settings icon
share icon
سوال

بائبل دُنیا کے خاتمے کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب


وہ خاص واقعہ جسے "دُنیا کا خاتمہ" (اسکٹونeschaton ) کہا جاتا ہے اُس کو 2 پطرس 3باب 10 آیت میں بیان کیا گیا ہے: " لیکن خُداوند کا دِن چور کی طرح آئے گا۔ اُس دِن آسمان بڑے شور و غل کے ساتھ برباد ہو جائیں گے اور اجرامِ فلک حرارت کی شدت سے پگھل جائیں گے اور زمین اور اُس پر کے کام جل جائیں گے۔ " یہ خُداوند کا دِن کہلانے والے واقعات کی سیریز کی انتہا ہوگی یعنی وہ خاص وقت جب خُدا خود عدالت کرنے کی غرض سے انسان کی تاریخ میں دخل اندازی کرے گا۔ اُس وقت وہ سب کچھ جسے خُدا نے تخلیق کیا ہے یعنی "آسمان اور زمین"(پیدایش 1باب 1 آیت) تباہ ہو جائیں گے۔

بہت سارے مسیحی علماء کے مطابق اِس خاص واقعے کا وقت ہزار سالہ بادشاہی کے آخر میں ہوگا۔ اِن 1000 سالوں کے دوران یسوع یروشلیم کے اندر سے داؤد کے تخت پر بیٹھے ہوئے (لوقا 1باب32-33آیات) بڑے امن سے لیکن "لوہے کے عصا کے ساتھ" (مکاشفہ 19باب15آیت) دُنیا پر حکمرانی کرے گا۔ اِس 1000 سالہ بادشاہی کے اختتام پر شیطان کو آزاد کیا جائے گا، اُسے پھر سے شکست دی جائے گی اور پھر اُسے آگ کی جھیل میں ڈال دیا جائے گا (مکاشفہ 20باب7-10آیات)۔ اور پھر خُدا کی طرف سے آخری عدالت کے بعد جیسا کہ 2 پطرس 3باب10آیت میں بیان کیا گیا ہے اِس دُنیا کا خاتمہ وقوع پذیر ہوگا۔ بائبل مُقدس ہمیں اِس خاص واقعے کے بارے میں بہت ساری چیزیں بتاتی ہے۔

سب سے پہلے یہ زندگی کی بقاء کے لیے سخت جنگ اور جدوجہد والے واقعات پر مبنی ہوگا۔ "آسمان" جو کہ موجودہ طور پر کائنات – ستاروں، سیاروں اور کہکشاؤں – کو ظاہر کرتے ہیں، کسی بہت بڑے دھماکے، عین ممکن ہے کسی ایٹمی دھماکے سے تباہ ہو جائیں گے تمام مادہ جسے ہم دیکھتے ہیں یا جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں فنا ہو جائے گا۔ اور وہ سبھی عناصر جن سے ملکر یہ کائنات بنی ہوئی ہے شدید قسم کی "حرات کی شدت" سے گل جائیں گے (2 پطرس 3باب12آیت)۔ اِس موقعے پر بہت زیادہ شور وغل بھی ہوگا جیسا کہ بہت سارے بائبل کے تراجم میں اِس شور کو بیان کرنے کے لیے مختلف الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جیسے کہ "گرج" ، "بہت زیادہ شور"، "بڑی آواز" اور "شورو غل" وغیرہ۔ اُس وقت کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں رہے گا کہ اِس دُنیا کے ساتھ کیا ہو رہا ہے کیونکہ لکھا ہے کہ "زمین اور اِس پر کے سب کام جل جائیں گے۔"

پھر خُدا "ایک نیا آسمان اور نئی زمین تخلیق کرے گا" (مکاشفہ 21باب 1آیت)، جس میں نیا یروشلیم بھی شامل ہوگا (2 آیت) جو کہ آسمان کا دارلخلافہ اور کامل پاکیزگی کا مقام ہوگا، جو کہ آسمان پر سے نئی زمین پر اُتارا جائے گا۔ یہ وہ شہر ہے جس میں مقدسین – وہ لوگ جن کے نام برّے کی کتابِ حیات کے اندر لکھے ہوئے ہیں (مکاشفہ 13باب8آیت) – ہمیشہ تک کے لیے رہیں گے۔ پطرس اِس نئی تخلیق کو اُس مقام کے طور پر بیان کرتا ہے "جس میں راستبازی بسی ہوئی ہے"(2 پطرس 3باب13آیت)۔

پطرس کی طر ف سے بیان کردہ اُس دن کے حوالے سے سب سے اہم چیز غالباً اُس کا وہ سوال ہے جسے ہم 11-12آیات کے اندر دیکھتے ہیں: " جب یہ سب چیزیں اِسی طرح پگھلنے والی ہیں تو تمہیں پاک چال چلن اور دِینداری میں کیسا کچھ ہونا چاہئے۔ اور خُدا کے اُس دِن کے آنے کا کیسا کچھ منتظر اور مشتاق رہنا چاہئے۔ جس کے باعث آسمان آگ سے پگھل جائیں گے اور اجرامِ فلک حرارت کی شدت سے گل جائیں گے۔ " مسیحی جانتے ہیں کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے اور ہمیں اُس سب کی سوچ سمجھ رکھتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے۔ یہ زندگی گزرتی چلی جا رہی ہے اور یہ ایک دن ختم ہو جائے گی، اِس لیے ہماری ساری توجہ آنے والے نئے آسمان اور نئی زمین پر ہونی چاہیے۔ ہماری" پاک اور خُدا کے خوف " میں گزاری گئی زندگیاں اُن سب لوگوں کے لیے گواہی ہونی چاہییں جو ہمارے نجات دہندہ کو نہیں جانتے، اور ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کو اُس کے بارے میں بتائیں تاکہ وہ اُس خوفناک انجام سے بچ جائیں جو اُن لوگوں کا انتظار کر رہا ہے جو یسوع مسیح کو بطورِ شخصی نجات دہندہ رد کرتے ہیں۔ ہم بڑی آرزومندی کیساتھ اُس کے بیٹے کے آسمان سے آنے کے منتظر ہیں جسے اُس نے مُردوں میں سے جلایا یعنی یسوع مسیح کے جو ہم کو آنے والے غضب سے بچاتا ہے (1 تھسلنیکیوں 1 باب10آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل دُنیا کے خاتمے کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries