settings icon
share icon
سوال

خُدا نے ساؤل بادشاہ کو ستانے کے لیے ایک بُری رُوح کیوں بھیجی تھی ؟

جواب


1 سموئیل 16باب 14آیت فرماتی ہےکہ "خُداوند کی رُوح ساؤل سے جُدا ہو گئی اور خُداوند کی طرف سے ایک بُری رُوح اُسے ستانے لگی"۔ اس بات کا ذکر 1سموئیل 16باب 15-16، 23آیت ؛ 18باب 10آیت اور 19باب 9آیت میں بھی ہے ۔ خدا نے ایک بری رُوح کو اجازت کیوں دی تھی کہ وہ ساؤل کو ستائے ؟ بُری رُوح کس طرح خداوند "کی طرف سے" تھی؟

پہلی بات ،بُری رُوح خداوند کی طرف سے تھی اس لیے کہ خدا نے اُسے ساؤل کو تنگ کرنے کی اجازت دی تھی ۔ حتمی طور پر تمام تخلیق کردہ چیزیں خدا کے اختیار میں ہیں ۔ غالباًیہ بُری رُوح ساؤل پر خدا کی نافرمانی کے باعث اُس کی عدالت کا حصہ تھی ۔ اُس نے دو مواقع پر براہ راست طور پر خدا کی نافرمانی کی تھی (1سموئیل 13باب 1-14آیات؛ 15باب 1-35آیات)۔لہذا خدا نے اپنی رُوح کو ساؤل سے جُدا کر لیا اور ایک بُری رُوح کو اُسے ستانے کی اجازت دی ۔ ممکنہ طور پر شیطان اور بداَرواح ہمیشہ ساؤل پر حملہ کرنا چاہتے تھے اور اب خدا اُنہیں محض ایسا کرنے کی اجازت دے رہا تھا ۔

دوسری بات ، بُری رُوح کو اس لیے استعمال کیا گیا تھا کہ داؤد کو ساؤل کی زندگی میں لایا جائے ۔ اس بیان کو داؤد کےمستقبل میں اسرائیل کے بادشاہ کے طور پر مسّح کئے جانے کے فوراً بعد قلم بند کیا جاتا ہے ۔ قاری اس بات پر حیران ہو رہا ہو گا کہ ایک چرواہا لڑکا بادشاہ کیسے بنے گا ۔ 1سموئیل 16باب اس سفر کے پہلے قدم کو ظاہر کرتا ہے ۔ جب بادشاہ کے ملازموں نےاُس تکلیف کو دیکھا جس میں سے ساؤل گزر رہا تھا تو اُنہوں نے ساؤل کو مشورہ دیا کہ "دیکھ اب ایک بُری رُوح خُدا کی طرف سے تجھے ستاتی ہے۔ سو ہمارا مالِک اب اپنے خادِموں کو جو اُس کے سامنے ہیں حکم دے کہ وہ ایک اَیسے شخص کو تلاش کر لائیں جو بربط بجانے میں اُستاد ہو اور جب جب خُدا کی طرف سے یہ بُری رُوح تجھ پر چڑھے وہ اپنے ہاتھ سے بجائے اور تُو بحال ہو جائے " (1سموئیل 16باب 15-16آیات)۔

بادشاہ کے خادموں میں سے ایک نے دیگر صلاحیتوں کےساتھ ساتھ داؤد کو بربط بجانے میں ایک ماہر نوجوان(18آیت) کے طور پر بیان کرتے ہوئے بادشاہ کو اس کے بارے میں بتایا ۔ ساؤ ل نے داؤد کو بُلانے کے لیے قاصد بھیجے اور اُس کے آنے سے ساؤل کو بہت راحت ملی : " داؤُد ساؤل کے پاس آ کر اُس کے سامنے کھڑا ہوا اور ساؤل اُس سے مُحبّت کرنے لگا اور وہ اُس کا سِلاح بردار ہو گیا۔ اور ساؤل نے یسّی کو کہلا بھیجا کہ داؤُد کو میرے حضُور رہنے دے کیونکہ وہ میرا منظورِ نظر ہوا ہے۔ سو جب وہ بُری رُوح خُدا کی طرف سے ساؤل پر چڑھتی تھی تو داؤُد بربط لے کر ہاتھ سے بجاتا تھا اور ساؤُل کو راحت ہوتی اور وہ بحال ہو جاتا تھا اور وہ بُری رُوح اُس پر سے اُتر جاتی تھی "( 1سموئیل 16باب 21-23آیات)۔

اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ ساؤل کو ستانے والی بُری رُوح محض عارضی طور پر نہیں آتی تھی ۔آخری آیت واضح کرتی ہے کہ بُری روح نے کئی بار ساؤل کو ستایا تھا لیکن وہ اُس سے اتُر بھی جاتی تھی ۔

اس سے متعلقہ ایک سوال یہ ہے کہ کیا خدا لوگوں کو ستانے کے لیے آج بھی بُری رُوح بھیجتا ہے؟ نئے عہد نامے میں ایسے لوگوں کی مثالیں موجود ہیں جنہیں سزا کے لیے شیطان یا بدرُوحوں کے حوالے کر دیا گیا تھا ۔ابتدائی کلیسیا کے لیے ایک انتباہ اور نمونے کے طور پر خدا نے حننیاہ اور سفیرہ کو شیطان کی رُوح سے بھرپور ہو نے دیا ( اعمال 5باب 1-11آیت)۔ کرنتھس کی کلیسیا میں ایک شخص بدکاری اور زنا کا ری کا مرتکب ہو رہا تھا اور خدا نے اُس کی گناہ آلودہ فطرت کی مکمل تباہی اور اُس کی جان بچانے کےلیے کلیسیائی قائدین کوحکم دیا کہ اُسے " شیطان کے حوالے کیا جائے " (1 کرنتھیوں 5باب 1-5آیات)۔ خدا نے پولس کو اپنے فضل اور قوت پر انحصار کرنا سکھانے اور اُسے دی جانے والی رُوحانی سچائی کی زبردست کثرت کی وجہ سے مغرور ہونے سے بچانے کے لیے شیطان کے ایک قاصد کو اجازت دی کہ وہ پولس رسول کی تکلیف کا باعث ہو (2کرنتھیوں 12باب 7 آیت)۔

نیا عہد نامہ عیاں کرتا ہے کہ خدا کس طرح بد اَرواح کی موجودگی کو اپنی قوت کے ظہور کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ یسوع نے متعدد مواقع پر بد اَرواح پر اپنی قوت ظاہر کی تھی اور یسوع جب بھی کسی بدرُوح کو نکالتا تو اُس سے خداوند کے اختیار کی تصدیق ہوتی تھی ۔ یسوع کی طرف سے اُن بدرُوحوں کو نکالنے کا بیان ، جو سُوروں کے غول میں داخل ہو گئیں تھی ، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہاں غالباً 2000 بد رُوحیں موجود تھیں مگر سب مسیح کی قوت سے خوفزدہ تھیں ( مرقس 5باب 1-13آیات)۔

اگر خدا آج بھی لوگوں کو ستانے کے لیے بد اَرواح کو اجازت دیتا ہے تو وہ ہماری بھلائی اور اپنے جلال کوظاہر کرنے کے مقصد کی خاطر ایسا کرتا ہے (رومیوں8باب 28آیت)۔ اور جیسا کہ ایوب کے معاملہ میں واضح ہے شیطان اور اُس کی بدرُوحیں صرف وہی کچھ کر سکتے ہیں جو خدا اُنہیں کرنے کی اجازت دیتا ہے (ایوب1باب 12آیت؛ 2باب 6آیت)۔ وہ کبھی بھی خدا کی خود مختار اور کامل مرضی اور مقصد کے برعکس آزادانہ طور پر کام نہیں کرتے ہیں۔ اگرایماندار وں کو شبہ ہوتا ہے کہ انہیں شیطانی قوتوں کی طرف سے تنگ کیا جا رہا ہے تو اُن کا پہلا رَد عمل یہ ہونا چاہیے کہ اپنی زندگی میں اُن گناہوں سے توبہ کریں جن کے بارے میں وہ جانتے ہیں۔ پھر اُنہیں اس بات کو سمجھنے کی خاطر ہمیں حکمت کے لیے التجا کرنی چاہیے کہ اِن حالات سے ہمیں کیا سیکھنا ہے۔ اس کے بعد ہمیں اُن تمام باتوں کو جو خدا ہماری زندگیوں میں ہونے دیتا ہے اِس ایمان کے ساتھ خدا کے تابع کرنا چاہیے کہ یہ ہمارے ایمان کی ترقی اور خدا کے جلال کا باعث ہو ں گی۔

شیطانی طاقتیں خدا کی قوت کا مقابلے کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔ جیسا کہ افسیوں 6باب 10-12آیات فرماتی ہیں کہ "غرض خُداوند میں اور اُس کی قُدرت کے زور میں مضبوط بنو۔ خُدا کے سب ہتھیار باندھ لو تاکہ تم اِبلیس کے منصوبوں کے مقابلہ میں قائم رہ سکو۔ کیونکہ ہمیں خُون اور گوشت سے کشتی نہیں کرنا ہے بلکہ حکُومت والوں اور اِختیار والوں اور اِس دُنیا کی تارِیکی کے حاکموں اور شرارت کی اُن رُوحانی فَوجوں سے جو آسمانی مقاموں میں ہیں"۔



English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا نے ساؤل بادشاہ کو ستانے کے لیے ایک بُری رُوح کیوں بھیجی تھی ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries