں بات کرتا ہے " جن کا دل گویا گرم لوہے سے داغا " دیا گیا ہے (1تیمتھیس 4باب 2آیت) بلکہ وہ اُن لوگوں کے بارے میں بھی بات کرتا ہے جن کے ذہن سچائی کو مسترد کرنے کے نتیجے میں رُوحانی طور پر تاریک ہو گئے ہیں (رومیوں 1باب 21آیت)۔ ایسی حالت میں خدا کے فضل کے بغیر انسان بالکل اس قابل نہیں کہ وہ اُن باتوں پر عمل کرے یا ایسے فیصلے لے جو خدا کے نزدیک قابل ِ قبول ہیں ۔ "اِس لئے کہ جسمانی نیّت خُدا کی دُشمنی ہے کیونکہ نہ تو خُدا کی شرِیعت کے تابع ہے نہ ہو سکتی ہے"(رومیوں 8باب 7آیت)۔

روح القدس کے وسیلہ سے مافوق الفطرت طریقے سے نئی پیدایش کے عمل کے بغیر تمام انسان اپنے گناہ /زوال کی حالت میں ہی رہنے والے تھے ۔ لیکن اپنے فضل ، رحم اور محبت بھری شفقت میں خدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا کہ وہ صلیب پر ہمارے گناہ کی قیمت ادا کرے اور خدا کے ساتھ ہماری صلح اور اُس کے ساتھ ابدی زندگی کو ممکن بنائے ۔ گناہ میں گرنے کے وقت جوکچھ کھو گیا تھا اُسے صلیب پر مسیح کی موت کے موقع پر واپس حاصل کر لیا گیا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

گناہ میں گرنے کی بدولت انسانیت کیسے متاثر ہوئی؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries