settings icon
share icon
سوال

ابدی سزا/ ہلاکت/عذاب کا تصور بہت سارے لوگوں کے لیے اِس قدر ناپسندیدہ /ناگوار کیوں ہے ؟

جواب


جدید ثقافتو ں کی بدلتی ہوئی ہواؤں میں ابدی عذاب اور ابدی ہلاکت کو سمجھنا بہت سارے لوگوں کے لیے مشکل ہے۔ ایسا کیوں ہے؟بائبل اِس بات کو واضح کرتی ہے کہ جہنم ایک حقیقی جگہ ہے۔ مسیح نے فردوس کے ذکر سے زیادہ مرتبہ جہنم کے بارے میں بات کی ہے۔ وہاں نہ صرف شیطان اور اُس کا ساتھ دینے والی بد اَرواح کو ابدی سزا دی جائے گی بلکہ ہر وہ انسان جو خُداوند یسوع مسیح کو رَد کرتا ہے وہ بھی اپنی ابدیت وہاں اُنہی کے ساتھ گزارے گا۔ جہنم کے نظریے کو مسترد کرنے یا اِس پر نظر ثانی کرنے کی خواہش اِس کے شعلوں کو کم نہیں کرے گی، یا اِس جگہ کو ختم نہیں کر دے گی۔ اِس کے باوجود ابدی سزا اور ہلاکت کے تصور کو بہت سے لوگ مسترد کرتے ہیں اور یہاں پر اُن کی طرف سے اِسے رَد کرنے کی چند ایک وجوہات پیش کی جاتی ہیں:

عصرِ حاضر کی فکر و تصورات کا اثر: مابعد از جدیدیت کے اِس دور میں لوگ اِس بات کو یقینی بنانے کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں کہ کوئی اُن سے ناراض نہ ہو جائے۔ اِس لیے بائبل میں پیش کردہ جہنم کے نظریے کو ناپسند کیا جاتا ہے ۔اُن کے مطابق یہ نظریہ بہت ہی سخت، بہت پرانے طرز کا اور بہت زیادہ بے حِس ہے۔ اِس دُنیا کی ساری حکمت و دانشمندی اِس دُنیا کی موجودہ زندگی پر مرکوز ہے اور آئندہ زندگی کے بارے میں کچھ بھی سوچا نہیں گیا۔

خوف: کبھی بھی ختم نہ ہونے والی شعوری سزا واقعی ایک بہت خوفناک چیز ہے۔ بہت سارے لوگ خوف کا سامنا کرنے اور بائبلی طریقے سے اِس کے ساتھ نمٹنے کی بجائے خوف کے ماخذ ہی کو نظر انداز کرنا پسند کریں گے۔ اِس بات کو جانتے ہوئے کہ جہنم کو شیطان اور اُس کے ساتھ گرائے گئے فرشتوں کو سزا دینے کے لیے بنایا گیاہےاِس لیے حقیقت میں اِسے بہت زیادہ خوفناک ہی ہونا چاہیے (متی 25باب41آیت)۔

خُدا کی محبت کا ناقص تصور: بہت سارے لوگ ابدی سزا اور ابدی ہلاکت کے تصور کو اِس لیے مسترد کرتے ہیں کیونکہ اُن کے لیے اِس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ ایک محبت کرنے والا خُدا لوگوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم جیسی ہولناک جگہ پر کس طرح بھیج سکتا ہے۔ تاہم خُدا کی محبت اُس کے انصاف، اُ سکی راستبازی اور اُس کے تقدس کی تردید نہیں کرتی۔ نہ ہی اُس کا انصاف اُس کی محبت کی نفی کرتا ہے۔ درحقیقت خُدا کی محبت:صلیب پر خُداوند یسوع مسیح کی قربانی (یوحنا 3باب16-18 آیات) نے اُس کے غضب سے بچنے کی راہ فراہم کی ہے۔

گناہ کے متعلق ناقص تصور: کچھ لوگ اِس بات کو حیرت انگیز طور پر غیر منصفانہ خیال کرتے ہیں کہ محض زندگی بھر کے گناہوں کی سزا ابدی ہوگی۔ دیگر لوگ جہنم کے خیال کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ اُن کے نزدیک گناہ اتنا بُرا نہیں ہے۔ یقینی طور پر اتنا بُرا نہیں کہ اُس کی وجہ سے کسی کو ابدی عذاب میں ڈال دیا جائے۔ اور یقیناً گناہ کے حوالے سے یہ جو تصورات ہیں وہ ہمارے اپنے گناہوں کے بارے میں ہوتے ہیں -ہمارے علاوہ دیگر لوگ جیسے کہ قاتل اور اُن کی مانند اور لوگ جہنم کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ یہ رویہ گناہ کی آفاقی گھناونی نوعیت کے بارے میں غلط فہمی کو ظاہر کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے ہم اپنی بنیادی بھلائی پر اصرار کرتے ہیں جو آگ کے ذریعے سے عدالت کے خیال کو خارج کرتے ہوئے رومیوں 3باب10 آیت کی سچائی("کوئی راست باز نہیں ۔ ایک بھی نہیں۔ ") کا انکار کرتی ہے۔ ہماری بداعمالی اور قصوروں نے مسیح کو صلیب پر جان دینے کے لیے مجبور کیا۔ خُدا گناہ سے موت کی حدتک نفرت کرتا ہے۔

گمراہ کن نظریات: لوگوں کی طرف سے ابدی سزا اور ہلاکت کے تصور کو رَد کرنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اُنہیں متبادل نظریات سکھائے جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک نظریہ عالمگیریت ہےجو یہ بیان کرتا ہے کہ آخر میں سبھی لوگ فردوس میں چلے جائیں گے۔ ایک اور نظریہ نابودیت ہےجس میں جہنم کے وجود کا تو اقرار کیا جاتا ہے لیکن اِس کی ابدی نوعیت سے انکار کیا جاتاہے۔ نابودیت پسندوں کا خیال ہے کہ جو لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے وہ بالآخر مر جائیں گے اور اُن کا وجود ختم ہو جائے گا (یعنی وہ نیست و نابود ہو جائیں گے)۔ یہ نظریہ جہنم کو صرف عارضی سزا بناتا ہے۔ اِن دونوں نظریات کو جہنم پر بائبل کی تعلیم کے قابلِ عمل امکانات کے طو ر پر پیش کیا جاتا ہے؛ بہرحال یہ دونوں نظریات ہی انسانی خیالات کو خُدا کے مکاشفہ پر ترجیح دینے کی غلطی کرتے ہیں۔

نامکمل تعلیم: عصرِ حاضر کے بہت سارے پادری صاحبان اگرچہ جہنم کے نظریے پر یقین تو رکھتے ہیں لیکن جہنم پر تعلیم دینے کو ایک بہت نازک موضوع خیال کرتے ہیں۔ یہ جدید دور میں جہنم کے انکار کے لیے مزید معاون رویہ ہے۔ جن کلیسیاؤں کے اندر جہنم کے موضوع پر تعلیم نہیں دی جاتی وہاں کے لوگ اِس موضوع پر بائبل کی تعلیمات سے ناواقف رہتے ہیں اور اِس معاملے میں دھوکا دہی کا شکار ہونے کے اہم اُمید وار ہوتے ہیں۔ یہ ایک پاسبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ "اُس ایمان کے واسطے جانفشانی کرے جو مُقدسوں کو ایک ہی بار سونپا گیا تھا" (یہوداہ 1باب3 آیت)، نہ کہ وہ اِس کام میں لگا رہے کہ بائبل کے کونسے حصے کو پیش کیا جائے اور کونسے حصے کو چھوڑ دیا جائے۔

شیطان کی چالیں: شیطان کا پہلا جھوٹ ہی خُدا کی طرف سے عدالت کا انکار تھا۔ باغِ عدن کے اندر سانپ نے حوّا سے کہا کہ " تم ہرگِز نہ مَرو گے " (پیدایش 3باب4 آیت)۔ یہ آج کے دور میں بھی شیطان کی ایک بہت بڑی چال ہے "بے اِیمانوں ۔۔۔ کو اِس جہان کے خُدا نے اَندھا کر دِیا ہے " (2 کرنتھیوں 4باب4 آیت) اور اِس کے نتیجے میں وہ جو اندھا پن پیدا کرتا ہے اُس میں خُدا کے مُقدس احکامات کا انکار کرنا بھی شامل ہے۔اُس کا کام غیر نجات یافتہ لوگوں کو اِس بات پر قائل کرنا ہے کہ مستقبل میں کوئی عدالت نہیں ہے اِس لیے وہ "کھا پی کر مزے اُڑا سکتے ہیں " اور اُنہیں مستقبل کی کسی چیز کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔

اگر ہم اپنے خالق کی فطرت کو سمجھتے ہیں تو ہمیں جہنم کے تصور کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے۔" وہ (خُدا)وُہی چٹان ہے ۔ اُس کی صنعت کامِل ہے کیونکہ اُس کی سب راہیں اِنصاف کی ہیں۔ وہ وفادار خُدا اور بدی سے مُبرّا ہے۔ وہ مُنصف اور برحق ہے " (اِستثنا 32باب4 آیت)۔ اُس کی خواہش ہے کہ کوئی بھی ہلاک نہ ہو بلکہ سب کی توبہ تک نوبت پہنچے (2 پطرس 3 باب 9 آیت)۔

جہنم کے بارے میں بائبل کی تعلیمات کی تردید کرنا بنیادی طور پر یہ کہنا ہے کہ ، "اگر مَیں خُدا ہوتا تو مَیں جہنم کو ایسا نہ بناتا ۔"اِس طرح کی ذہنیت کا مسئلہ اِس کا فطری تکبر ہے -انسانی تکبر تجویز کرتا ہے کہ ہم خُدا کے منصوبوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ البتہ ہم خُدا سے زیادہ عقلمند نہیں ہیں نہ ہی ہم اُس سے زیادہ محبت کرنے والے یا اُس سے زیادہ منصف ہیں۔ بائبل مُقدس میں پیش کردہ جہنم کے نظریے کو مسترد کرنا یا اِ س پر نظر ثانی کرنا ایک افسوسناک ستم ظریفی ہےجسے ایک مصنف نے اِس طرح بیان کیا ہے کہ :"جہنم کو ائیر کنڈیشنڈ کرنے کی کوششیں چاہیے جتنے بھی اچھے نظریے کے ساتھ کی جائیں اُن کا واحد نتیجہ یہی ہوگا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اُس جہنم میں جا پڑیں گے۔"

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ابدی سزا/ ہلاکت/عذاب کا تصور بہت سارے لوگوں کے لیے اِس قدر ناپسندیدہ /ناگوار کیوں ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries