settings icon
share icon
سوال

خُدا کا تجربہ کرنے کی کلید کیا ہے ؟

جواب


اگرچہ یہ بات مسیحی حلقوں میں بہت زیادہ مقبول ہے لیکن "خُدا کا تجربہ" کرنے کا تصور واضح طور پر کلامِ مُقدس کے اندر نہیں پایا جاتا ۔ کلامِ مُقدس کے اندراِس حوالے سے بے شمار احکامات ہیں کہ ہم خُدا سے اپنا تعلق کس طرح قائم کریں لیکن اِس کاتجربہ کرنا اُ ن میں سے نہیں ہے۔ ہمیں کہا گیا ہے کہ ہم اپنے پورے دِل سے خُدا سے محبت رکھیں (اِستثنا 6باب5 آیت)، خُدا کی مکمل تابعداری کریں (استثنا 27باب10 آیت؛ 1 یوحنا 5باب2 آیت)، خُدا پر اعتقاد رکھیں (یوحنا 14باب1 آیت)، خدا کا خوف مانیں (غزل الغزلات 12باب13 آیت؛ 1 پطرس 2باب17 آیت)، وغیرہ ۔ لیکن بائبل کہیں پر بھی ہمیں یہ حکم نہیں دیتی ہے کہ ہم نے "خُدا کا تجربہ" کرنا ہے۔ لغت کے لحاظ سے تجربہ کرنے کی تعریف کچھ یوں کی گئی ہے ، (1)کسی چیز میں حصہ لینا یا اُس میں سے گزرنا، (2)کسی چیز سے جذباتی یا جمالیاتی طور پر تحریک پانا، (3) تجربے سے سیکھنا۔

تو پھر خُدا کا تجربہ کرنے سے کیا مُراد ہےاور ہم اِس کے حوالے سے کیا کریں گے؟ اگر ہم تجربے کی لغت کے مطابق تعریفوں سے شروع کریں ، اُنہیں اکٹھا کریں اور خُدا کے ساتھ اپنے تعلق پر اُن کا اطلاق کریں تو اِس کا مطلب "خُدا کی فطرت میں حصہ لینے، اُس سے جذباتی یا جمالیاتی طور پر تحریک پانے اور اُس کے ساتھ شناسائی کے بارے میں سیکھنے کے عمل تک پہنچنا ہے۔

اِس سے پہلے کہ ہم کسی بھی طرح سے خُدا کی ذات میں حصہ لیں ، ہمیں دو اندرونی تنازعات سے پوری طرح نمٹنا ہوگا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک ایسا گناہگار ہے جو گناہ کے ایک نا اُمید گڑھے کے اندر گرا ہوا ہے جہاں سے ہم کبھی بھی اپنی قوت سے بچ کر نکل نہیں سکتے (رومیوں 3باب12 آیت)۔ دوسری بات یہ کہ ہم اپنے طور پر کبھی بھی کوئی ایسا عمل نہیں کر سکتے جو قادرِ مطلق خُدا کے نزدیک قابلِ قبول ہو –نہ تو غریبوں کو اپنا روپیہ پیسہ دینا، نہ کسی ہسپتال میں رضاکارانہ طور پر کام کرنا ، نہ چرچ میں باقاعدگی سے جانا اور نہ ہی کوئی اور چیز (یسعیاہ 64باب6 آیت)۔ کلامِ مُقدس ہمیں بتاتا ہے کہ اِن تنازعات کو حل کرنے کے لیے ہمیں اپنے دِل میں یسوع کو اپنے خُداوند اور نجات دہندہ کے طور پر قبول کرنا ہوگا اور اپنی زندگیوں کو اُس کی طرف موڑنا ہوگا۔ تب ہی ہمارا کلام اور کام خُدا کی حضوری میں لے جانے کے قابل ہوگا (2 کرنتھیوں 12باب9-10 آیات)۔ پس خُدا کا تجربہ کرے کی پہلی کلید تو یہ ہے کہ ہم "خُدا کی الٰہی فطرت کا حصہ" بنیں (2 پطرس 1باب4 آیت) اور یہ صرف اور صرف یسوع مسیح کے ہمارے گناہوں کی خاطر صلیب پر بہائے ہوئے خون کے وسیلے سے ہی ممکن ہے۔

خُدا کی ذات کا تجربہ کرنے کا دوسرا حصہ اُس کی ذات کے ذریعے سے تحریک پانا ہے۔ انسانی رُوح کے اندر خُدا کی تحریک رُوح القدس کا ایک کام ہے۔ تخلیق کے آغاز میں ہی جب خُدا کا رُوح پانی کی سطح پر جنبش کر رہا تھا (پیدایش 1باب 2 آیت)، خُدا کا رُوح غیر ایمانداروں کے دِلوں میں بھی جنبش کرتا ہے اور خُدا کا رُوح ہمیں خُدا کے پاس کھینچنے میں مسلسل طو رپر سرگرمِ عمل ہے۔ ہم خُدا کی طرف سے ایمان لانے کے لیے کھینچے جانے کے وسیلے اُس کی طرف رجوع لاتے ہیں (یوحنا 6باب44 آیت)؛ خُدا کا رُوح ہمارے دِلوں میں جنبش کرتا ہے، ہمیں گناہوں کی وجہ سے مجرم قرار دیتا ہے او ر ہمارے دِلوں میں نجات دہندہ کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے (یوحنا 16باب7-9 آیات)۔ اور ایمانداروں کے اندر وہ رہنمائی کرتا، ہدایت دیتا، تسلی دیتا اور اُن پر اثر انداز ہوتا ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ اُن میں رُوح کے پھل بھی پیدا کرتا ہے (گلتیوں 5باب12-12 آیات)۔ اِس کے علاوہ رُوح القدس نے بائبل مُقدس کی 66 کتابوں کے مصنفین کو تحریک دی کہ وہ اپنے دِلوں اور ذہنوں میں ملنے والے خُدا کے الہام کو قلمبند کریں(2 پطرس 1باب21 آیت)، اور کلام کے ذریعے سے وہ ہمارے اندر جنبش کرتا ہے تاکہ وہ ہماری رُوحوں کو گواہی دے سکے کہ ہم اُس کے بچّے ہیں (رومیوں 8باب16 آیت)۔

خُدا کی ذات کا تجربہ کرنے کا تیسرا حصہ زندگی بھر خُدا کے بارے میں سیکھنے کا ایک عمل ہے، جس میں اُس کے ساتھ ایسا قریبی رشتہ بن جاتا ہے کہ ہم خوشی کے ساتھ اپنی پوری زندگیاں اُس کے تابع کر دیتے ہیں کیونکہ ہم نے اُسے جان لیا ہے اور اب اُس پر مکمل طور پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہاں پر اِس بات کو سمجھنا بھی شامل ہے کہ وہ ہر حال میں وفادار، بھلا، پاک، منصف، لا تبدیل، قادرِ مطلق اور خودمختار ہے۔ خُدا کا تجربہ کرنے کا ایک بہت ہی خوشی بھرا حصہ اُس کی محبت کا بڑے قریب سے تجربہ کرنا بھی ہے۔ بائبل مُقدس ہمیں بتاتی ہے کہ "خُدا محبت ہے " (1 یوحنا 4باب8 آیت)۔ جب ہم اُس کی محبت کا تجربہ کرتے ہیں تو ہم حالات سے قطع نظر دوسروں کے ساتھ اپنی مسیحی محبت کو بانٹنا شروع کر دیتے ہیں اور اِس کے نتیجے میں اور زیادہ محبت پیدا ہوتی ہے کیونکہ دوسرے ہمارے ذریعے سے اِس محبت کا تجربہ کرتے ہیں۔

تو پھر خُدا کا تجربہ کرنے کی کلید کسی "تجربے" یا جذباتی اُٹھان کی توقع کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ مسیح کے ذریعے خُدا کے ساتھ تعلق رکھنے کا زندگی بھر کا عمل ہے،اِس کے ساتھ ساتھ رُوح القدس سے تحریک پانا ہے جس کے ذریعے سے ہمیں پاک کیا گیا ہے اور ہم خُدا کی ذات کے علم میں بڑھ رہے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا کا تجربہ کرنے کی کلید کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries