settings icon
share icon
سوال

کیا کسی کام کا انجام/مقاصد اُس کام کے ذرائع کے درست ہونے کا جواز پیش کرتا ہے؟

جواب


اس سوال کے جواب کا انحصار اِس بات پر ہے کہ اس کے مقاصد یا اہداف کیا ہیں اور ان کے حصول کے لئے کیا ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں۔ اگر اہداف اچھے اور نیک ہیں اور اُن کے حصول کے لئے ہم جو ذرائع استعمال کرتے ہیں وہ بھی اچھے اور نیک ہیں تو ہاں، مقاصد یا انجام ذرائع کے درست ہونے کا جواز پیش کرتے ہیں۔ لیکن جب زیادہ تر لوگ اِس طرح کا اظہار کرتے ہیں تو اُن کا اصل مقصد یہ نہیں ہوتا۔ زیادہ تر لوگ اِس بیان کو اپنے اہداف کے حصول کے بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور وہ اہداف اُنہوں نے کسی بھی ضروری یا غیر ضروری طریقے سے حاصل کئے ہوئے ہیں ، اُنہیں اِس بات سے قطعی طورکوئی فرق نہیں پڑتا چاہے اُن کے ذرائع کتنے ہی غیر اخلاقی، غیر قانونی یا ناخوشگوار کیوں نہ ہوں۔جو لوگ یہ کہتے ہیں اُن کا دراصل مطلب کچھ ایسا ہوتا ہےکہ "اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کسی چیز کو کیسے حاصل کرتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جو کچھ آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں اُسے کیسے حاصل کرتے ہیں جب تک آپ اُسے حاصل نہیں کر لیتے۔"

جہاں پر انجام کی طرف اشارہ کر کے ذرائع کو جائز ٹھہرایا جاتا ہے اُن صورتوں میں دراصل کچھ نہ کچھ غلط کیا جاتا ہے اور اُس کے اختتام پر کچھ مثبت مقاصد کا بھی حصول کیا جاتا ہے اور پھر اپنی تمام غلط کاریوں اور اپنے غلط ذرائع کو چھپایا جاتا ہے یا لوگوں کی اُن سے توجہ ہٹانےکی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک مثال اچھی ملازمت حاصل کرنے کے لئے ریزیومے Resumeپر جھوٹ بولنا اور یہ کہہ کر جھوٹ کا جواز پیش کرنا ہوتا ہے کہ اچھی آمدن جھوٹ بولنے والے کو اپنے خاندان کا اچھا نتظام کرنےکے قابل بنائے گی۔ ایک اور مثال یہ ہو سکتی ہے کہ اسقاطِ حمل کے جواز کے لیے ماں کی صحت یا زندگی بچانے کو جواز کے طور پر پیش کیا جائے۔ جھوٹ بولنا اور معصوم بچّے کی جان لینا دونوں اخلاقی طور پر غلط ہیں، لیکن اپنے خاندان کا بہتر بندوبست کرنا اور کسی عورت کی زندگی بچانا دونوں ہی اخلاقی طور پر درست ہے۔ تو پھر کوئی لکیر کہاں کھینچ سکتا ہے؟

انجام اور ذرائع کا مخمصہ اخلاقی موضوعات پر بحث مباحثے کے حوالے سے کافی حد تک مقبول ہے۔ عام طور پر سوال کچھ اس طرح سے ہوتا ہےکہ : "اگر آپ کسی کو قتل کرکے دنیا کو بچا سکتے ہیں تو کیا آپ ایسا کریں گے؟" اگر اس کا جواب "ہاں" ہے تو اخلاقی طور پر درست نتیجہ /انجام یا مقصد اس کے حصول کے لئے غیر اخلاقی ذرائع کے استعمال کو جائز قرار دیتا ہے۔ لیکن ایسی صورت حال میں تین مختلف چیزوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے: عمل کی اخلاقیات، نتائج کی اخلاقیات اور عمل کرنے والے شخص کی اخلاقیات۔ اس صورت حال میں یہ کارروائی (قتل) واضح طور پر غیر اخلاقی ہے اور قاتل بھی۔ لیکن دنیا کو بچانا ایک اچھا اور اخلاقی نتیجہ ہے۔ یا پھر کیا ایسا ہے؟ اگر قاتلوں کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ اِس بات کا فیصلہ کریں کہ کیا کسی کو قتل کرنا ہے یا نہیں، اور اگر قتل کرنا ہے تو کب قتل کرنا ہے اور اُس کے بعد وہ آزادانہ طور پر گھومتے پھرتے رہیں تو ایسی صورت میں کونسی دُنیا کو بچایا جا رہا ہے؟ یا پھر اگر یہ صورتحال ہو کہ وہ قاتل جس نے دُنیا کو بچانے کے لیے قتل کیا تھا اُس کو اُسی دُنیا کے اندر سزا دی جائے؟اور وہ دُنیا جو بچائی گئی تھی کیا اُس کے پاس درست جواز ہے کہ وہ اُسی شخص کو سزا دے یا قتل کرے جس نے اُسے بچانے کے لیے قتل کیا تھا؟

بائبلی کے نقطہ نظر سے، یقیناً، اس بحث سے جو چیز غائب ہے وہ خدا کا کردار، خدا کا قانون/شریعت اور خدا کی دستگیری ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا بھلا، مُقدس، انصاف پسند، مہربان اور راستبازہے، جو لوگ خُدا کے نام لیوا ہیں وہ اُس کے کردار کی عکاسی بھی کرتے ہیں (1 پطرس1باب15-16 آیات)۔ قتل، جھوٹ، چوری اور ہر طرح کے گناہ آلود رویے انسان کی گناہ آلودفطرت کا اظہار ہیں نہ کہ خدا کی فطرت کا ۔ اس مسیحی کے لیے جس کی فطرت مسیح نے تبدیل کر دی ہے(2 کرنتھیوں 5باب17آیت)، غیر اخلاقی طرز عمل یا طرزِ زندگی کا کوئی جواز نہیں ہے، چاہے اُس کا محرک یا اس کا نتیجہ کچھ بھی ہو۔اپنے مقدس اور کامل خدا سے ہمیں ایک ایسا قانون یا شریعت ملتی ہے جو اُس کی ذات کے اوصاف کی عکاسی کرتی ہے۔ (19زبور 7آیت؛ رومیوں 7باب 12آیت) دس احکامات اِس بات کو واضح کرتے ہیں کہ قتل، ملاوٹ، چوری، جھوٹ اور لالچ خدا کی نظر میں ناقابل قبول ہیں اور وہ ایسے کاموں کی ترغیب یا جواز کے لیے کسی طرح کے راہِ فرار کا موقع نہیں دیتا۔ غور کریں کہ وہ یہ نہیں کہتا کہ اُس وقت تک قتل نہ کرو جب تک اُس عمل کے ذریعے آپ کوئی ایک اور جان نہ بچا سکو۔"اِس چیز کو مواقعاتی اخلاقیات کہتے ہیں اور خُدا کی شریعت میں اِس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

مزید برآں انجام اور ذرائع کی اخلاقیات کی بحث میں خُدا کی دستگیری کا ادراک غائب ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ خُدا نے اِس دُنیاکو تخلیق کیا، اِس کو لوگوں کے ساتھ آباد کیا اور پھر اُنہیں کسی بھی طرح کی نگرانی کے بغیر چھوڑ دیا کہ وہ آپس میں الجھتے رہیں۔ اِس کے برعکس خدا کے پاس بنی نوع انسان کے لیے ایک منصوبہ اور مقصد ہے جسے وہ گزرنے والی ساری صدیوں کے دوران پورا کرتا چلا آ رہا ہے۔ تاریخ میں ہر شخص کا ہر ایک فیصلہ مافوق الفطرت طریقے سے خُدا کے اُس اہم منصوبے کے ساتھ جا ملتا ہے۔ خُدا اس سچائی کو واضح طور پر بیان کرتا ہے: " جو ابتدا سے ہی انجام کی خبر دیتاہوں اور ایّامِ قدیم سے وہ باتیں جو اب تک وقوع میں نہیں آئیں بتاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ میری مصلحت قائم رہے گی اور مَیں اپنی مرضی بالکل پوری کرونگا جو مشرق سے عقاب کو یعنی اس شخص کو جو میرے ارادہ کو پورا کریگا دور کے ملک سے بلاتا ہوں مَیں ہی نے یہ کیا اور مَیں ہی اسکو وقوع میں لاونگا۔ مَیں نے اس کا ارادہ کیا اور مَیں ہی اسے پورا کرونگا " (یسعیاہ 46باب10-11آیات) ۔ خُدا بڑے گہرے طور پر اپنی تخلیق کے کاموں میں شامل ہےا ور وہ اپنی تخلیق کے ہر پہلو پر مکمل اختیار رکھتا ہے۔ مزید برآں وہ بیان کرتا ہے کہ اُس کی قدرت سے سب چیزیں ملکر اُس سے محبت کرنے والوں کے لیے بھلائی پیدا کرتی ہیں(رومیوں8باب28آیت)۔ ایک مسیحی جو اپنے ریزیومے Resume پر جھوٹ بولتا ہے، اور کسی بچّے کا اسقاط کرواتا ہے وہ خُدا کے قانون کی خلاف ورزی کرے گا اور وہ اپنے اندر اپنےخاندان کی ضروریات پوری کرنے کی اہلیت اور کسی حاملہ عورت کی زندگی کو بچانے کی اہلیت کا بھی انکار کرے گا۔

جو لوگ خدا کو نہیں جانتے شاید وہ مجبور ہوں کہ اپنے اعمال کے نتائج کو اپنے ذرائع کے درست ہونے کے جواز کے طور پر پیش کریں۔ لیکن جو لوگ خُدا کے فرزند ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اُن کے پاس خدا کے کسی حکم کو توڑنے، اُس کے خود مختار مقصد کو پورا کرنے سے انکار کرنے یا اُس کے پاک نام کی بدنامی کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا کسی کام کا انجام/مقاصد اُس کام کے ذرائع کے درست ہونے کا جواز پیش کرتا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries