settings icon
share icon
سوال

نظریہ وجودیت کیا ہے؟

جواب


نظریہ وجودیت فلسفے کا ایک باضابطہ نظام نہیں ہے کیونکہ یہ فلسفیانہ امور کاعمومی تعارف ہے ۔ بیسویں صدی کے ابتدائی اوائل میں یہ یورپ میں سب سے زیادہ مشہور نظریہ تھا ۔ یہ روشن خیالی کی طر ف انسان کی منطقی دلیل پر حد سے زیادہ اعتماد کے خلاف رد عمل تھا ۔ کچھ تصورات جنہوں نے اسے ممکنہ طور پر پُر کشش بنایا تھا ان میں کیر کیگارڈ کی یہ بصیر ت بھی شامل ہے کہ مسیحی ایمان کو عقلی دلائل کے مجموعہ کی شکل نہیں دی جا سکتی بلکہ یہ وسیع پیمانے پر جذبات اور نسبتی اشارات پر مشتمل ہے ۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پہلی جنگِ عظیم کی تباہی ، 1920 اور 1930 کی معاشی گراوٹ اور دوسری جنگ ِ عظیم کی تباہ کاریوں جیسے تاریخی واقعات نے جدید یت کی اس جھوٹی اُمید کی تشہیر کی کہ انسانی عقل تمام مسائل پر قابو پاسکتی ہے ۔

چنانچہ نظریہ وجودیت انسانی عقلی دلیل کی اہمیت کو کم کرتا ہے ۔ ایک منطقی اور با ترتیب کائنات میں نظریہ وجودیت کسی شخص کے مقام کے حوالے سے انفرادی اور اجتماعی اہمیت کے بارے میں مایوسی کا شکار ہے ۔ نظریہ وجودیت کے حامیوں کےلیے استدلالی ترتیب اپنے آپ میں ایک شبہ ہے ۔ لہذا معنی کی تلاش کے لیے منطقی وضاحت دوسری حکمتِ عملیوں کے سب سے بعد میں آتی ہے ۔ نظریہ وجودیت کےحامل کچھ لوگ معنی کو کسی شخص کی اُن کامیابیوں کے طور پر بیان کرتے ہیں جن میں وہ اپنے حالات سے آگے نکل جاتا ہے ۔ دیگر لوگ اسے اُن معنوں کے طور پر بیان کرتے ہیں جو انسانی تجربات کے بارےمیں دوسرے لوگوں سے تعلق قائم کرنے اور بات چیت کرنے کی صورت میں پیداہوتے ہیں ۔ لہذا اِس سب میں" موجود ہونے" کا احساس اس کا مرکز ی نقطہ ہے ۔ اس نظریے میں عقلی وضاحت کو ایک طرف رکھا جاتا ہے ۔

ایک مسیحی نظریہ وجودیت کے دعوؤں کے بارے میں کس طرح سے مناسب طور پر ردّعمل کر سکتا ہے ؟ ایک طرف ، ایک مسیحی اس بات پر متفق ہو سکتا ہے کہ نظریہ جدیدیت اس جھوٹی اُمید کا حامل ہے کہ انسانی عقل ہر چیلنج سے نمٹنے اور اس پر قابو پانے کی قابلیت رکھتی ہے ۔ بائبل کی تعلیمات کے مطابق بلا شبہ ایسی بہت سے باتیں ہیں جن پر صرف اور صرف خدا کے فضل کے وسیلہ سے ہی قابو پایا جاتا ہے جن میں انسانی گناہ کے مسائل اور بذات ِ خود موت شامل ہیں ۔ نیزمسیحی مانتے ہیں کہ ایسی بہت سی باتیں ہیں جن کو انسانی عقل دریافت نہیں کر سکتی اور وہ صرف اس صورت میں دریافت ہوتی ہیں جب خدا اُنہیں عیاں کرنا چا ہتا ہے۔ دوسری طرف ، ایک مسیحی نظریہ وجودیت کے نا امید ی کے جذبے سےمتفق نہیں ہے ۔ مسیحیت مستقبل کے دو پہلوؤں پر بہت زیادہ زور دیتی ہے پہلا ، مسیحیت آخری عدالت کی تصدیق کرتی ہے جس وقت تمام طرح کی خرابی ، بے ترتیبی اور شکستگی کو بالآخر درست کر دیا جائے گا کیونکہ کائنات سے تمام بُرائی کو ختم کرنے اور سب پر حکمرانی کرنے کےلیے مسیح آخری وقت میں واپس آئے گا ۔ دوسرا، مسیحیت اُن سب کےلیے مستقبل کی اُمید بھری حقیقت کی حتمی تصدیق کرتی ہے جو مسیح پر ایمان رکھتے ہیں یعنی مُردوں سے میں جی اُٹھنے کا تجربہ ، ابدی زندگی ، تقدیس کی حتمی تکمیل۔ یہ تمام علم خدا کے فضل سے آزادانہ طور پر دیا گیا ہے ۔ مستقبل کے ان دونوں پہلوؤں کے بارے میں بائبل کے بے شمار مختلف حوالہ جات کا ذکر کیا جا سکتا ہے ۔ یہاں اُن میں سے ایک کو پیش کیا جاتا ہے: رومیوں 6باب 23آیت" کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے مگر خُدا کی بخشش ہمارے خُداوند مسیح یسوع میں ہمیشہ کی زِندگی ہے۔"

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

نظریہ وجودیت کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries