settings icon
share icon
سوال

خالی قبر کی کیا اہمیت ہے ؟

جواب


خالی قبر کی حقیقت-بائبل کی یہ سچائی کہ شاگردوں نے یسوع ناصری کی قبر کو خالی پایاتھا - ابتدائی کلیسیائی دور سےمسیحی ایمان کےدعوئے کا مرکزی حصہ بنی چلی رہی ہے۔ چاروں اناجیل مختلف سطح پر خالی قبر کی دریافت سے متعلقہ حالات بیان کرتی ہیں (متی28باب 1-6آیات؛ مرقس 16باب 1-7آیات؛ لوقا 24باب 1-12آیات؛ یوحنا 20باب 1-12آیات)۔ لیکن کیا اس بات پر غور کرنے کی کسی طرح کی معقول وجوہات ہیں کہ یہ دعوے تاریخی اعتبار سے درست ہیں؟ کیا ایک منصفانہ ذہن کا حامل تفتیش کار یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ عید ِ قیامت المسیح کی پہلی صبح کویسوع مسیح کی قبر ہر لحاظ سے خالی پائی گئی تھی؟ ایسے بہت سے دلائل ہیں جنہوں نے متعد د تاریخ دانوں کو اس بات پر قائل کیا ہے کہ یسوع کو جس قبر میں دفن کیا گیا تھا وہ اُس کی مصلوبیت کے دن کے بعد آنے والے اتوار کی صبح کو واقعی خالی پائی گئی تھی۔

سب سے پہلی وجہ ، یسوع کی قبر کی جگہ مسیحیوں اور غیر مسیحیوں کو یکساں طور پر معلوم ہوگی ۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ مصلوبیت کے زیادہ تر متاثرین کو یا تو عام مجرموں کے لیے مخصوص قبروں میں پھینک دیا جاتا تھا یا پرندوں اور دیگر گوشت خور جانداروں کے کھانے کے لیے صلیب پر ہی چھوڑ دیاجاتا تھا ، مگر یسوع کا معاملہ کچھ مختلف تھا۔ تاریخی ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ یسوع کو ارمتیہ کے یوسف کی قبر میں دفن کیا گیا تھا جو یہودی صدرِ عدالت /مجلس سین ہیڈرن کا رکن تھا، یہ وہی صدرِ عدالت تھی جس نے یسوع کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ نئے عہد نامہ کے بہت سے متشکک عالمین اس بات پر قائل ہیں کہ شہر ارمتیہ کے یوسف کی طرف سے یسوع کی تدفین کا انتظام کرنا ممکن نہیں تھالہذا یہ مسیحیوں کی من گھڑت کہانی ہے ۔ ابتدائی مسیحی اپنے خداوند کی موت کے لیے سب سے زیادہ ذمہ دار یہودی صدرِ عدالت کو سمجھتے تھے ۔ پس صدرِ عدالت کے خلاف اُن کی قابل فہم دشمنی کو دیکھتے ہوئے یہ ایک غیر متوقع بات ہے کہ یسوع کے پیروکاروں نے یہودی صدرِ عدالت کے کسی رکن کے بارے میں کوئی ایسی روایت ایجاد کی ہو گی جس نے یسوع کو قابل ِ احترام تد فین فراہم کرنے کے لیے اپنی قبر کا استعمال کیا تھا۔

اس کے علاوہ حالیہ آثار قدیمہ کی دریافتوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اناجیل میں تدفین کی تفصیلات میں بیان کردہ طرزِ قبر (acrosolia/ ایکروسولیا یا بینچ نماقبر) کوبڑے پیمانے پر دولت مندوں اور دیگر ممتاز لوگوں کی طرف سے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس قسم کی وضاحت اُن باتوں سے اچھی طرح میل کھاتی ہے جو ہم ارمتیہ کے یوسف کے بارے میں جانتے ہیں۔ مزید برآں جب ہم اِن خیالات کو اس حقیقت کے ساتھ جوڑتے ہیں کہ ارمتیہ بہت کم اہمیت کا حامل ایک ایسا شہر تھا جو صحائف کے اندر کسی چیز کی علامت نہیں ہے اور یہ بھی کہ اِس طرح کی تدفین کی کوئی متضاد روایت موجود نہیں ہے، پس اِس سنگین شک کا خاتمہ ہو جاتا ہے کہ یسوع کو یوسف کی قبر میں دفن نہیں کیا گیا تھا۔

ان حقائق کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ اُس وقت یہودی مذہبی مجلس سین ہیڈرن کو یقینی طور پر یوسف کی قبر کا مقام معلوم ہو گااور اس طرح اُس جگہ کا بھی جہاں یسوع کو دفن کیا گیا تھا۔ اور اگر یہودی حکام کو یسوع کی قبر کا مقام معلوم تھا تو یہ تقریباً ناممکن تھا کہ اگر یہ قبر خالی نہ ہوتی تومسیحی تحریک اُس شہر یروشلیم میں جہاں یسوع کو دفن کیا گیا تھا کوئی ترقی حاصل کر پاتی ۔ کیا کسی بھی یہودی مذہبی رہنما نے اس دعوے کی تصدیق کے لیے یوسف کی قبر تک کا مختصر سفر طے نہیں کیا ہوگا؟ کیا یہودی مجلس نے یسوع کی لاش (اگر دستیاب ہوتی)کو مہیا کرنے اور جی اٹھے یسوع کی اِن افواہوں کو ایک ہی بار ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی ہر طرح کی تحریک نہ پائی ہوگی؟ یروشلیم میں بہت سے لوگ مسیحیت میں شامل ہونا شروع ہوگئے تھے یہ حقیقت ہمیں بتاتی ہے کہ یہودی مذہبی قیادت کی ہر طرح کی کوشش کے باوجود کوئی لاش مہیا نہیں کی گئی تھی۔ اگر یسوع کی مصلوب شدہ لاش مہیا کر دی جاتی تو مُردوں میں سے جی اُٹھے یسوع کا دعویٰ کرنے والی مسیحی تحریک کو ایک زبردست دھچکا لگناتھا ۔

دوسری وجہ ، خالی قبر کی نشاندہی 1کرنتھیوں 15 باب میں پولس رسول کی طرف سے پیش کردہ ابتدائی زبانی بیان میں کی جاتی ہے ۔ اِسی اثناء میں جب چاروں اناجیل یسوع کی قبر کے خالی ہونے کی تصدیق کرتی ہیں ہمیں خالی قبر کے بارے میں ابتدائی سراغ پولس رسول کی طرف حاصل ہوتا ہے ۔ تقریباً 55 بعد از مسیح میں کرنتھس کی کلیسیا کے نام خط لکھتے ہوئے پولس ایک زبانی فارمولے (یا عقیدے ) کا حوالہ دیتا ہے جو زیادہ تر علماء کا خیال ہے کہ اُسے یسوع کے مصلوب ہونے کے صرف پانچ سال بعد پطر س اور یعقوب رسول سے وصول ہوا تھا (گلتیوں1باب 18-19آیات)۔ پولس بیان کرتا ہے"چُنانچہ مَیں نے سب سے پہلے تم کو وُہی بات پہنچا دی جو مجھے پہنچی تھی کہ مسیح کِتابِ مُقدّس کے مُطابِق ہمارے گُناہوں کے لئے مُؤا۔ اور دفن ہُوا اور تیسرے دِن کِتابِ مُقدّس کے مُطابِق جی اُٹھا۔ اور کیفا کو اور اُس کے بعد اُن بارہ کو دِکھائی دِیا "(1کرنتھیوں 15باب 3-5آیات)۔ جب پولس لکھتا ہے کہ وہ " مُؤا،اور دفن ہُؤا اور تیسرے دِن کِتابِ مُقدّس کے مُطابِق جی اُٹھا " تواِس کا (پولس کے فریسی پس ِمنظر کو دیکھتے ہوئے) گہرے طور پر یہی مطلب ہےکہ جس قبر میں یسوع کو دفن کیا گیا تھا وہ خالی تھی۔

ایک سابق فریسی کے طور پر پولس فطری طور پر سمجھ گیا ہوگا کہ جو کچھ دفن کیا جاتا ہے وہی جی اُٹھتا ہے؛ اُس نے مسیح سے روبروملنے سے پہلے ہی جسم کی حالت میں مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے تصور کو قبول کر لیا تھا۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ پولس کے اس عقیدے کا ماخذ غالباً یروشلیم کے رسول اور زیر بحث واقعات کے ساتھ ان لوگوں کا گہرا تعلق تھا۔ پس پولس کی طرف سے اس زبانی فارمولے کا حوالہ اس بات کا مضبوط ثبوت فراہم کرتا ہے کہ یسوع کی قبر خالی پائی گئی تھی اور یہ حقیقت ابتدائی مسیحی کلیسیا میں بڑے پیمانے پر مشہور تھی ۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ پولس نے مختلف حوالہ جات میں سکھایا ہے کہ یسوع کا جی اٹھنا جسمانی طور پر تھا (رومیوں 8باب 11آیت ؛ فلپیوں 3باب 21آیت) تو بار بار دہرائے جانے والے اس اعتراض کا جواب مل جاتا ہے جو کہتا ہے کہ پولس کو خالی قبر کا علم نہیں تھا ۔ پولس کے نزدیک خالی قبر کے بغیر مُردوں میں سے جی اُٹھنا ایک متضاد بات ہوگی ۔

تیسری وجہ ، خالی قبر کی موجود گی کی بڑی تصدیق مخالفین کی طر ف سے آتی معلوم ہوتی ہے ۔ اُن میں سے پہلی تصدیق خود متی کی انجیل کے صفحات سے آتی ہے جہاں متی قلم بند کرتا ہے کہ خود یہودی رہنماؤں کی طرف سے خالی قبر کا اقرار کیا گیا تھا (متی28باب 13-15آیات)۔ وہ دعویٰ کر رہے تھے کہ شاگرد آئے اور یسوع کی لاش کو چرا کر لے گئے ہیں ۔ متی کی انجیل کی تحریر کی زیر بحث واقعہ سے قربت کے پیش نظر اس طرح کا دعویٰ اگر جھوٹا ہوتا تو اُسے بڑی آسانی سے غلط ثابت کردیا جانا تھا۔ کیونکہ اگر متی جھوٹ بول رہا ہوتا تو خالی قبر کے اعلان پر یہودی ردعمل کے بارے میں متی کے بیان کی آسانی سے تردید کی جا سکتی تھی کیونکہ زیر بحث واقعات کے بہت سے ہم عصر لوگ اُس وقت بھی زندہ تھے جب متی کی انجیل دیگر علاقوں میں پہنچائی جا رہی تھی۔ پس اگر یسوع کی لاش اُس وقت بھی قبر میں موجود تھی تو اُنہوں نے شاگردوں پر یسوع کی لاش چرانے کا الزام کیوں لگایا؟ یہودیوں کی طرف سے لگائے گئے جوابی الزام سے اندازہ ہوتا ہے کہ قبر خالی تھی۔

اس بات کی تصدیق مسیحی دفاعِ ایمان کے ماہر جسٹن شہید کی طرف سے دوسری صدی کے وسط میں (ٹرائیفو-Trypho کے ساتھ مکالمہ، صفحہ نمبر 108 پر ) اور پھر کلیسیائی بزرگ ٹرٹولین (De Spectaculis-صفحہ نمبر 30) کی طرف سے قریباً 200 بعد از مسیح میں کی گئی ہے کہ یہودیوں نے شاگردوں پر یسوع کی لاش کو چرانے کا الزام لگایا ۔ جسٹن اور ٹرٹولین دونوں ہی اپنے دور کے یہودیوں کیساتھ مناظرہ کرنے کے ساتھ ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے اور یہ جاننے کی حیثیت رکھتے تھے کہ اُن کے یہودی مخالفین کیا کہہ رہے ہیں۔ وہ اپنی معلومات کے لیے محض متی کی انجیل پر بھروسہ نہیں کر رہے تھے؛ جسٹن اور ٹرٹولین دونوں ایسی مخصوص تفصیلات کا ذکر کرتے ہیں جو متی کی انجیل میں نہیں ملتیں ۔ درحقیقت یہ تینوں مصنفین اُن تفصیلات کا حوالہ دیتے ہیں جن کا ذکر دوسرے لوگوں نے نہیں کیا ۔ اِن خیالات کی بنیاد پر یہ واضح ہوتا ہے کہ ابتدائی یہودی خالی قبر کو تسلیم کرتے تھے۔

چوتھی وجہ، چاروں اناجیل بتاتی ہیں کہ عورتوں نے یسوع کی قبر کوخالی پایا تھا۔ پہلی صدی کے دوران اسرائیلی خاندان میں بزرگانہ نوعیت کی سربراہی کے پیشِ نظر یہ نکتہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ عورتوں کو بہت محدود حالات میں ہی عدالت میں گواہی دینے کی اجازت تھی لیکن معاملہ یہ بھی ہے کہ پہلی صدی کے یہودی معاشرے میں عورت کی گواہی مرد کی گواہی کے مقابلے میں بہت کم اہمیت رکھتی تھی۔ اگر آپ دوسروں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش میں کہانی گھڑ رہے تھے کہ یسوع مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے تو آپ خواتین کو کبھی بھی اپنے مرکزی گواہوں کے طور پر استعمال نہیں کریں گے ۔ ہر طرح کی من گھڑت کہانیوں میں پطرس ، یوحنا یا اندریاس جیسے نمایاں مرد شاگردوں کو خالی قبر کے دریافت کرنے والوں کے طور پر پیش کیا جانا تھا کیونکہ مُردوں کی گواہی نے کہانی کو درکار اشد ضروری صداقت فراہم کرنی تھی ۔

اس کے باوجود اناجیل بتاتی ہیں کہ جب یسوع کے مرد شاگرد خوف کے مارے یہودی حکام سے چھپ رہے تھے تو یہ عورتیں ہی تھیں جو خالی قبر کی ابتدائی گواہ بنیں۔ اگر یہ بات سچ نہ ہوتی تو ابتدائی کلیسیا کے لیے اس طرح کے منظر کو گھڑنے کی عام طور پر کوئی وجہ نہیں ہونی تھی ۔ ابتدائی مسیحیت نے اپنی مردانہ قیادت کو بزدلوں کے طور پر کیوں پیش کرنا تھا اور خواتین کو مرکزی گواہوں کا مقام کیوں دینا تھا؟ ان نامزد خواتین گواہوں میں سے ایک (مریم مگدلینی) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس میں پہلے سات بد ارواح تھیں، لہذا اس بات نے اُسے بہت سے لوگوں کی نظر میں اور بھی زیادہ کم قابل اعتماد گواہ بنا دیا تھا۔ اور اِن شہادتی رکاوٹوں کے باوجود ابتدائی مسیحیوں نے اصرار کیا کہ خالی قبر کی پہلی گواہ درحقیقت عورتیں تھیں۔ اس اصرار کی سب سے زیادہ ممکنہ وضاحت یہ ہے کہ یہ عورتیں خالی قبر کی ابتدائی گواہ تھیں اور ابتدائی مسیحی اس بات کی ممکنہ نامناسب نوعیت کے باوجود اس کے بارے میں جھوٹ بولنے کو تیار نہیں تھے۔

یہ چاروں دلائل مجموعی ثبوت فراہم کرنے میں مدد کرتے ہیں کہ یسوع مسیح کی قبر پہلی عید ِ قیامت المسیح پر خالی تھی۔ خاص طور پر مؤرخ مائیکل گرانٹ ، جو خود بھی یسوع کے مُردوں میں سے جی اٹھنے کے متعلق متشکک تھا یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ "۔۔۔۔ اگر ہم قیامت المسیح پر بالکل اسی قسم کی کسوٹی کا اطلاق کرتے ہیں جو ہم کسی دوسرے قدیم ادبی ذرائع پر کرتے ہیں تو شواہد اتنے پختہ اور قابل فہم ہیں کہ وہ اس نتیجے کا تقاضا کرتے ہیں کہ قبر درحقیقت خالی پائی گئی تھی۔"

یقیناً کہانی میں محض ایک خالی قبر کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ قبر کے خالی پائے جانے کی وجہ یہ تھی کہ جو آدمی وہاں دفن تھا وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا۔ یسوع نے نہ صرف اپنی قبر خالی کی بلکہ وہ گروہوں (متی 28باب 9آیت؛ یوحنا 20باب 26-30آیات؛ 21باب 1-14آیات؛ اعمال 1باب 3-6آیت؛ 1کرنتھیوں 15باب 3-7آیات) اور بہت سے لوگوں پر انفرادی طور پر بھی ظاہر ہوا تھا(لوقا24باب 34آیت)۔ اور اُس کا مُردوں میں سے جی اٹھنا اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ وہ وہی کچھ تھا جو ہونے کا اُس نے دعویٰ کیا تھا (متی 12باب 38-40آیات ؛ 16باب 1-4آیات) –خدا کا جی اُٹھابیٹا، ہماری نجات کی واحد امید۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خالی قبر کی کیا اہمیت ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries