کیا خدا پر بھروسہ اور سائینس تخالف ہیں؟



سوال: کیا خدا پر بھروسہ اور سائینس تخالف ہیں؟

جواب:
سائینس کو مظہر قدرت یا فطرت کا مشاہدہ، بیان، پہچان تجربہ پر مبنی، تحقیقات اور تحریری تشریح بطور واضح کیا گیا ہے۔ سائینس ایک طریقہ ہے جسے بنی انسان قدرتی کائنات کی ایک بڑی سے بڑی سمجھ کو حاصل کرنے کے لئے استعمال کرسکتا ہے۔ یہ مشاہدہ اور معائنہ کے ذریعہ علم کی ایک تلاش وجستجوں ہے۔ سائینس میں ترقی کرنا یا آگے بڑھنا یا انسانی سائینس اور تصور کی پہنچ کا مظاہرہ کرتا ہے۔ کسی طرح سائینس پر ایک مسیحی کا بھرو سہ کبھی بھی خدا پر بھروسہ جیسا نہیں ہونا چاہئے۔ مگر ایک مسیحی کو خدا پر ایمان رکھتے ہوئے سائینس کی قدر کرنی چاہئے۔ جتنا زیادہ ہوسکے ہم یاد رکھتے ہیں کہ کونسی چیز مکمل ہے اور کونسی نہیں۔

خدا پر ہمارا یقین ایمان کا یقین ہے، نجات کے لئے ہمارا ایمان اس کے بیٹے مسیح پر ہے۔ اس کے کلام پر ہمارا ایمان ہماری نصیحت کے لئے ہے اور روح القدس پر ہمارا ایمان ہماری رہنمائی کے لئے۔ خدا پر ہمارا ایمان خالص اور کامل ہونی چاہئے کیونکہ ہم ایک کامل، قادر مطلق عالم کل خالق پر منحصر ہیں۔ سائینس پر ہمارا اعتقاد دانائی سے ہونی چاہئے اس سے زیادہ نہیں۔ سائینس پر اتنا بھروسہ کرسکتے ہیں کہ وہ بڑے کام کرسکتا ہے مگر اس وقت اس بات کی بھی توقع کی جاسکتی ہے سائینسدان غلطیاں بھی کرسکتے ہیں۔ اگر ہم پوری طرح سے سائینس پر اعتقاد کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ناکاملیت پر، گنہ گاری پر، محدود طاقت پر فانی انسان پر منحصر ہیں۔ تاریخ کے پنوں کو پلٹ کر دیکھینگے تو آپکو معلوم ہوگا کہ سائینس کئی چیزوں میں غلط اور ناکام ثابت ہوا ہے جیسے کہ زمین کی شکل بتانے میں، بغیر انجن کے ہوائی جہاز اڑانا، ٹیکا لگانا، خون کی نقلیں اور یہاں تک کہ دوبارہ پیدا کرنے اور دیگر کھوج کے معاملوں میں ۔ یہ یاد رکھیں کہ خدا کبھی بھی غلط نہیں ہے۔

سچائی سے بالکل ڈرنے کی ضرورت نہیں ہےاس لئے ایک مسیحی کو اچھے سائینس کے لئے ڈرنے کا کوئي سبب نہیں بنتا۔ خدا نے جو ہماری کائنات بنائی ہے اس کی بابت اور زیادہ سیکھنا تمام بنی انسان کی مدد کرتا ہے کہ تخلیق کی عجیب وغریب چیززں کی قدر کرے یا ان کو سرا ہے۔ ہمار ےعلم کی تشریح کرنا یا پھیلانا، بیماریوں سے، ہماری جاہلیت سے اور ہماری غلط فہمیوں سے مقابلہ کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ کسی طرح خطرہ تب ہوتا ہے جب سائینسدان انسانی دلائل اور اصول کے اپنے اعتماد کو اپنے خالق پر ایمان رکھنے سے زیادہ اوپر لیجاتے ہیں۔ یہ لوگ ان سے زیادہ فرق لوگ نہیں ہیں جو مذہب پرست کہلاتے ہیں۔ مگر انہوں سے انسان پر بھروسہ رکھنے کو چنا ہے اور اس حقیقت کو پائينگے کہ وہ بھروسہ انکے بچاؤ کے لئے ہو۔

ابھی بھی کئی ایک شاطر سائینسدان، یہاں تک کہ جو خدا پر اعتقاد کرنے سے انکار کرتے ہیں وہ یہ جانتے اور مانتے ہیں کہ کائنات کو پوری طرح سے سمکجھنے میں ہمارے اندر ابھی بھی کمی پائی جاتی ہے۔ وہ مانینگے کہ تہ تو خدا نہ کلام پاک ثبوت دے سکتا ہے یا سائینس کے ذریعہ غلط ثابت کیا جاسکتا ہے جبکہ کئی ایک انکے پسندیدہ اصول آخرکار سچ یا غلط ثابت کرسکتے ہیں۔ سائینس سچ مچ ایک غیر جانب دار ذہنی اور اخلاقی تربیت ہونا معنی رکھتا ہے صرف سچائی کی تلاش کرتے ہوئے نہ کہ ایک پیش نامہ (ایجنڈا) کی ترقی۔

سائینس کا ایک بڑا حصہ خدا کے وجود اور اس کے کام کی تصدیق کرتا ہے۔ زبور 19:1 کہتا ہے۔ "آسمان خدا کا جلال ظاہر کتا ہے اور فضا اس کی درستکاری دکھاتی ہے"۔ جس طرح موجودہ سائینس کائنات کی بابت اور زیادہ انکشاف کرتا ہے کہ ہم تخلیق کے اور ثبوتوں کو حاصل کرتے ہیں۔ آپکو معلوم ہونا چاہئے کہ اچھنبا پیدا کرنے والا الجھاؤ اور ڈی این اے کی نقل اور ایک دوسرے کے ساتھ مقفل ہونے والے علم طبیعات کے اصول اور حالات کے خالص مطابقت یا اتفاق او رکیمائی طریقے یعنی علم کیمیا ں یہاں زمین پر سب کوئی کلام پاک کے پیغام کی تصدیق کے لئے خدمت کرتے ہیں۔ ایک مسیحی کو سائینس سے اس لئے گلےلگانا چاہئے کیونکہ وہ سچائی کی تلاش کرتا ہے مگر سائینس کے علماء کا انکار کرنا چاہئے جو انسان کے علم کو خدا سے اوپر لیجانا چاہتے ہیں۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا خدا پر بھروسہ اور سائینس تخالف ہیں؟