settings icon
share icon
سوال

ایمانداروں کی ابدی حالت کیا ہے ؟

جواب


"ابدی حالت" کے مطالعے کو بجا طور پر علم الآخرت کے ذیلی نکات میں سے ایک یا اخیر زمانے کی چیزوں کے مطالعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ پہلے اِس بات کو تسلیم کیا جانا چاہیے کہ اِس موضوع کے بارے میں واحد لفظی گواہی صرف اور صرف خُدا کا کلام یعنی بائبل مُقدس ہے؛ کوئی اور مبینہ "مُقدس کتاب" یا فلسفہ نہ تو بائبل کی طرح قابلِ اعتبار ہے اور نہ ہی بائبل جیسی معلومات مہیا کرتا ہے۔

بائبل میں جس یونانی لفظ کا ترجمہ "ابدی کیا گیا ہے وہ آئیونی اوس (aiónios) ہے جس سے ہمیں لفظ آئیون ملتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ لفظ وقت کے تعلق سے کوئی آغاز یا اختتام نہ ہونے یا پھر آغاز ہونے لیکن کوئی اختتام نہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ اِس کے درست معنی کا تعین ہمیں اِس کے سیاق و سباق سے ہوتا ہے۔جب اِس کو زندگی (یونانی میں زوئی) کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو یہ نہ صرف زندگی کو بغیر کسی اختتام کے ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اُس زندگی کا ایک خاص معیار ہے جو محض حیاتیاتی زندگی سے بہت زیادہ بلند ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ تمام ایمانداروں کو مُردوں میں سے جی اُٹھے بدن ملیں گے (1 کرنتھیوں 15باب42 آیت)، پس ہم بغیر جسم کے رُوحوں کی طرح نہیں رہیں گے بلکہ ہم خاص طور پر ابدی حالت میں وجود رکھنے کے لیے موزوں جلالی بدنوں کے مالک ہونگے۔

بائبل اِس حوالے سے بھی کچھ تفصیل پیش کرتی ہے کہ وہ حالت کیسی ہوگی۔ کلامِ مُقدس بیان کرتا ہے کہ خُدا ایک نئے آسمان اور نئی زمین کو تخلیق کرے گا اور ایک نیا یروشلیم خُدا کے پاس سے زمین پر اُتارا جائے گا (مکاشفہ 21باب1-2 آیات)۔ اُس نئی تخلیق کےحوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ "خُدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اُن کے ساتھ سکُونت کرے گا اور وہ اُس کے لوگ ہوں گے اور خُدا آپ اُن کے ساتھ رہے گااور اُن کا خُدا ہو گا" (مکاشفہ 21باب3 آیت)۔ "پھرہم ۔۔۔ ہمیشہ خُداوند کے ساتھ رہیں گے" (1 تھسلنیکیوں 4باب17 آیت)۔

ابدی حالت میں ہمارا وجود واضح طور پر اُس سے مختلف ہوگا جیسا کہ وہ اِس دُنیا کے اندر رہا تھا: "اور وہ اُن کی آنکھوں کے سب آنسُو پونچھ دے گا ۔ اِس کے بعد نہ مَوت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا ۔ نہ آہ و نالہ نہ درد ۔ پہلی چیزیں جاتی رہیِں " (مکاشفہ 21باب4 آیت) جو لعنت گناہ کی بدولت اِس دُنیا اور انسانی زندگی میں آئی تھی پھر اُس کا کبھی بھی غلبہ نہیں رہے گا(مکاشفہ 22باب3 آیت)۔ ہم بڑی مشکل سے ہی دُکھوں اور غموں کے بغیر اِس دُنیا کا تصور کر سکتے ہیں لیکن یہی وہ چیز ہے جس کا خُدا نے وعدہ کیا ہے – ایک ایسی حقیقت جو تخیلات سے بالا تر ہے۔ "بلکہ جیسا لِکھا ہے وَیسا ہی ہُوا کہ جو چیزیں نہ آنکھوں نے دیکھیں نہ کانوں نے سُنِیں نہ آدمی کے دِل میں آئیں۔ وہ سب خُدا نے اپنے مُحبّت رکھنے والوں کے لئے تیّار کر دِیں" (1 کرنتھیوں 2 باب9 آیت؛ بالموازنہ یسعیاہ 64باب4 آیت)۔

نہ ہی ابدی حالت میں ہمارا وجود پرانی زمین کی بدی کی یادوں سے متاثر ہوگا۔ وہاں پر ملنے والی خوشی تمام پریشانیوں کو ختم کر دے گی : "کیونکہ دیکھو مَیں نئے آسمان اور نئی زمین کو پیدا کرتا ہُوں اور پہلی چیزوں کا پھر ذِکر نہ ہو گا اور وہ خیال میں نہ آئیں گی" (یسعیاہ 65باب17 آیت)۔

ابدی حالت میں خُداوند کی خدمت کرنا شامل ہے (مکاشفہ 22باب3 آیت)، خُدا کو رُوبرو دیکھنا (4 آیت)، کامل صحت (2 آیت) اور مکمل پاکیزگی میں رہنا(5 آیت)۔ 2 پطرس 3باب13 آیت بیان کرتی ہے کہ نئے آسمان اور نئی زمین میں "راستبازی بسی رہے گی" ۔ اُس میں گناہ کا کہیں پر کوئی سایہ نہیں ہوگا۔

تخلیق کے آغاز سے ہی خُدا کا یہ منصوبہ رہا ہے کہ وہ نجات یافتہ لوگوں کو کاملیت اور جلال کے اُس مقام پر لے آئے گا (رومیوں 8باب30 آیت؛ فلپیوں 1باب6 آیت)۔ وہاں پر پھر نہ موت، نہ کوئی لعنت، نہ کوئی دُکھ، نہ ہی کسی کو خیرباد کہنا اور جُدائی ہوگی -یہ سب کچھ خُداوند یسوع مسیح کی صلیبی قربانی کی بدولت ہے۔ ابدی حالت میں خُدا کا جلالی منصوبہ عملی صورت میں ظاہر ہوگا اور بنی نوع انسان اُس کی حتمی تکمیل یعنی "خُدا کے نام کو جلال دینے اور اُس کی حضوری سے شادمان ہونے " میں شامل ہونگے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ایمانداروں کی ابدی حالت کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries