settings icon
share icon
سوال

کیا ابدی تحفظ کا تصور بائبلی ہے؟

جواب


جب لوگ خُداوند یسوع کو اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر قبول کرتے ہیں تو وہ خُدا کے ساتھ ایک خاص تعلق میں بندھ جاتے ہیں جو اُن کے ابدی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ یہوداہ 24 آیت بیان کرتی ہے کہ "اب جو تم کو ٹھوکر کھانے سے بچا سکتا ہے اور اپنے پُر جلال حضور میں کمال خوشی کے ساتھ بے عیب کرکے کھڑا کر سکتا ہے۔" خُدا اِس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ وہ ایمانداروں کو گرنے سے بچا سکے۔ یہ ہمارے بس کی بات نہیں بلکہ اِس کا تعلق اُسی کی ذات سے ہے کہ ہمیں اپنی جلالی حضور ی میں پیش یا حاضر کرے۔ہمارے ابدی تحفظ کا انحصار خُدا کی ذات پر ہے جو ہمیں محفوظ رکھتا ہے،اِس کا قطعی طور پر بالکل بھی انحصار ہماری اپنی ذات پر نہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ے کہ ہم خود ہی اپنی نجات کی دیکھ بھال کر رہے ہوتے ہیں۔

خُداوند یسوع نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ "اور مَیں اُنہیں ہمیشہ کی زِندگی بخشتا ہُوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا۔میرا باپ جِس نے مجھے وہ دی ہیں سب سے بڑا ہے اور کوئی اُنہیں باپ کے ہاتھ سے نہیں چھین سکتا۔" (یوحنا 10باب 28- 29آیات) ہم خُدا باپ اور خُداوند یسوع کے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں ہیں۔ کون ہمیں کسی بھی طور پر خُدا باپ اور خُداوند یسوع مسیح کے مضبوط ہاتھ سے چھڑا سکتا ہے؟

افسیوں 4باب 30 آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ایمانداروں پر "مخلصی کے دن تک مُہر ہوئی" ہے۔ اگر ایمانداروں کو ابدی تحفظ حاصل نہ ہوتا تو پھر اُن پر کی گئی مہر مخلصی کے دن تک نہ ہوتی بلکہ اُن پر وہ مہر صرف اُن کے اگلی دفعہ گناہ کرنے کے دن، برگشتہ ہونے کے دن یا پھر بے ایمان ہونے کے دن تک ہی ہوتی۔ یوحنا 3باب15-16آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ جو کوئی یسوع مسیح پر ایمان لاتا ہے "ابدی زندگی پائے گا۔"اگر کسی شخص کے ساتھ ابدی زندگی کا وعدہ کیا جائے اور پھر وہ زندگی اُس سے واپس لے لی جائے تو پھر یہ زندگی تو قطعی طور پر کسی طرح سے ابدی نہیں کہلا سکتی۔ اگر ابدی تحفظ کی فراہمی والی بات سچی نہیں ہے تو پھر ابدی تحفظ کے بارے میں بائبل مُقدس میں بیان کردہ وعدوں میں بھی کوئی سچائی نہیں بلکہ وہ غلط ہیں۔

ابدی تحفظ کے لیے سب سے بڑی دلیل رومیوں 8باب 38-39آیات میں پائی جاتی ہے "کیونکہ مجھ کو یقین ہے کہ خُدا کی جو مُحبّت ہمارے خُداوند مسیح یسو ع میں ہے اُس سے ہم کو نہ موت جُدا کر سکے گی نہ زِندگی۔نہ فرشتے نہ حکومتیں ۔ نہ حال کی نہ اِستقبال کی چیزیں ۔ نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اور مخلوق۔"ہمارے ابدی تحفظ کا انحصار خُدا کی اُس محبت پر ہے جو وہ اُن سے رکھتا ہے جنہیں اُس نے نجات بخشی ہے۔ ہمارے ابدی تحفظ کو خُداوند یسوع مسیح نے خریدا ہے، خُدا باپ نے اُس کا وعدہ کیا ہے اور رُوح القدس نے اُس پر مُہر ثبت کی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا ابدی تحفظ کا تصور بائبلی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries