settings icon
share icon
سوال

پُر حکمت ڈیزائن کے لیے بہترین دلیل یا ثبوت کیا ہے؟

جواب


جدید سائنسی تحقیق نے حیاتیات سے لے کر فلکیات تک اورطبیعات سے کر لے علم ِ تخلیقِ کائنات تک مختلف شعبوں میں پُر حکمت نمونہ سازی /ڈیزائن کےلیے چونکا دینے والے شواہد ظاہر کئے ہیں ۔ اس مضمون کا مقصد کچھ اہم دلائل کا خلاصہ پیش کرنا ہے ۔

پُر حکمت نمونہ سازی یا ڈیزائن کےلیے بہترین ثبوت / دلیل کیاہے ؟– علم حیاتیا ت کی رُوسے

حالیہ برسوں میں ولیم ڈیمبسکی نے ایک ایسی حکمت ِ عملی دریافت کی ہے جسے " وضاحتی فلٹر" (explanatory filter)کے طور پر جانا جاتا ہے ایک ایسا طریقہ جس کے ذریعے سے مخصوص جانداروں میں موجود فطرتی مظاہر سے ڈیزائن کاا ندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ یہ فلٹر ہاں / نہیں پر مشتمل تین سوالات کے تسلسل پر قائم ہوتا ہے جو اس بات کا تعین کرنے کے عمل میں رہنمائی کرتا ہے کہ زیرِ غور مظہر کو پُر حکمت سبب اوّل سے منسوب کیا جا سکتا ہے یا نہیں ۔ اس فلٹر کی بنیاد پر اگر کوئی واقعہ ، نظام یا کوئی چیز کسی طرح کی ذہانت کی پیداوار ہے تو یہ :

1) مشروط/امکانی ہو گی

2) پیچیدہ ہوگی

3) آزادانہ طور پر مخصوص نمونے کا مظاہرہ کرے گی ۔

چنانچہ اس بات کی یقین دہائی کے لیے کہ زیرِ غورمظہرپُر حکمت ڈیزائن کی تخلیق ہے یہ ضروری ہے کہ وہ چیز فطرت کے اصولوں سے پیدا نہ ہوئی ہو اور نہ ہی کسی اچانک اتفاق کا نتیجہ ہو۔ ڈیمبسکی کے مطابق وضاحتی فلٹر پُر حکمت طریقے سے ڈیزائن کردہ نظاموں کی سب سے اہم خوبی یعنی مخصوص پیچیدگی پر روشنی ڈالتا ہے ۔ دوسرے الفاظ میں صرف پیچیدگی ہی پُر حکمت نمائندے کے کام کی نشاندہی کرنے کےلیے کافی نہیں ہے بلکہ اسے آزادانہ طور پر مخصوص نمونے کے مطابق بھی ہونا چاہیے ۔

زندہ خلیوں میں قدرتی طور پر موجود عددی معلومات کی دریافت حیاتیات کے شعبے میں ڈیزائن کے لیے سب سے زبردست ثبوتوں میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ ظاہر ہوتا ہے کہ حیاتیاتی معلومات ایک پیچیدہ اور نہ دہرائے جانے والے تسلسل پر مشتمل ہوتی ہے جو کہ اُن افعال اور مواصلاتی تقاضوں کے لحاظ سے انتہائی مخصوص ہوتی ہے جسے یہ سرانجام دیتی ہیں ۔ ایسی مماثلت ڈوکنز کے مشاہد ے کی جزوی طور پر وضاحت کرتی ہےکہ " جینز کا مشینی کوڈ پُراسرار طور پر کمپیوٹر کی مانند ہے ۔"پس ہمیں اس معلوماتی سافٹ وئیر-جو کہ مسلمہ طور پر شعوری ذہانت کی تخلیق ہے – اور ڈی این اے اور دوسرے اہم حیاتیاتی مالیکیول میں پائے جانے والے معلوماتی تسلسل کے مابین مماثلت کی کیا وضاحت کرنی چاہیے ؟

پُر حکمت نمونہ سازی یا ڈیزائن کےلیے بہترین ثبوت / دلیل کیاہے ؟ – علمِ طبیعیات کی رُوسے

طبیعیات کے شعبے میں کائنات کی فائن ٹیوننگ ( قدرتی قوانین کے یکساں اور ہم آہنگ طور پر مروج ہونے) کا تصور ڈیزائن کے استدلال کو مزید تقویت فراہم کرتا ہے ۔ کائنات کی فائن ٹیوننگ کا تصور ہمار ی کائنات کی ایک انوکھی صفت سے متعلق ہے جس کے تحت پیچیدہ زندگی کے ظہور کو ممکن بنانے کےلیے طبعی مستقلات اور قوانین کے توازن کےلیے " نہایت باریکی " سے پیروی کی جاتی ہے ۔ طبیعیات کے مستقلات کو جس قدر عین معیار کے مطابق ہم آہنگ ہونا چاہیے وہ ایسے عمدگی سے ہم آہنگ ہیں کہ ملحدین سائنسدانوں کی ایک بڑی تعداد نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بلاشبہ کائناتی حلقہ اثر کے پیچھے ایک ایسا مقصد پایا جاتا ہے جو انسانی حواس سے پرے یا بالاہے ۔برطانوی فلکی طبیعیات دان فریڈ ہوئیل نے لکھا ہے کہ " حقائق کی ایک عام فہم تشریح اس بات کی تجویز پیش کرتی ہے کہ ایک نہایت اعلیٰ ذہن ( ہستی) نے کیمیاء اور حیاتیات کے ساتھ ساتھ طبیعیات کے ساتھ بھی چھیڑچھاڑ کی ہے اور یہ بھی کہ فطرت میں کوئی قابلِ ذکر اندھی قوتیں نہیں ہیں۔ کوئی شخص ان حقائق کے حساب سے جو اعداد شمار حاصل کرتا ہے وہ مجھے اتنے زبردست لگتے ہیں کہ وہ اس نتیجے کو تقریباً مستقل بنا دیتے ہیں "

کائنات جس حساب سے پھیل رہی ہے یہ فائن ٹیوننگ کی ایک مثال ہے ۔ اس شرح کو 1055 میں ایک حصہ کی درستگی کی حد تک عمدہ طور پر متوازن ہونا چاہیے ۔ اگر کائنات بڑی تیزی سے پھیلتی تو مادہ نے بھی بہت ہی تیزی کے ساتھ پھیل جانا تھا اور اُس صورت میں ستاروں ، سیاروں اور کہکشاؤں کی تشکیل کا کام ناممکن ہونا تھا۔ اگر کائنات بہت آہستہ آہستہ پھیلتی تو کائنات نے ستاروں کی تشکیل سے پہلےہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جانا تھا۔

اس کے علاوہ برقی مقناطیسی قوت اور کشش ثقل کا تناسب 1 نسبت 1040 کے حساب سے نہایت باریکی سے متوازن ہونا چاہیے ۔ اگر اس کمیت میں تھوڑا سا بھی اضافہ کیا جاتا ہے تو تمام ستارے ہمارے سورج کے مقابلے میں کم از کم 40 فیصد بڑے ہوجاتے ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ ستاروں کا جلنا پیچیدہ زندگی کو تقویت دینے کےلیے بہت مختصر اور غیر یکساں ہونا تھا ۔ اگر اس کمیت میں تھوڑی سی بھی کمی کی جاتی تو یہ تمام ستارے سورج کے مقابلے میں کم از کم 20 فیصد کم بڑے ہوتے۔ اس بات کے پیشِ نظر اُنہوں نے زندگی کو برقرار رکھنے کےلیے ضروری بھاری عناصر کو پیدا کرنے سے قاصر رہ جانا تھا ۔

پُر حکمت نمونہ سازی یا ڈیزائن کےلیے بہترین ثبوت / دلیل کیاہے ؟- علمِ فلکیات کی رُو سے

علم ِ فلکیات کے میدان میں جدید دریافتوں کے ساتھ کائنات کے ایک حتمی آغاز کا تصور تقریبا سوال سے باہر ہے۔ دلیلِ کلام میں کہا گیا ہے کہ:

1) اِس کائنات میں جو کچھ بھی موجود ہے اُسکی کوئی نہ کوئی ابتدا ضرور ہوتی ہے اور کسی بھی چیز کی ابتدا کا کوئی نہ کوئی بیرونی سبب ہوتا ہے ۔

2) کائنات موجو ہے اِس لیے اِس کی بھی کوئی نہ کوئی ابتدا ضرور تھی ۔

3) پس چونکہ کائنات موجود ہے اور اِسکی کوئی نہ کوئی ابتدا بھی تھی لہذا اُس ابتدا کا کوئی نہ کوئی بیرونی سبب بھی ضرور ہوگا۔

پس اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلاء کی چاروں سمتوں اور وقت کی قید سے باہر ایک ایسا سبب اوّل موجود ہے جس کے وجود کا کوئی سبب نہیں ہے جو خلا ، مادے اور یہاں تک کہ خود وقت کو دانستہ طور پر وجود میں لانے کی قابلیت کے حصول کےلیے ابدی ، شخصی اور عقلی خوبیوں کا حامل ہے ۔

پُر حکمت نمونہ سازی یا ڈیزائن کےلیے بہترین ثبوت / دلیل کیاہے ؟–نتیجہ

یہ مضمون ڈیزائن استدلال میں شامل کچھ اہم عناصر کا محض ایک مختصر جائزہ ہے۔ اس کا مقصد علم ِحیاتیات ، طبیعیات اور فلکیات سمیت مختلف شعبوں سے پُر حکمت ڈیزائن کے لیے وسیع پیمانے پر حمایت کی تصدیق کرنا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

پُر حکمت ڈیزائن کے لیے بہترین دلیل یا ثبوت کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries