settings icon
share icon
سوال

کیا خُدا پر ایمان رکھنا ایک بیساکھی ہے؟

جواب


مِنی سوٹا کے سابق گورنر جیسی وینچورا نے ایک بار کہا تھا کہ "منظم مذہب کمزور ذہن کے لوگوں کے لیے ایک دھوکہ اور بیساکھی ہے جو تعداد کے لحاظ سے کم اور کمزور ہیں اور جنہیں تعداد کے لحاظ سےطاقت کی ضرورت ہے۔" اس سے اتفاق کرتے ہوئے فحش نگار لیری فلائینٹ نے تبصرہ کیا کہ "مَیں اس(مذہب) کے بارے میں کچھ بھی اچھا نہیں کہہ سکتا۔ لوگ اسے بیساکھی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ " ٹیڈ ٹرنر نے ایک بار یہ کہا تھا کہ "مسیحیت ہارے ہوئے لوگوں کے لیے ایک مذہب ہے!" وینچورا، فلائینٹ، ٹرنر اور اِن کی طرح سوچنے والے دیگر لوگ مسیحیوں کو جذباتی طور پر کمزور خیال کرتے ہیں جنہیں اِس زندگی کو گزارنے کے لیے افسانوی یا تصوراتی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُن کے دل میں یہ خیال ہے کہ وہ خود بہت زیادہ مضبوط ہیں اور اُنہیں کسی بھی فرض کردہ خُدا کی ضرورت نہیں ہے جو اُنہیں اُن کی زندگیوں کو گزارنے میں مدد کرے۔

‏ ‏‏ اس طرح کے بیانات سے بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں: اس طرح کی سوچ کہاں سے شروع ہوئی؟ کیا اس میں کوئی سچائی ہے؟ اور بائبل اس طرح کے دعوؤں کا کیا جواب دیتی ہے؟

کیا ‏‏خدا پر ایمان ایک بیساکھی کے سہارے کی مانند ہے؟ -فرائیڈ کا اثر

‏‏ ‏‏ سگمنڈ فرائیڈ (1856تا 1939) ایک آسٹریائی نیورولوجسٹ تھا جس نے نفسیاتی تجزیہ کے عمل کی بنیاد رکھی، یہ ایک ایسا نظام تھا جس میں اس نظریے کی حمایت کی گئی تھی کہ لاشعور میں موجود مقاصد زیادہ تر انسانی طرز عمل کے پیچھے تحریک ہوتے ہیں۔ ‏‏ ‏‏ اگرچہ دہریت کی حمایت کرتے ہوئے فرائیڈ نے اعتراف کیا کہ مذہب کی سچائی کو غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا اور مذہبی عقیدے نے انسانی تاریخ میں لاتعداد لوگوں کو اطمینان فراہم کیا ہے۔ تاہم فرائیڈ کا خیال تھا کہ خدا کا تصور فریب کاری ہے۔ اپنی ایک مذہبی تصنیف ‏‏The Future of an Illusion ‏‏میں اُس نے لکھا ہے کہ "وہ [ایمان دار] کسی مبہم تصور کو خدا کا نام دیتے ہیں جو انہوں نے خود اپنے لیے پیدا کیا ہے۔ ‏"

‏ جہاں تک اس طرح کے وہم پیدا کرنے کی ترغیب کا تعلق ہے، فرائیڈ نے دو بنیادی چیزوں پر یقین کیا: (1) ایمان رکھنے والے لوگ ایک دیوتا تخلیق کرتے ہیں کیونکہ ان کے اندر ایسی مضبوط خواہشات اور امیدیں ہوتی ہیں جو زندگی کی سختیوں کے خلاف راحت کا کام کرتی ‏‏ ہیں؛ (2) خدا کا خیال ایک دلکش باپ کی شخصیت کی ضرورت سے پیدا ہوتا ہے جو مذہبی سوچ رکھنے والے شخص کی زندگی میں اُس باپ کے تصور پر حاوی ہو جاتا ہے جو یا تو موجود نہیں یا پھر وہ ایک ناکامل باپ ہے۔ مذہب میں ‏‏فرض کردہ خواہشات‏‏ کی تکمیل کے عنصر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرائیڈ نے لکھا، "وہ [مذہبی عقائد] وہم ہیں، بنی نوع انسان کی قدیم ترین، مضبوط ترین اور انتہائی فوری خواہشات کی تکمیل ہیں۔ ہم عقیدے کواُس وقت ایک وہم کہتے ہیں جب خواہش کی تکمیل اس عقیدے کی ترغیب میں ایک نمایاں عنصر ہوتا ہے، اور ایسا کرتے ہوئے ہم حقیقت کو عقیدےسے علیحدہ کرتے ہیں ، بالکل ویسے جیسے فریب نظری خودا پنی تصدیق کے لیے کوئی مصدقہ ذخیرہ متعین نہیں کرتی۔ " ‏

‏ ‏‏ فرائیڈ کے لیے خدا ایک نفسیاتی پروجیکشن (ماضی کی بنیاد پر پیشنگوئی )سے زیادہ کچھ نہیں تھا جس نے کسی فرد کو اس حقیقت سے بچانے کا کام کیا جس کا وہ سامنا نہیں کرنا چاہتا اور خود اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ فرائیڈ کے بعد دوسرے سائنسدان اور فلسفی آئے جنہوں نے اسی بات پر زور دیا اور کہا کہ مذہب صرف ذہن کا وہم/مغالطہ ہے۔ فرائیڈ کے پیروکاروں کا ہم خیال اور اُن سے ہم آہنگ امریکی مصنف اور فلسفی رابرٹ پیرسیگ نے کہا ہے کہ "جب ایک شخص کسی مغالطے کا شکار ہوتا ہے تو اسے پاگل پن کہا جاتا ہے۔ جب بہت سے لوگ کسی مغالطے کا شکار ہوتے ہیں تو اُسے مذہب کہا جاتا ہے۔ " ‏

‏ ‏‏ مندرجہ بالا الزامات کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا فرائیڈ اور دیگر لوگوں کے دعوؤں میں کوئی سچائی ہے؟

ایمان کو "بیساکھی کہنے والے ہجوم " کے دعوؤں کا جائزہ

اِن دعوؤں کا ایمانداری کیساتھ جائزہ لیتے وقت سب سے پہلے اِس چیز کو دیکھا جانا چاہیے کہ ایسا بیان دینے والے اپنے بارے میں کیا دعویٰ کر رہے ہیں۔‏ ‏‏ مذہب پر ہنسنے والے کہہ رہے ہیں کہ مسیحی نفسیاتی تحریک اور خواہشات کی تکمیل کے عوامل کا شکار ہیں جبکہ تشکیک پرست اِن کا شکار نہیں ہیں۔ لیکن وہ یہ کیسے جانتے ہیں؟ مثال کے طور پر، فرائیڈ نے دیکھا کہ جذباتی طور پر ضرورتمند لوگوں کو باپ جیسے کسی کردار کی شدید خواہش ہوتی ہےا ور خُدا باپ کی ذات اُن کی اِس طرح کی خواہش سے ہی وجود میں آئی ہے۔ لیکن کیا یہ ہوسکتا ہے کہ فرائیڈ کے اپنے دل میں ایسی کوئی خواہش ہو جس کے مطابق وہ محسوس کرتا ہو کہ باپ جیسی کسی شخصیت کی ضرورت نہیں ہے؟ اورعین ممکن ہے کہ یہ فرائیڈ کی خواہش کی تکمیل کا ایک کام ہی ہو جس کے مطابق وہ آخرت میں یعنی آئندہ زندگی کے اندر خُدا اور اُسکی عدالت کے وجود کو نہیں چاہتا، اور اُس کی یہ خواہش ہو کہ آخرت میں کوئی جہنم نہ ہو۔ اس طرح کی سوچ کے امکان کااظہار خود فرائیڈ کی تحریر کے اندر ہے جس نے ایک بار کہا تھاکہ "اس کا بُرا حصہ، خاص طور پر میرے لئے، اس حقیقت میں ہے کہ تمام چیزوں کی سائنس ایک خدا کے وجود کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہے۔" ‏

‏ جیسا کہ فرائیڈ اور اس کے پیروکاروں نے اپنے مؤقف میں یہ استدلال پیش کیا ہے تو یہ نتیجہ اخذ کرنا بالکل مناسب ہوگا کہ کوئی شخص کسی چیز کے واضح وجود کے ثبوت پر اُسی صورت میں قابو پا سکتا ہے کہ وہ فریب نظری پر مبنی اُمیدوں کو پیدا کر لے جو خُدا کے وجود کی تصدیق پر غالب آ جائیں لیکن اِس کے باوجود وہ سب دہریے اِسے اپنے لیے ایک امکان تصور نہیں کرتے ۔تاہم کچھ دہریوں نے ایمانداری کیساتھ اور کھل کر اس امکان کا اعتراف کیا ہے۔ ایک مثال کے طور پر ایک ملحد پروفیسر/ فلسفی تھامس ناگل نے ایک بار کہا تھاکہ "مَیں چاہتا ہوں کہ الحاد/دہریت سچ ہو ، لیکن اِس بات کو جاننے کی حقیقت مجھے بے چین کرتی ہے کہ کچھ انتہائی ذہین اور باخبر لوگ مذہبی ایمان دار ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ مَیں خدا پر یقین نہیں رکھتا اور فطری طور پر امید کرتا ہوں کہ مَیں اپنے عقیدے میں صحیح ہوں۔ بلکہ بات یہ ہے کہ مجھے امید ہے کہ کوئی خدا نہیں ہے! مَیں نہیں چاہتا کہ کوئی خدا ہو؛ مَیں نہیں چاہتا کہ کائنات ایسی ہو۔ " ‏

‏ ‏‏ ایک اور بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ مسیحیت کے تمام پہلو سب لوگوں کے لیے تسلی کا باعث نہیں ہیں ۔ مثال کے طور پر جہنم کا نظریہ، انسان کوایسے گناہگار وں کے طور پر تسلیم کرنا جو خود خدا کو خوش کرنے سے قاصر ہے اور اسی طرح کی دیگر تعلیمات ایسی نہیں ہیں جن کو کوئی شخص بڑی گرمجوشی کے ساتھ قبول کرلے۔ فرائیڈ ان عقائد کی تخلیق کی وضاحت کیسے کرتا ہے؟ ‏

‏ مندرجہ بالا سوال سے پیدا ہونے والی ایک اضافی سوچ یہ ہے کہ اگر انسان صرف اپنے طور پر بہتر محسوس کرنے کے لئے خدا کا تصور ایجاد کرتا ہے تو کیا لوگ ایک ایسے خدا کا تصور گھڑیں گے جوپاک ‏‏ ہے؟ ایک ایسا خدا لوگوں کی فطری خواہشات اور طریقوں سے متصادم نظر آئے گا۔ درحقیقت ایسا خدا شایدی خُداؤں کی اُس آخری قسم میں سے ہو جس کا تصور لوگوں کے دِلوں میں اُبھرے۔ اس کی بجائے، کوئی بھی توقع کرے گا کہ لوگ ایک ایسا دیوتا تخلیق کریں گے جو اُن سب طور طریقوں کی مخالفت کرنے کی بجائے اُس سب سے بھرپور اتفاق کرے جوسب لوگ فطری طور پر کرنا چاہتے ہیں ۔ (ایسے طور طریقے جنہیں وہ دہریے خود گناہ آلود قرار دیتے ہیں ۔وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ابھی تک اِسکی وضاحت نہیں کی گئی ہے) ۔ ‏

‏ ایک آخری سوال یہ ہے کہ ایمان کو "بیساکھی" کے طور پر پیش کرنے والے اُن لوگوں کی وضاحت کیسے کرتے ہیں جو شروع میں مذہب کے مخالف تھے اورایمان نہیں لانا چاہتے ‏‏ تھے؟ بظاہر ایسے لوگوں کی قطعی طور پر کوئی خواہش نہیں تھی کہ مسیحیت سچا مذہب ثابت ہو لیکن پھر تمام ثبوتوں کا ایمانداری کے ساتھ جائزہ لینے کے بعد اُنہوں نے مسیحیت کی حقیقت کو پہچانا اور ایماندار بن گئے۔ انگریزی اسکالر سی۔ ایس۔ لوئیس ایسے ہی ایک شخص تھے۔ لوئیس کی یہ بات بہت زیادہ مشہور ہے کہ پورے انگلینڈ کے اندر ایسا کوئی شخص نہیں ہوگا جو اپنے اعتقادات کو چھوڑ کے مسیحیت کو اپنانے کے لیے اِس قدر جھجک اور ہچکچاہٹ کا شکار ہوا ہو، ایک ایسا شخص جسے ایمان اپنی طرف کھینچ رہا تھا جبکہ وہ اُس کے خلاف احتجاج میں لات پاؤں چلاتے ہوئے چیخ و پکار کر رہا تھا پھر بھی ایمان نے اُسے گھسیٹ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔" یہ بیان ایک ایسے شخص کی طرف سے ہے جس کے بارے میں برملا کہا جا سکتا ہے کہ ایسا شخص کسی ایسے افسانوی معاملات میں ملوث نہیں تھا جس میں اُس کی زندگی پر خواہشات کی تکمیل کا غلبہ ہو۔

‏ یہ مسائل اور سوالات ایمان کو"بیساکھی" کہنے والے ہجوم کے دعوؤں سے متصادم نظر آتے ہیں لیکن وہ انہیں آسانی سے نظر انداز کردیتے ہیں۔ مگر بائبل کا ان کے دعوؤں کے بارے میں کیا کہنا ہے؟ یہ ان کے الزامات کا جواب کیسے دیتی ہے؟

کیا ‏‏خدا پر ایمان رکھنا ایک بیساکھی ہے؟ - بائبل اِس کا جواب کیسے دیتی ہے؟‏‏ ‏ ‏

‏ اِس دعوے کے رَد عمل میں جو یہ کہتا ہے کہ لوگوں نے خُدا کے تصور کو اپنے لیے بیساکھیوں کے طور پر تخلیق کیا ہے ہے بائبل تین بنیادی جوابات پیش کرتی ہے۔ سب سے پہلے بائبل بیان کرتی ہے کہ خدا نے لوگوں کو اپنے لیے پیدا کیا اور انسان کے دل میں یہ خواہش رکھی کہ وہ اُس کے ساتھ رفاقت رکھے۔ اس حقیقت کے تعلق سے اگسٹن نے لکھا ہے کہ "اَ ے خُدا تُو نے ہمیں اپنے لیے تخلیق کیا ہے، اور جب تک ہمارے دل تجھ میں آرام نہ پا لیں وہ بے آرام رہتے ہیں ۔" بائبل میں کہا گیا ہے کہ انسان خدا کی شبیہ پر بنایا گیا ہے‏‏(پیدائش 1باب26آیت)۔‏‏ اب جب یہ بات سچ ہے تو کیا یہ یقین کرنا معقول نہیں ہے کہ ہم خدا کے وجود کی خواہش محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہم اس خواہش کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں؟ کیا مخلوقات پر خُدا کی چھاپ اور خالق و مخلوق کے درمیان تعلق کی ذمہ داری کا امکان موجود نہیں ہونا چاہیے؟

‏ دوسرے نمبر پر بائبل کی تعلیمات کے مطابق لوگوں کے اعمال اُس سب سے بالکل مختلف بلکہ متضاد ہیں جس کا دعویٰ فرائیڈ اور اُس کے پیروکار کرتے ہیں۔ بائبل میں کہا گیا ہے کہ انسان خدا کے خلاف بغاوت کر رہا ہے اور فطری طور پرخُدا کی قربت کی خواہش کرنے کی بجائے خود کو خُدا سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اِس طرح سے خُدا کی رفاقت کو رَد کرنے کی بدولت اُس پر خُدا کا غضب رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ فطری طور پر خدا کے بارے میں سچائی کو دبانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں جس کے بارے میں پولس نے لکھا ہے: " کیونکہ خُدا کا غضب اُن آدمیوں کی تمام بے دِینی اور ناراستی پر آسمان سے ظاہر ہوتا ہے جو حق کو ناراستی سے دبائے رکھتے ہیں۔کیونکہ جو کچھ خُدا کی نسبت معلوم ہو سکتا ہے وہ اُن کے باطن میں ظاہر ہے۔ اِس لیے کہ خُدا نے اُس کو اُن پر ظاہر کردِیا۔کیونکہ اُس کی اَن دیکھی صفتیں یعنی اُس کی ازلی قدرت اور الُوہیت دُنیا کی پیدائش کے وقت سے بنائی ہوئی چیزوں کے ذریعہ سے معلوم ہوکر صاف نظر آتی ہیں۔ یہاں تک کہ اُن کو کچھ عذر باقی نہیں۔اِس لئے کہ اگرچہ اُنہوں نے خُدا کو جان تو لِیا مگر اُس کی خُدائی کے لائق اُس کی تمجید اور شکر گزاری نہ کی بلکہ باطل خیالات میں پڑگئے اور اُن کے بے سمجھ دِلوں پر اندھیرا چھاگیا۔ وہ اپنے آپ کو دانا جتا کر بیوقوف بن گئے"‏‏(رومیوں 1باب 18-22آیات) ‏‏ یہ حقیقت کہ خدا کو اُس کی تخلیق کے اندر بہت ہی زیادہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے جیسا کہ پولس رسول نے رومیوں کے نام خط میں بیان کیا ہے۔ سی۔ ایس۔ لوئیس نے اِس بات کا خلاصہ کچھ اِس طرح سے کیا ہے کہ "ہم خُدا کو نظر اندازتو کر سکتے ہیں، لیکن ہم خدا کی موجودگی سے کہیں بچ نہیں سکتے۔ دنیااُس کی موجودگی کی بھرپوری سے معمور ہے۔ " ‏

‏ فرائیڈ نے خود اعتراف کیا کہ مذہب اُس کے نزدیک"دشمن" کی مانند ہے۔ اور خُدا کی طرف سے رُوحانی طور پر زندہ کئے جانے سے پہلے انسان کو خُدا کے دشمن کے طور پر ہی پیش کیا گیا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کا پولس نے بھی اعتراف کیا: " کیونکہ جب باوجود دُشمن ہونے کے خُدا سے اُس کے بیٹے کی موت کے وسیلہ سے ہمارا میل ہوگیا تو میل ہونے کے بعد تو ہم اُس کی زِندگی کے سبب سے ضرور ہی بچیں گے"‏‏(رومیوں 5باب10آیت)۔ ‏

‏ تیسرے نمبر پر بائبل خود بیان کرتی ہے کہ زندگی مشکل ہے، مشکلات عام ہیں اور موت کا خوف سب کو محسوس ہوتا ‏‏ ہے۔ یہ وہ سچائیاں ہیں جو ہمارے ارد گرد کی دنیا میں آسانی سے دیکھی جاسکتی ہیں۔ بائبل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خدا مشکل وقت سے گزرنے میں ہماری مدد کرنے کے لئے موجود ہے اور ہمیں یقین دلاتا ہے کہ یسوع نے موت کے خوف پر فتح پا لی ہے۔ یسوع نے خود کہا کہ"تم دُنیا میں مصیبت اُٹھاتے ہو۔"جس سے یہ حقیقت واضح ہے کہ اِس زندگی کے اند ر بہت ساری مشکلات موجود ہیں۔ یسوع نے یہ بھی کہا ہے کہ "خاطر جمع رکھو" اور کہا کہ اُس کے پیروکاروں کو حتمی فتح کے لیے اُس کی طرف دیکھنا چاہیے ‏‏(یوحنا 16باب 33آیت)۔‏‏ ‏

‏ ‏‏ بائبل میں کہا گیا ہے کہ خدا اپنے لوگوں کی پروا ہ کرتا ہے اور اُنکی مدد کرتا ہے اور وہ اپنے پیروکاروں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی بھی مدد کریں اور ایک دوسرے کا باراٹھائیں (گلتیوں 6باب2آیت)۔‏‏ لوگوں کے حوالے سے خدا کی فکر کے بارے میں بات کرتے ہوئے پطرس نے لکھا ہے کہ "پَس خُدا کے قوی ہاتھ کے نیچے فروتنی سے رہو تاکہ وہ تمہیں وقت پر سربلند کرے۔ اور اپنی ساری فکر اُسی پر ڈال دو کیونکہ اُس کو تمہارا خیال ہے"‏‏(1 پطرس 5باب 6-7آیات)۔ یسوع کا مشہورترین بیان بھی اس حقیقت کے بارے میں بات کرتا ہے: " اَے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ مَیں تم کو آرام دوں گا۔میرا جُوا اپنے اُوپر اُٹھا لو اور مجھ سے سیکھو۔ کیونکہ مَیں حلیم ہُوں اور دِل کا فروتن۔ تو تمہاری جانیں آرام پائیں گی۔کیونکہ میرا جُوا ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔"‏‏(متی 11باب28-30آیات)۔‏‏ ‏

‏ ‏‏ روزانہ کی مدد کے علاوہ موت کے خوف پر بھی مسیح نے فتح پا لی ہے۔ یسوع نے اپنے جی اٹھنے کے بعد ثابت کیا کہ موت کا اس پر کوئی اختیار نہیں ہے اور خدا کا کلام کہتا ہے کہ مسیح کا جی اٹھنا ان سب کی قیامت اور ابدی زندگی کا ثبوت تھا جنہوں نے اس پر بھروسہ کیا (1 کرنتھیوں 11باب20آیت)۔‏‏ موت کے خوف سے رہائی عبرانیوں کے مصنف کی طرف سے اعلان کردہ ایک سچائی ہے، جس نے کہاہے کہ " پَس جس صورت میں کہ لڑکے خُون اور گوشت میں شرِیک ہیں تو وہ خُود بھی اُن کی طرح اُن میں شرِیک ہوا تاکہ موت کے وسیلہ سے اُس کو جسے موت پر قدرت حاصل تھی یعنی اِبلیس کو تباہ کر دے۔اور جو عمر بھر موت کے ڈر سے غلامی میں گرفتار رہے اُنہیں چھڑا لے"‏‏(عبرانیوں 2باب14-15آیات)۔ ‏

پس واقعی، بائبل خدا کی طرف سے پرواہ، فکر اور اپنی تخلیق کے لیے اُسکی مددکے بارے میں بات کرتی ‏‏ ہے۔ اس طرح کی سچائی حقیقت میں راحت لاتی ہے، لیکن یہ راحت ایک حقیقت کی بنیاد پر ہے نہ کہ محض خواہش کی تکمیل کی بنیاد پر۔

کیا ‏‏خدا پر ایمان رکھنا ایک بیساکھی ہے؟ - خلاصہ ‏‏ ‏‏

جیسی وینچورا نے جب یہ کہا کہ مذہب محض ایک بیساکھی سے بڑھکر کچھ نہیں تو اُس وقت وہ یہ کہنے میں بالکل غلط تھا۔ اِس طرح کا بیان اُن مغرور لوگوں کی فطرت کی عکاسی کرتا ہےاور ایسے لوگوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جنہیں مکاشفہ کی کتاب میں خُداوند یسوع کی طرف سے ڈانٹا گیا تھا: " اور چونکہ تُو کہتا ہے کہ مَیں دَولتمند ہوں اور مالدار بن گیا ہوں اور کسی چیز کا محتاج نہیں اور یہ نہیں جانتا کہ تُو کمبخت اور خوار اور غریب اور اَندھا اور ننگا ہے" ‏‏(مکاشفہ 3باب17آیت)۔‏‏ ‏

‏ فرائیڈ، وینچورا اور دیگر کی طرف سے کئے جانے والے خواہشات کی تکمیل کے دعوے صرف اپنے خلاف فرد جرم کے طور پر کام کرتے ہیں اور خدا کے وجود اور اپنی زندگیوں پر اُس کے دعوے کو مسترد کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ اور یہ بالکل وہی چیز ہے جو بائبل مُقدس کے مطابق گناہ آلود انسان کرتا ہے۔ لیکن خُدا اِن سب لوگوں سے کہتا ہے کہ وہ اپنی ذات کی اصل خواہش کو پہچانیں اور انسانیت پرست فلسفے اور اُسکی جھوٹی اُمید کی جگہ پر جس سے یہ لوگ چمٹے ہوئے ہیں خُدا خود اپنی ذات کو پیش کرتا ہے۔

‏ مسیح کے جی اٹھنے کی حقیقت اور ثبوت کے بارے میں بائبل کے بیانات راحت اور حقیقی امید لاتے ہیں- وہ اُمید جو کبھی مایوس نہیں کرے گی – اور بائبل ہمیں ہدایت دیتی ہے کہ ہم خُدا پر ایمان رکھنے والی راہ پر چلیں اور اُس کی حضوری میں اپنی کمزور ترین حالت کو پہچانیں۔ ایک بار جب ایسا ہو جاتا ہے تو ہم مضبوط ہو جاتے ہیں بالکل اُسی طرح جیسے پولس رسول بیان کرتا ہے " اِس لئے مَیں مسیح کی خاطر کمزوری میں۔ بےعزتی میں۔ اِحتیاج میں۔ ستائے جانے میں۔ تنگی میں خُوش ہوں کیونکہ جب مَیں کمزور ہوتا ہوں اُسی وقت زورآور ہوتا ہوں " (2 کرنتھیوں 12باب10آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا خُدا پر ایمان رکھنا ایک بیساکھی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries