settings icon
share icon
سوال

کیا کسی شخص کے نام کا زندگی کی کتاب میں سے مٹایا جانا ممکن ہے؟

جواب


مکاشفہ 22 باب 19آیت بیان کرتی ہے کہ، "اور اگر کوئی اِس نبوت کی کِتاب کی باتوں میں سے کچھ نکال ڈالے تو خُدا اُس زِندگی کے درخت اور مُقدّس شہر میں سے جن کا اِس کِتاب میں ذِکر ہے اُس کا حصہ نکال ڈالے گا۔" جب ابدی تحفظ پر بات چیت کی جاتی ہے یا اِس موضوع پر بحث ہوتی ہے تو اُس میں اِس آیت کو لازمی طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ کیا مکاشفہ 22باب 19آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی شخص کا نام برّے کی کتابِ حیات میں لکھا جاتا ہے تو پھر کچھ مدت کے بعد مستقبل میں اُس کا نام وہاں سے مٹایا جا سکتا ہے؟دوسرے الفاظ میں کیا ایک مسیحی اپنی نجات کو کھو سکتا ہے؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ کلامِ مُقدس اِس حوالے سے مکمل طور پر واضح ہے کہ جس دن کوئی شخص نجات پاتا ہے اُسی دن سے اُس پر نجات کی مُہر ہو جاتی ہے اور خُدا اپنی قدرت سے اُسے محفوظ رکھتا ہے (افسیوں 4 باب 30آیت)، اور وہ سب جو خُدا باپ نے خُداوند یسوع کو دئیے ہیں اُن میں سے وہ کسی ایک کو بھی نہیں کھوئے گا (یوحنا 6 باب 39آیت)۔ خُداوند یسوع مسیح نے اعلان کیا ہے کہ ، "اور مَیں اُنہیں ہمیشہ کی زِندگی بخشتا ہُوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا۔میرا باپ جس نے مجھے وہ دی ہیں سب سے بڑا ہے اور کوئی اُنہیں باپ کے ہاتھ سے نہیں چھین سکتا"(یوحنا 10 باب 28-29ب آیات)۔ نجات خُدا کی طرف سے ہے ہماری طرف سے نہیں (ططس 3باب5آیت) اور یہ اُس کی قدرت ہی ہے جو ہمیں محفوظ رکھتی ہے۔

اگر مکاشفہ 22باب19آیت میں بیان کردہ "کوئی"(شخص) ایمانداروں میں سے نہیں ، تو پھر وہ کون ہیں؟ دوسرے الفاظ میں کون ایسے لوگ ہیں جو خُدا کے کلام یعنی بائبل میں سے کچھ باتوں کو نکالنے اور اُس میں کچھ ڈالنے کی کوشش یا خواہش کریں گے؟یہاں پر سب سے زیادہ قوی امکان یہ ہے کہ وہ سب جو خُدا کے کلام کے ساتھ اِس طرح کا کوئی بھی رویہ رکھتے ہیں وہ لازمی طور پر سچے ایماندار نہیں ہونگے ، بلکہ ایسا وہی لوگ کریں گے جو مسیحی ہونے کے دعویدار تو ہیں اور یہ فرض کئے بیٹھے ہیں کہ اُن کے نام کتابِ حیات کے اندر لکھے ہوئے ہیں۔ عام طو رپر بات کی جائے تو وہ دو گروہ جنہوں نے روایت کے مطابق خُدا کے کلام یعنی اِس الہامی مکاشفہ میں رَد و بدل کرنے کی کوشش کی ہے اُن میں سے پہلا تو مسیحیت کے اندر پائے جانے والی بدعات ہیں، اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو بڑے آزاد مذہبی تصورات کے حامل ہیں۔ بہت ساری بدعات اور بہت سارے آزاد خیال علمِ الہیات کے حامل یسوع کے نام کا پرچار تو کرتے ہیں لیکن وہ نئے سرے سے پیدا نہیں ہوئے – اور کسی سچے مسیحی کے لیے بائبلی شرط یہی ہے کہ وہ نئے سرے سے پیدا ہو۔

بائبل ایسی بہت ساری مثالوں کو پیش کرتی ہے جس میں اُن لوگوں کا ذکر ہے جو یہ خیال کرتے تھے کہ وہ ایماندار ہیں لیکن اُن کا ایماندار ہونے کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا تھا۔ یوحنا 15 باب میں یسوع اُن لوگوں کو ایسی شاخوں کے طور پر پیش کرتا ہے جو اُس –انگور کے حقیقی درخت – کے ساتھ پیوست نہیں رہی تھیں، اِس لیے وہ کسی طرح کا کوئی پھل نہیں لائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں کیونکہ خُداوند یسوع مسیح نے کہا ہے کہ "اُن کے پھلوں سے تم اُن کو پہچان لو گے" (متی 7 باب 16، 20 آیات)؛ سچے ایمانداروں کے اندراُس رُوح القدس کے پھل نظر آئیں گے جو اُن کے اندر بسا ہوا ہے(گلتیوں 5 باب 22آیت)۔ 2 پطرس 2 باب 22 آیت کے مطابق ایماندار ہونے کا جھوٹا اقرار کرنے والے ایسے ہی ہیں جیسے کوئی کُتا جو اپنی قے کی طرف رجوع کرتا ہے اور جیسے نہلائی ہوئی سُورنی جو دلدل میں لوٹنے کی طرف چلی جاتی ہے۔ بے پھل شاخیں، کُتا اور سُورنی یہ سب اُن لوگوں کے لیے استعمال ہونے والی علامتیں ہیں جو اپنے اندر نجات رکھنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں، لیکن اُن کے پاس انحصار کرنے کے لیے اپنی ہی راستبازی سے بڑھ کر کچھ بھی اور نہیں ہے، اُن کے پاس یسوع مسیح کی راستبازی نہیں ہے جو حقیقی طور پر نجات بخشتی ہے۔ اِس بات پر مکمل طور پر شک کیا جا سکتا ہے کہ وہ سب جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے اُن سے توبہ کر لی ہے اور نئے سرے سے پیدا ہو چکے ہیں وہ جان بوجھ کر خُدا کے کلامِ مُقدس میں رَد و بدل کریں گے – یعنی اُس میں سے کچھ نکالیں یا اُس میں کچھ شامل کریں گے۔ جان بوجھ کر خُدا کے کلام میں ملاوٹ کرنا اور اُسے توڑنا مروڑنا کسی بھی انسان کی زندگی میں حقیقی ایمان کی کمی کا ثبوت پیش کرتا ہے۔

مکاشفہ 22باب 19آیت کے حوالے سے ایک اور اہم بات کو مدِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور اُس کا تعلق ترجمے کے ساتھ ہے۔ زیادہ تر متنوں کے اندراِس آیت میں "کتابِ حیات" کا ذکر نہیں ہے بلکہ اُن میں "زندگی کے درخت" کا ذکر ہے۔ اصل آیت کا ترجمہ تو دراصل یہ بیان کرتا ہے کہ ،"اور اگر کوئی اِس نبوت کی کِتاب کی باتوں میں سے کچھ نکال ڈالے تو خُدا اُس زِندگی کے درخت اور مُقدّس شہر میں سے جن کا اِس کِتاب میں ذِکر ہے اُس کا حصّہ نکال ڈالے گا۔" وہ دیگر تراجم جن میں کتاب کی بجائے "درخت" کا استعمال ہوا ہے اُن میں NASB, ESV, NLT, HCSB, ISV, NET, اور ASV شامل ہیں۔ نیو کنگ جیمز ورژن اِس حوالے سے قریباً واحد ایڈیشن ہے جس نے اِس آیت میں زندگی کے درخت کی جگہ پر حیات کے درخت کا ترجمہ کیا ہے۔ یہ غلطی اُس وقت ہوئی جب یونانی متن کی ترتیب و تدوین کرتے ہوئے ڈیسیڈیرس ایریسمس کو مجبور کیا گیا کہ وہ مکاشفہ کی آخری آیات کا ترجمہ لاطینی ولگیٹ سے یونانی زبان میں کرے۔ نئے ترجمے میں "درخت" اِس لیے "کتاب" بن گیا کیونکہ ایک کاتب نے غلطی سے لاطینی لفظ لینگو ("درخت") کی جگہ پر لاطینی لفظ لائبرو ("کتاب") لکھ دیا تھا۔ وہ تمام تراجم جو Texus Receptus سے کئے گئے ہیں جیسے کہ کنگ جیمز ورژن، اُن میں اِس آیت کے اندر لفظ "درخت" کی جگہ پر لفظ "کتاب" لکھا گیا ہے۔

"زندگی کی کتاب " کی جگہ "زندگی کے درخت" کا ترجمہ کرنے کے لیے دلیل دینے کی خاطر دو مزید آیات:مکاشفہ 22باب2آیت اور 14 آیت ہیں۔ اِن دونوں آیات کے اندر "زندگی کا درخت" اور شہر دونوں اکٹھے استعمال کئے گئے ہیں جیسے کہ ہم 19آیت میں دیکھتے ہیں۔ اِن آیات کے اندر بھی لفظ "حصہ" اہم اور قابلِ غور ہے۔ وہ شخص جو خُدا کے کلام میں رَد و بدل کرنے کی کوشش کرتا ہے اُسے زندگی کے درخت سے دور اور اُس کے فوائد سے محروم کر دیا جائے گا وہ اپنے ایمان کے بارے میں چاہے جو مرضی سوچتا رہے اور اپنی زندگی میں جن مرضی پھلوں کا دعویٰ کرتا رہے۔

مکاشفہ 3باب5آیت بھی ایک اور ایسی آیت ہے جو اِس معاملے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ "جو غالب آئے۔۔۔اُس کا نام کتابِ حیات سے ہرگز نہ کاٹوں گا۔"سردیس کی کلیسیا میں غالب آنے والا دراصل ایک مسیحی ہے۔ اِس کا موازنہ 1 یوحنا 5باب4آیت کے ساتھ کیجئے "جو کوئی خُدا سےپیدا ہُوا ہے وہ دُنیا پر غالب آتا ہے"اور 5 آیت کے ساتھ بھی موازنہ کیجئے: "دُنیا کا مغلوب کرنے والا کون ہے سوا اُس شخص کے جس کا یہ اِیمان ہے کہ یسوع خُدا کا بیٹا ہے؟"(1یوحنا 2 باب 13آیت بھی دیکھئے)۔ تمام کے تمام سچے ایماندار غالب آنے والے ہیں کیونکہ اُن کو گناہ اور بے ایمانی پر فتح بخشی گئی ہے۔

کچھ لوگ مکاشفہ 3باب5آیت کو اِس طرح سے دیکھتے ہیں جیسے کہ خُدا کا قلم بالکل تیار ہے کہ وہ ہر اُس مسیحی کو کتابِ حیات سے خارج کر دے جو گناہ کرتا ہے۔ وہ اِس آیت کو اپنے طور پر کچھ اِس طرح سے پڑھتے ہیں کہ" اگر تم کچھ گڑبڑ کرتے ہو اور غالب نہیں آتے تو تم اپنی نجات کھو دو گے۔ درحقیقت، مَیں تمہارے نام زندگی کی کتا ب سے مٹا ڈالونگا۔"لیکن یہ آیت ایسا کچھ بھی نہیں کہتی۔ یہاں پر یسوع اُنہیں خبردار نہیں کر رہا بلکہ اُن کے ساتھ ایک وعدہ کر رہا ہے۔

کلامِ مُقدس میں کہیں پر بھی یہ نہیں کہا گیا کہ خُدا ایمانداروں کے نام برّے کی زندگی کی کتاب میں سے مٹا دے گا – حتیٰ کہ کلام کے اندر کہیں پر اِس حوالے سے خبردار بھی نہیں کیا گیا کہ خُدا ایسا کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مکاشفہ 3باب5آیت کا حیرت انگیز وعدہ یہ ہے کہ یسوع ایمانداروں کے نام کبھی بھی اُس کتاب میں سے نہیں مٹائے گا۔ غالب آنے والوں – یعنی اُن سب لوگوں سے بات کرتے ہوئے جو برّے کے خون کے وسیلے بچائے گئے ہیں – یسوع اُن کے ساتھ وعدہ کرتا ہے کہ وہ اُن کے نام زندگی کی کتاب میں سے کبھی نہیں مٹائے گا۔ وہ اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایک بار جب کوئی نام وہاں پر لکھ دیا گیا تو پھر وہ ہمیشہ کے لیے اُسی کتاب کے اندر رہے گا۔ اور اِس وعدے کی بنیاد وفادار خُدا کی اپنی ذات پر ہے۔

مکاشفہ 3باب 5آیت کا وعدہ براہِ راست ایمانداروں کے ساتھ کیا گیا ہے، یہ وہ ہیں جن کی نجات محفوظ ہے۔ اِس کے برعکس مکاشفہ 22 باب 19 آیت میں دیا گیا انتباہ ایمان نہ لانے والوں کے لیے ہے، جنہوں نے خُدا کی مرضی کے مطابق اپنے دِلوں کو تبدیل کرنے کی بجائے اپنی مرضی کے مطابق خُدا کے کلام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے لوگ کبھی بھی حیات کے درخت کا پھل نہیں کھائیں گے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا کسی شخص کے نام کا زندگی کی کتاب میں سے مٹایا جانا ممکن ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries