settings icon
share icon
سوال

کیا مسیحیوں کو دہریوں کے سامنے انجیل کی بشارت کی منادی کرنی چاہیے؟

جواب


بحیثیت مسیحی ہم جو خدا کی محبت سے واقف اور آسمان پر ابدیت کی یقین دہانی رکھتے ہیں ہمارے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کوئی شخص دہریہ کیوں ہونا چاہے گا ۔ لیکن جب ہمیں گناہ آلودہ فطرت اور اس فطرت کے ذہن اور دل پر شدید اثر کا ادراک ہو جاتا ہے تو ہمیں سمجھ آنے لگتی ہے کہ دہریہ کہا ں سے جنم لیتا ہے ۔ بائبلی لحاظ سے بات کی جائے تو ملحد یا دہریے جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ 19زبور 1-2آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ آسمان خدا کاجلال ظاہر کرتا ہے ۔ اُس کی تخلیقی قوت کو ہم اُس کے سبھی کاموں میں دیکھتے ہیں ۔ اس نظریے کی پیروی کرتے ہوئے رومیوں 1باب 19-20 آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ خدا کے بارے میں جو کچھ معلوم ہو سکتا ہے وہ تخلیق کے وسیلہ سے ہم پر واضح کر دیا گیا ہے اور کوئی بھی شخص جو اس حقیقت کی تردید کرتا ہے وہ " حق کو نا راستی سے دبائے " رکھتا ہے ( 18آیت)۔ 14زبور 1آیت اور 53زبور 1آیت بیان کرتی ہیں کہ خدا کی موجودگی سے انکار کرنے والے احمق ہیں۔ پس یا تو دہریہ جھوٹ بولتا ہے، یا احمق ہے، اور یا پھر یہ دونوں ہی ہے۔پس وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے کوئی شخص خدا کی ذات سے انکار کرتاہے ؟

گناہ آلودہ فطرت کے ماتحت شخص کا بنیادی مقصد خود کو خدا بنانا، اپنی زندگی پر مکمل اختیار رکھنا یا وہ سب کچھ کرنا ہے جووہ سوچتا ہے ۔کوئی بھی مذہب فرائض ، عدالت اور پابندیوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ دہریےچیزوں/باتوں کے معنی اور اخلاقیات کی اپنے طور پر وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ خدا کی تابعداری نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اُن کے دل "خدا سے دشمنی " رکھتے ہیں اور وہ خدا کی شریعت کے ماتحت رہنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے ۔ درحقیقت وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ اُن کے گناہ نے اُنہیں سچائی کے بارےمیں اندھا کر دیا ہے ( رومیوں 8باب 6-7آیات)۔ یہی وجہ ہے ملحد ین/دہریے اپنا زیادہ تر وقت شکایات کرنے اور کلام ِ مقدس کے متن کے شواہد کے بارے میں بحث کرنے کی بجائے اپنا وقت اِن باتوں کے بارے میں بحث کرنے میں صرف کرتے ہیں کہ "کون سےکام کئے جائیں اور کون سے نہیں۔" اُن کی فطری سرکشی خدا کے احکام سے نفرت رکھتی ہے ۔ وہ محض اس تصور سے نفرت کرتے ہیں کہ اُنہیں کسی چیز یا شخصیت کے ماتحت ہونا چاہیے ۔ اُنہیں جس بات کا احساس نہیں ہوتا وہ یہ ہے کہ خود شیطان نے اُن کو قابو کر رکھا ہے وہ اُنہیں اندھا بنا رہا اور ان کی زندگیوں کو جہنم کے عذاب کےلیے تیار کر رہا ہے ۔

ملحدین/دہریوں کو انجیل کا پیغام سُنانے کے معاملے میں ہمیں کسی شخص سے انجیل کے پیغام کو محض اس وجہ سے باز نہیں رکھنا چاہیے کہ وہ دہریہ ہونے کا دعویٰ کرتی یا کرتا ہے ۔ اس بات کو مت بھولیں کہ ایک ملحد/دہریہ بھی دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی طرح نجات سے محروم ہے ۔ یقیناً خدا چاہتا ہے کہ ہم انجیل کو پھیلائیں ( متی 28باب 19آیت ) اور اُس کےکلام کی سچائی کا دفاع کریں ( رومیوں 1باب 16آیت)۔ دوسری طرف ہم اس بات کے بھی پابند نہیں ہیں کہ ہم غیر رضامند لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش میں اپنا وقت ضائع کریں ۔ درحقیقت ہمیں اُن لوگوں کے بارےمیں ضرورت سے زیادہ کوشش نہ کرنے کی نصیحت کی جاتی ہے جو ایمانداری سے بات چیت کرنے کے لیے عدم دلچسپی کا واضح اظہار کرتے ہیں ( متی 7باب 6آیت)۔ یسوع نے شاگردوں کو فرمایا تھا کہ وہ جا کر کلام کی منادی کریں مگر یسوع اُن سے یہ نہیں چاہتا تھا وہ کسی بھی جگہ اُس وقت تک ٹھہرے رہیں جب تک وہاں موجود ہر شخص مسیح کو قبول نہیں کرلیتا ( متی 10باب 14آیت)۔

اس سلسلے میں شاید بہتر حکمتِ عملی یہ ہے کہ ہر شخص کو کم از کم ایک بار اپنی بات سنانے کا موقع دیا جائے ۔اُس کے ہر سوال کا دیانتداری اور سچائی کے ساتھ جواب دینا اُسے یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ انجیل کو سنے۔ لیکن اگر وہ شخص صرف بحث کرتا ، مخالفانہ رویہ اختیار کرتا یا بصورت دیگر آپ کی نہیں سُنتا تو آپ کےلیے وہاں سے کسی اور جگہ چلے جانا زیادہ بہتر ہے ۔ کچھ لوگوں کے دل انجیل کے بارےمیں کُلی اور قطعی طور پر سخت ہوتے ہیں ( امثال 29باب 1آیت)۔ یہ لوگ ذی شعور یا غیر ذی شعور ہو سکتے ہیں لیکن اس بات پر یقین کرنے کےلیے بائبلی وجوہات موجودہیں کہ کچھ لوگ دانستہ طور رُوح القدس کے اثر کی مخالف کرتے ہیں ( پیدایش 6باب 3آیت)۔ جب ہم نیک نیتی کےساتھ کسی سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ مناسب ردّ عمل نہیں ظاہر کرتا ہے تو ہمیں اپنے پاؤں کی "گردجھاڑ" کر وہاں سے چلے جانے ( لوقا 9باب 5آیت) اورپھر ایسے لوگو ں ساتھ بات چیت میں وقت گزرنے کا حکم ہے جو رُوحانی طور پر زیادہ تیار ہیں ۔ ان تمام معاملات میں خدا کی حکمت انتہائی اہم ہے ۔اگر ہم خدا سے مانگیں تو اُس نے ہمیں حکمت بخشنے کا وعدہ کیا ہے ( یعقوب1 باب 5آیت) اور ہمیں خدا سے اس حکمت کےلیے دعا کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو جاننے کے لیے بھی خدا کی تحریک پر بھروسہ کرنا چاہیے کہ کسی سخت رویے کے حامل دہریے کے ساتھ بات چیت کو کیسے اور کب ختم کیا جائے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا مسیحیوں کو دہریوں کے سامنے انجیل کی بشارت کی منادی کرنی چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries