settings icon
share icon
سوال

یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ جب ہم مریں گے تو ہم ابدی زندگی حاصل کریں گے؟

جواب


خُدا کا کلام ہمیں یقین دلاتا ہے کہ وہ سب جو خُداوند یسوع مسیح پر ایمان رکھتے ہیں ابدی زندگی کے وارث ہونگے(یوحنا 3باب16 آیت؛ 6باب47 آیت؛ 1 یوحنا 5باب13 آیت)۔ جس یونانی لفظ کا ترجمہ" ابدی "کیا گیا ہے اُس کے معنی ہیں "دائمی، ہمیشہ تک رہنے والی، لازوال"۔ غالباً لفظ دائمی بائبل میں بیان کردہ ابدی زندگی کی بہترین وضاحت کرتا ہے؛ یہ وہ زندگی ہے جو ایک بار شروع ہونے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جاری رہتی ہے۔ یہ چیز اِس تصور کو بیان کرتی ہے کہ انسان کی زندگی محض جسمانی نہیں ہے۔ بلکہ انسان کی حقیقی زندگی تو رُوحانی ہے اور جب جسمانی زندگی ختم ہوتی ہے تو پھر رُوحانی زندگی ہمیشہ تک کے لیے جاری رہتی ہے۔ یہ دائمی ہے۔ یہ لازوال زندگی ہے۔

جب خُدا نے آدم اور حوّا کو پیدا کیا تو اُس نے اُنہیں باغِ عدن کے اندر زندگی کے درخت کے ساتھ رکھا ، خُدا کا ارادہ تھا کہ وہ جسمانی اور رُوحانی طور پر ہمیشہ خوشی میں زندہ رہیں لیکن اُنہوں نے گناہ کیا اور جسمانی اور رُوحانی موت کو اپنے اور اپنے بعد کی نسلوں تک پہنچایا (رومیوں 5باب12-14 آیات)۔ خُدا نے پھر آدم اور حوّا کو باغِ عدن میں سے باہر نکال دیا اور زندگی کے درخت کی راہ کی حفاظت پر کروبیوں کو معمور کر دیا۔ اُس نے ایسا انسان کے لیے اپنے رحم کی بدولت کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ انسان گناہ کے بوجھ تلے ہمیشہ تک ہی زندہ رہے۔ لیکن گناہ کی عدالت ہونا لازمی ہے اور جو گناہ ابدی خُدا کے خلاف کیا گیا ہے اُس کی سزابھی ابدی ہی ہوگی۔ تاہم ہمارے مہربان خُدا نے اپنے پیارے بیٹے کو ایک بہترین قربانی کے طور پر بھیجا تاکہ وہ ایک ہی بار انسانوں کے لیے مقرر سزا کو اپنے اوپر لے لے، اور یوں وہ ہر ایمان لانے والے کو ابدی زندگی کے درخت تک رسائی کی راہ فراہم کرے (1 یوحنا 5باب12 آیت؛ مکاشفہ 22باب14 آیت)۔

‏ہم اپنی کوششوں یعنی جسم کے اعتبار سے مر کر اور خُداوند یسوع مسیح کو اپنے دِلوں میں اپنے خُداوند اور شخصی نجات دہندہ کے طور پر قبول کر کے ابدی زندگی حاصل کرتے ہیں۔ جب ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم فوری طور پر نئے سرے سے پیدا ہوتے ہیں اور مسیح میں ابدیت تک کے لیے زندہ کئے جاتے ہیں۔ ہم شاید اپنے اندر کسی فوری تبدیلی کو محسوس نہ کریں لیکن حقیقت میں ہمارےدِلوں میں نئی پیدایش ہو چکی ہے (یوحنا 3باب6-7 آیات)، اور اب ہم موت کے خوف سے آزاد ہیں؛ اب ہمارے پاس خُدا کا یہ وعدہ موجود ہے کہ ہم کبھی بھی رُوحانی طور پر نہیں مریں گے، بلکہ اِس کے برعکس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے خُداوند یسوع مسیح کے ساتھ زندہ رہیں گے(1 تھسلنیکیوں 5باب9-10 آیات)۔ بعد میں جب ہم جسمانی طو پر مریں گے تو ہماری رُوحیں فوری طور پر خُداوند کے پاس چلی جائیں گی، اور پھر بعد میں جب وہ دوبارہ آئے گا تو وہ ہمارے بدنوں کو زندہ کرے گا تاکہ ہم ہوا میں اُس کا استقبال کریں۔ اور وہ مسیحی جو اُس کی آمدِ ثانی کے وقت زندہ ہونگے، اُن کے بدن "ایک دَم میں ۔ ایک پَل میں "تبدیل ہو جائیں گےاور وہ جسمانی موت کا تجربہ نہیں کریں گے (1 کرنتھیوں 15باب51-52 آیات)

خُداوند یسوع اپنے شاگرد یوحنا رسول کو ہدایت کی کہ وہ ایک آخری کتاب یعنی مکاشفہ کی کتاب کو قلمبند کرے اور ہم اُس کتاب کے اندر ایک بار پھر زندگی کے درخت کے بارے میں پڑھتے ہیں "جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے درخت میں سے جو خُدا کے فردوس میں ہے پھل کھانے کو دُوں گا " (مکاشفہ 2باب7 آیت)۔

یہ مسیح کی ذات ہی ہے جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں، اور یہ خُدا کی قدرت ہے جس پر ہم اپنی ابدی زندگی کے لیے بھروسہ کرتے ہیں (1پطرس 1باب3-5 آیات)۔ ایک ہی سچے اور پاک خُدا نے ہر ایک چیز کو پیدا کیااور وہی موت اور نئے سرے سے پیدا ہونے پر اختیار رکھتا ہے۔ ہمارا خُدا قادرِ مطلق ہےاور فضل اور سچائی سے بھرا ہوا ہے(یوحنا 1باب14 آیت)، اور وہ چاہتا ہے کہ ہم اِس بات کو جان لیں کہ ہماری ابدی حالت جس کا خُدا نے تعین کیا ہے یقینی ہے : خُداوند یسوع نے کہا ہے کہ "قیامت اور زِندگی تو مَیں ہُوں ۔ جو مجھ پر اِیمان لاتا ہے گو وہ مَر جائے تَو بھی زِندہ رہے گا " (یوحنا 11 باب 25 آیت) ۔کیا آپ کو خُدا میں ابدی زندگی حاصل ہے؟

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ جب ہم مریں گے تو ہم ابدی زندگی حاصل کریں گے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries