settings icon
share icon
سوال

صرف اِس زندگی کے گناہوں کی وجہ سے پوری ابدیت جہنم میں پڑناکس طرح انصاف پرمبنی سزا ہے ؟

جواب


بائبل بیان کرتی ہے کہ جہنم ابدی ہے (متی 25باب46 آیت)۔ بہت سارے لوگ اِس کے حوالے سے انصاف کی وجہ سے کشمکش کا شکار ہیں۔ وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ جس شخص نے صرف 70، 80، 90 یا حتیٰ کہ 100 سال تک ہی گناہ کیے ہوں اُسے خُدا کی طرف سے ہمیشہ کے لیے سزا کا دیا جانا کس طرح سے انصاف پر مبنی ہے۔ ایک گناہگار کی محدود عمر ایک لامحدود طور پر طویل سزا کی حقدار کیسے بنتی ہے؟

بائبل کے دو اہم اصول ہیں جو واضح طور پر اعلان کرتے ہیں کہ اِس بات سے قطع نظر کہ کسی شخص نے اِس زمین پر کتنی زندگی گزاری تھی جہنم میں ابدی عذاب گناہ کی بالکل درست اور انصاف پر مبنی سزا ہے۔

سب سے پہلے تو بائبل یہ اعلان کرتی ہے کہ تمام کا تمام گناہ بالآخر خُدا کے خلاف ہے (51 زبور 4 آیت)۔ سزا کی حد کا انحصار کسی حدتک اُس ذات پر ہے جس کے خلاف گناہ یا جرم کیا گیا ہو۔ انسانی عدالت میں کسی فرد کے خلاف جسمانی حملے کے نتیجے میں مجرم کو عام طور پر جرمانہ اور ممکنہ طور پر کچھ مدت کے لیے قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔ اِس کے برعکس کسی ملک کے صدریا وزیرِ اعظم کے خلاف جسمانی حملے کے نتیجے میں ممکنہ طور پر زندگی بھر کی قید کی سزا سنائی جاتی ہے، باوجود اِس حقیقت کے کہ یہ جرم ایک ہی بار کیا گیا تھا نہ کہ مسلسل طور پر۔ خُدا کسی بھی انسان سے لامحدود طور پر بڑا اور اعلیٰ و ارفع ہے۔ اِس حقیقت کی روشنی میں کہ ہمارے گناہ خُدا کے خلاف ہیں (رومیوں 6باب23 آیت)ہمارے گناہ کس قدر بڑی سزا کے مستحق ہیں؟

دوسرا خیا ل یہ ہے کہ بائبل میں یہ نہیں سکھایا گیا کہ ہم موت کے بعد گناہ کرنا بند کر دیں گے۔ کیا وہ سب لوگ جو جہنم میں جاتے ہیں یکدم گناہ سے پاک اور کامل ہو جاتے ہیں؟ نہیں!وہ جو یسوع مسیح کے بغیر ابدیت میں جاتے ہیں اُنکی ناراستی اُن کی ابدی ذات کا حصہ بنا دی جائے گی۔ سخت دِل ابدی طور پر سخت دِل ہی ہونگے۔ جہنم میں "رونا اور دانت پیسنا" ہوگا (متی 25باب30 آیت) لیکن وہاں پر توبہ نہ ہوگی۔ جہنم میں گناہگاروں کو اُن کی فطرت پر چھوڑ دیا جائے گا اور وہ ہمیشہ کے لیے گناہ آلود، بد، غیر اخلاقی، ابدیت تک کے لیے بگڑے ہوئے، ہمیشہ تک کے لیے غیر نجات یافتہ اور ناراست ٹھہرائے ہوئے رہیں گے۔ آگ کی جھیل خُدا کے خلاف ابدی بغاوت کا مقام ہوگا، حتیٰ کہ اُس بغاوت کی عدالت بھی کی جا رہی ہوگی (مکاشفہ 20 باب14-15 آیات ؛ بالموازنہ مکاشفہ 16باب9، 11 آیات)۔ غیر نجات یافتہ لوگ صرف 70، 80، 90 یا 100 سالوں تک ہی گناہ نہیں کرتے، وہ ساری ابدیت ہی گناہ میں رہتے ہیں۔

اِس سب کا حاصلِ بحث یہ ہے کہ – اگر کوئی شخص خُدا سے ساری ابدیت تک کے لیے جُدا ہونا چاہتا ہےتو خُدا اُس کی اِس خواہش کو پورا کر دے گا۔ ایماندار وہ ہیں جو خُدا سے کہتے ہیں کہ "تیری مرضی پوری ہو۔" غیر ایماندار وہ ہیں جنہیں خُدا کہتا ہے کہ "تمہاری ہی مرضی پوری ہو۔"غیرنجات یافتہ لوگوں کی مرضی یہ ہے کہ وہ مسیح کے وسیلے نجات کو رَد کریں اور اپنے گناہ میں ہی رہیں؛ خُدا اُن کی مرضی اور فیصلے کا احترام کرے گا اور اُنہیں ابدیت تک اُس فیصلے کے نتائج کو بھگتنا پڑے گا۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

صرف اِس زندگی کے گناہوں کی وجہ سے پوری ابدیت جہنم میں پڑناکس طرح انصاف پرمبنی سزا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries