کیا نجات صرف ایمان کے وسیلے ہے یا پھر ایمان کے ساتھ اعمال بھی ضروری ہیں؟


سوال: کیا نجات صرف ایمان کے وسیلے ہے یا پھر ایمان کے ساتھ اعمال بھی ضروری ہیں؟

جواب:
سارے علمِ الہیات میں غالباً یہ اہم ترین سوال ہے۔اِس سوال نے کلیسیائی اصلاح کاری کی وجہ سے جنم لیا جس میں پروٹسٹنٹ کلیسیا اور رومن کیتھولک کلیسیا علیحدہ علیحدہ ہو گئیں تھیں۔ یہ سوال بذاتِ خود بائبلی بنیاد پر قائم مسیحیت کے جسے ہم راسخ العقیدہ مسیحیت کہتے ہیں اور بہت ساری مسیحی بدعات کے درمیان موجود فرق کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ کیا نجات صرف ایمان کے وسیلے ہے یا پھر ایمان کے ساتھ اعمال بھی ضروری ہیں؟مطلب یہ کہ کیا میری نجات صرف یسوع مسیح پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان رکھنے سے ہی ہے یا پھر مجھے یسوع پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ کچھ مخصوص اعمال کو بھی سر انجام دینے کی ضرورت ہے۔

بائبل کے کچھ ایسے حوالہ جات جن کو باہمی طور پر ہم آہنگ کرنا مشکل ہے صرف ایمان یا ایمان کیساتھ اعمال کے وسیلے نجات کے حوالے سے کئے گئے اِس سوال کے جواب کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ رومیوں 3باب28آیت، 5باب 1آیت اور گلتیوں 3باب 24آیت کا یعقوب 2باب24آیت کے ساتھ موازنہ کیجئے۔ یہاں پر کچھ لوگ پولس کی تعلیمات اور یعقوب کی تعلیمات میں فرق سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ پولس نجات بالفضل کی بات کرتا ہے جبکہ یعقوب نجات بالعمال کی بات کرتا ہے۔ ظاہراً یہ لگتا ہے کہ پولس ایک اصول کے طور پر کہہ رہا ہے کہ نجات صرف ایمان کے وسیلے ہی ممکن ہے (افسیوں 2باب8-9آیات) جبکہ یعقوب کہہ رہا ہے کہ نجات ایمان اور اعمال کے وسیلے ممکن ہے۔پس یہاں پر ظاہر ہونے والے مسئلے کو ہم اُس وقت حل کر سکتے ہیں جب ہم اِس بات کا جائزہ لیں کہ یعقوب اصل میں کس بارے میں بات کر رہا ہے۔ یعقوب در اصل اِس تصوریا خیال کی تردید کر رہا ہے کہ کوئی شخص چاہے اچھے اعمال نہ بھی کرے پھر بھی وہ ایماندار ہو سکتا ہے(یعقوب 2باب 17-18آیات)۔ یعقوب در اصل جس اہم نکتے پر ہماری توجہ مبذول کروانا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے جو لوگ حقیقی ایمان لا کر نجات کا تجربہ کرتے ہیں اُن کی زندگیاں یکسر بدل جاتی ہیں اور اُن کی زندگی اچھے اعمال پیدا کرتی ہیں (یعقوب 2باب 20-26آیات)۔ یعقوب قطعی طور پر یہ نہیں کہہ رہا کہ کوئی بھی شخص ایمان کیساتھ ساتھ کچھ خاص اعمال کے وسیلے نجات حاصل کرتا ہے۔ بلکہ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ ہر وہ شخص جو واقعی ہی ایمان کے وسیلے راستباز ٹھہرایا جا چکا ہے اُس کی زندگی اچھے کام اور نیک اعمال پیدا کرے گی۔ اگر کوئی شخص ایماندار ہونے کا دعویدار ہے اور اُس کی زندگی میں اُس کے کام اچھے نہیں ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ اُس شخص کی زندگی حقیقی طور پر تبدیل نہیں ہوئی۔ اُس کی زندگی میں نہ ہی حقیقی ایمان ہے اور نہ ہی حقیقی راستباز ی (یعقوب 2باب14۔ 17، 20، 26آیات)۔

اپنی تحریروں میں پولس رسول بھی کچھ ایسا ہی کہتا ہے۔ وہ تمام اچھے پھل جو ایک ایماندار کی زندگی میں ہونے چاہییں اُن کی فہرست گلتیوں 5باب22-23آیات میں ملتی ہے۔ ہمیں یہ اصول بتانے کے فوراً بعد کہ ہم کو اعمال کے وسیلے نہیں بلکہ ایمان کے وسیلے نجات ملی ہے (افسیوں 2باب 8-9آیات)، پولس رسول ہمیں بتاتا ہے کہ ہم نیک اعمال کرنے کے لیے تخلیق کئے گئے ہیں (افسیوں 2باب10آیت)۔ جس قدر یعقوب ایک ایماندار کی زندگی کو تبدیل شدہ دیکھنا چاہتا ہے ، بالکل اُسی قدر پولس بھی ایماندار کی زندگی کو تبدیل شدہ دیکھنا چاہتاہے "اِس لئے اگر کوئی مسیح میں ہے تو وہ نیا مخلوق ہے ۔ پرانی چیزیں جاتی رہیں ۔ دیکھو وہ نئی ہو گئیں"(2کرنتھیوں 5باب 17آیت)۔ نجات کے حوالے سے اِس تعلیمی نکتے پر پولس اور یعقوب قطعی طور پر آپس میں متصادم نہیں بلکہ دونوں کے خیالات ایک ہی ہیں۔وہ ایک ہی خاص بات کو دو مختلف پہلوؤں سے پیش کر رہے ہیں۔ پولس رسول سادہ طور پر یہ بیان کر رہا ہے کہ نجات صرف ایمان کے وسیلے ہے جبکہ یعقوب اِس بات پر بھی زور دے رہا ہے کہ خُداوند یسوع پر رکھا گیا حقیقی ایمان اچھے ایمان کا سبب بنتا ہے۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
کیا نجات صرف ایمان کے وسیلے ہے یا پھر ایمان کے ساتھ اعمال بھی ضروری ہیں؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں