settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


یعقوب کہتا ہے کہ " غرض جیسے بدن بغَیر رُوح کے مُردہ ہے وَیسے ہی اِیمان بھی بغیر اَعمال کے مُردہ ہے " (یعقوب 2باب26آیت)۔ اعمال کے بغیر ایمان مُردہ ہوتا ہے کیونکہ ایمان کی بنیاد پر کئے گئے نیک کاموں کی کمی اِس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ نجات پانے کا دعویٰ کرنے والے شخص کی زندگی تبدیل نہیں ہوئی اور اُس کا دِل رُوحانی طور پر مُردہ ہی ہے۔ بائبل مُقدس کے اندر ایسی بہت ساری آیات ہیں جو اِس بات کو بیان کرتی ہیں کہ حقیقی نجات بخش ایمان کا نتیجہ ایک بالکل تبدیل شُدہ زندگی کی صورت میں نکلے گا اور اُس ایمان کا اظہار اُن کاموں کے وسیلے سے ہوتا ہے جو ہم نجات پانے کے بعد کرتے ہیں۔ ہم جس انداز سے اپنی زندگی گزارتے ہیں اُس سے لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ ہم ایمان کیا رکھتے ہیں اور اِس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ ایمان جس کا ہم اقرار کر رہے ہیں وہ زندہ ایمان ہے بھی یا نہیں۔

یعقوب 2باب14-16آیات کو کئی بار سیاق و سباق کے بغیر پیش کرتے ہوئے راستبازی کے ایک نظام کو تخلیق کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن ایسا کرنا بائبل کے دیگر بہت سارے حوالہ جات کے خلاف ہے۔ یعقوب قطعی طور پر یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمارے کام خُدا کے سامنے ہمیں راستباز بناتے ہیں، بلکہ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ نجات بخش ایمان کی موجودگی کا اظہار ہمارے کاموں سے ہوتا ہے۔ ہمارے اعمال ہماری نجات کا باعث نہیں ہیں؛ ہمارے کام ہماری نجات کا ثبوت ہوتے ہیں۔ مسیح پر حقیقی ایمان کا نتیجہ ہمیشہ ہی نیک اعمال کی صورت میں نکلتا ہے۔ ہر ایک ایسا شخص جو مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اِس کے باوجود خودسر ہوتے ہوئے مسیح کی نافرمانی کرتا ہے اُس کا ایمان جھوٹا اور مُردہ ہے اور وہ شخص نجات یافتہ نہیں ہے۔ پولس یہی بات 1 کرنتھیوں 6باب9-10آیات کے اندر بیان کرتا ہے۔ یعقوب دو مختلف طرح کے ایمان کا موازنہ کرتا ہے –سچا ایمان جو بچاتا ہے اور جھوٹا ایمان جو مُردہ ہے۔

بہت سارے مسیحی ہونے کے دعویدار ہیں لیکن اُن کی زندگیاں اور ترجیحات اِس کے برعکس اشارہ دیتی ہیں۔ یسوع اِس بات کو اِن الفاظ میں بیان کرتا ہے: "اُن کے پھلوں سے تم اُن کوپہچان لو گے۔ کیا جھاڑِیوں سے انگور یا اُونٹ کٹاروں سے انجیر توڑتے ہیں؟۔اِسی طرح ہر ایک اچّھا درخت اچّھا پھل لاتا ہے اوربُرا درخت بُرا پھل لاتا ہے۔اچّھا درخت بُرا پھل نہیں لا سکتا نہ بُرا درخت اچّھاپھل لا سکتا ہے۔جو درخت اچّھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالاجاتا ہے۔پس اُن کے پھلوں سے تُم اُن کوپہچان لو گے۔جو مجھ سے اَے خُداوند اَے خُداوند! کہتے ہیں اُن میں سے ہر ایک آسمان کی بادشاہی میں داخِل نہ ہو گا مگروُہی جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتا ہے۔اُس دِن بہتیرے مجھ سے کہیں گے اَے خُداوند اَے خُداوند!کیا ہم نے تیرے نام سے نبوّت نہیں کی اور تیرے نام سے بدرُوحوں کو نہیں نِکالا اور تیرے نام سے بہت سے معجزے نہیں دِکھائے؟۔اُس وقت مَیں اُن سے صاف کہہ دُوں گا کہ میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی ۔ اَے بدکارو میرے پاس سے چلے جاؤ۔ " (متی 7باب16-23آیات)

غور کریں کہ یسوع کا پیغام بھی بالکل وہی ہے جو یعقوب کا پیغام ہے۔ خُدا کی تابعداری حقیقی نجات بخش ایمان کی نشانی ہوتی ہے۔ یعقوب ابرہام اور راحب کی مثال اُس تابعداری کی تصویر کشی کرنے کے لیے دیتا ہے جو نجات کے ساتھ آتی ہے۔ محض یہ کہنے سے کہ "ہم یسوع پر ایمان رکھتے ہیں" کوئی بھی شخص نجات نہیں پا سکتا، اور نہ ہی ایسا کسی طرح کی مذہبی رسومات کی بدولت ہوتا ہے۔ ہم رُوح القدس کی طرف سے اپنے دِلوں کونیا بنائے جانے کی بدولت نجات پاتے ہیں اور ہماری رُوح کا وہ نیا پن ہماری خُدا کی تابعداری میں گزاری جانے والی پُر ایمان زندگی سے ہمیشہ ظاہر ہوگا۔

ایمان اور اعمال کے باہمی تعلق میں غلط فہمی نجات کے بار ےمیں بائبل کی تعلیمات کو نہ سمجھنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ کاموں اور اعمال کے تعلق سے لوگوں میں عام دو غلطیاں پائی جاتی ہیں۔ پہلی غلطی کے لیے Easy believism کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اِس کے مطابق اگر کسی شخص نے اپنی زندگی میں کبھی نجات پانے کی دُعا کی ہو یا کبھی یہ کہا ہو کہ "مَیں یسوع پر ایمان رکھتا ہوں" تو پھر چاہے اُس کی زندگی جیسی ہی کیوں نہ ہو وہ نجات یافتہ ہے۔ پس اِس لحاظ سے کوئی بھی ایسا شخص جس نے کبھی اپنے بچپن میں اپنے چرچ کے اندر یہ کہنے کے لیے ہاتھ اُٹھایا ہو کہ مَیں نجات پانا چاہتا ہوں اُسے نجات یافتہ سمجھا جاتا ہے چاہے اُس کے بعد اُس نے اپنی زندگی میں کبھی بھی خُدا کے ساتھ چلنے کی خواہش ظاہر نہ کی ہو اور وہ مسلسل طور پر گناہ میں زندگی گزار رہا ہو۔ اِس عقیدے کو کئی بار "انتخابی نئی پیدایش" بھی کہا جاتا ہے جو کہ پُر فریب اور خطرناک تصور ہے۔ یہ تصور کہ صرف ایمان کا اقرار کرنا انسان کو نجات دلاتا ہے اُس اقرار کے بعد چاہے وہ شیطان جیسی زندگی گزارے ایک نئے قسم کے ایمانداروں کو متعارف کرواتا ہے جنہیں عام طور پر "نامی /دُنیاوی مسیحی" کہا جاتا ہے۔ یہ تصور بہت ناراست طرزِ زندگی گزارنے کے بہت سارے بہانوں کو موقع دیتا ہے: کوئی شخص غیر توبہ شُدہ حرامکار، جھوٹا اور بینک میں ڈاکہ ڈالنے والا ہو سکتا ہے، لیکن اِس کے ساتھ ساتھ وہ "نامی/دُنیاوی مسیحی" ہوتے ہوئے نجات یافتہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم یعقوب 2 باب کے اندر دیکھتے ہیں کہ ایمان کا لفظی اقرار –ایک ایسا اقرار جو مسیح میں تابعداری کی زندگی گزارنے کا باعث نہیں بنتا –حقیقت میں مُردہ ایمان ہے اور وہ کسی کو بھی نجات نہیں بخش سکتا۔

اعمال اور ایمان کے تعلق سے دوسری غلطی یہ کہنا ہوگی کہ ہمارے کام بھی ہمیں خُدا کے سامنے راستباز ٹھہرانے کا حصہ بنتے ہیں۔ نجات حاصل کرنے کے لیے ایمان اور اعمال کا امتزاج کلامِ مُقدس کی تعلیمات کے بالکل منافی ہے۔ رومیوں 4باب5آیت بیان کرتی ہے کہ " مگر جو شخص کام نہیں کرتا بلکہ بے دِین کے راست باز ٹھہرانے والے پر اِیمان لاتا ہے اُس کا اِیمان اُس کے لئے راست بازی گِنا جاتا ہے۔ "یعقوب 2باب26آیت بیان کرتی ہے کہ "ایمان بغیر اعمال کے مُردہ ہے۔"اِن دونوں حوالہ جات کے درمیان کوئی بھی اختلاف نہیں ہے۔ ہم ایمان کے وسیلے خُدا کے فضل کی بدولت راستباز ٹھہرائے گئے ہیں، اور ہمارے دِلوں کے اندر ایمان کا ابدی نتیجہ وہ کام ہیں جو ہماری زندگی کے وسیلے دوسرے لوگ دیکھ سکتے ہیں۔ ہماری نجات کے بعد جو کام ہماری زندگی میں ظاہر ہوتے ہیں وہ ہمیں خُدا کے سامنے راستباز نہیں ٹھہراتے؛ وہ سادہ طور پر تبدیل شُدہ دِل سے نکلتے ہیں بالکل اُسی طرح جیسے پانی کے کسی چشمے سے قدرتی طور پر پانی بہتا ہے۔

نجات خُدا کی قدرت سے ہونے والا ایک کام ہے جس میں ایک ناپاک گناہگار کو "دھویا جاتا ہے اور رُوح القدس کی طرف سے نیا پن" اُس پر انڈیلا جاتا ہے (ططس 3باب5آیت)، اور اِس سے وہ نئے سرے سے پیدا ہوتا ہے (یوحنا 3باب3آیت)۔ جب یہ سب کچھ ہوتا ہے تو خُدا معافی پانے والے گناہگار کو ایک نیا دِل دیتا ہےا ور اُس کے اندر ایک نیا رُوح ڈالتا ہے (حزقی ایل 36باب26آیت)۔ خُدا اُس کے سینے میں سے گناہ آلود سنگین دِل نکالتا ہے اور اُسے رُوح القدس سے بھر دیتا ہے۔ اِس کے بعد رُوح القدس نجات پانے والے اُس شخص کو قوت بخشتا ہے کہ وہ خُدا کے کلام کی تابعداری میں زندگی گزارے (حزقی ایل 36باب26-27آیات)۔

ایمان بغیر اعمال کے مُردہ ہے کیونکہ یہ ایک ایسے دِل کو ظاہر کرتا ہے جسے خُدا کی طرف سے تبدیل نہیں کیا گیا۔ جب ہم رُوح القدس کے وسیلے سے نئے بنائے جاتے ہیں تو ہماری زندگیوں سے نجات کی بدولت حاصل ہونے والی نئی زندگی جھلکتی ہے۔ ہمارے سارے کاموں میں خُدا کی تابعداری ظاہر ہوگی۔ ہماری زندگیوں میں رُوح کے پھل کی وجہ سے ہمارا نہ نظر آنے والا ایمان بھی لوگوں کو نظر آئے گا (گلتیوں 5باب22آیت)۔ مسیحیوں کا تعلق مسیح کے ساتھ ہے جو کہ اچھا چرواہا ہے۔ اُس کی بھیڑیں ہونے کے ناطے ہم اُس کی آواز سُنتے اور اُس کے پیچھے جاتے ہیں (یوحنا 10باب26-30 آیات)۔

ایمان بغیر ایمان کے مُردہ ہے کیونکہ ایما ن کا نتیجہ نیا مخلوق بننے کی صورت میں نکلتا ہے نہ کہ اُسی پرانے گناہ آلود رویوں کو دہرانے کی صورت میں۔ جیسا کہ پولس نے 2 کرنتھیوں 5باب17آیت میں لکھا ہے کہ "اِس لئے اگر کوئی مسیح میں ہے تو وہ نیا مخلوق ہے ۔ پُرانی چیزیں جاتی رہیں ۔ دیکھو وہ نئی ہو گئیں۔ "

ایمان بغیر اعمال کے مُردہ ہے کیونکہ یہ ایک ایسے دِل کو ظاہر کرتا ہے جسے خُدا کی طرف سےنیا نہیں بنایا گیا تھا ۔ایمان کے محض خالی اعتراف میں زندگیوں کو تبدیل کرنے کی قوت نہیں پائی جاتی۔ وہ جو لبوں سے یہ کہتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں جبکہ اُن کے اندر رُوح نہیں بستا وہ یسوع کے طرف سے ایک دِن یہ سُنیں گے، " میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی ۔ اَے بدکارو میرے پاس سے چلے جاؤ"(متی 7باب23آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries