settings icon
share icon
سوال

ابتدائی کلیسیائی بزرگ کون تھے؟

جواب


ابتدائی کلیسیائی بزرگوں کو تین بنیادی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: رُسولی بزرگ،نقائیہ کی مجلس سے پہلے کے کلیسیائی بزرگ اور نقائیہ کی مجلس سے بعد کے کلیسیائی بزرگ۔ رُسولی کلیسیائی بزرگ روم کے کلیمنٹ جیسے تھے جو کہ رُسولوں کے ہم عصر تھے اورجنہوں نے غالباً رسولوں ہی سے تعلیم پائی تھی۔ یہ بزرگ رسولوں کی تعلیمات اور رسومات پر عمل کرتے تھے۔ 2 تیمتھیس 4 باب21 آیت میں مذکور لینُس پطرس رسول کی شہادت کے بعد روم کا بشپ بنا، اورلینُس کے بعد اُس کی جگہ پر کلیمنٹ نے خدمت کی ۔ اِس وجہ سے لینُس اور کلیمنٹ دونوں رسولی بزرگ سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم لینُس کی تحریریں موجود نہیں ہیں جبکہ روم کے کلیمنٹ کی بہت سی تحریریں محفوظ ہیں۔ رسولی بزرگ بڑی تعداد میں دوسری صدی کے آغاز تک منظر نامے سے غائب ہو گئے ہونگے ماسوائے چند ایک ایسے لوگوں کے جو یوحنا رسول کے شاگرد رہے تھے جیسے کہ پولیکارپ ۔ روایت یہ ہے کہ یوحنا رسول کا سن 98 کے قریب اِفسس میں انتقال ہو ا تھا۔

نقائیہ کی مجلس سے پہلے کے کلیسیائی بزرگ وہ تھے جو رسولی بزرگوں کے بعد اور سن 325 میں منعقد ہونے والی نقائیہ کی کونسل سے پہلے منظر عام پر آئے ۔جیسے کہ ارینائیس، اگنیشیس اور جسٹن شہید وغیرہ نقائیہ کی مجلس سے قبل ہو گزرنے والے کلیسیائی بزرگوں میں سے ہیں۔

نقائیہ کی مجلس کے بعد کے کلیسیائی بزرگ وہ ہیں جو سن 325 میں منعقد ہونے والی نقائیہ کی کونسل کے بعد منظر عام پر آئے۔ اِن بزرگوں میں ہپو کا بشپ اگسٹن جسےاکثر کلیسیائی عقائد میں اُس کی عظیم خدمت کی وجہ سے [رومن کیتھولک]کلیسیا کا بانی کہا جاتا ہے ، کریسوسٹم، جسے اُس کی شاندار فصیح مہارتوں کی وجہ سے "سنہری منہ والے" کے طور پر جانا جاتا تھا، اور یوسیبیس جس نے نقائیہ کی مجلس سے ایک سال پہلے یسوع کی پیدائش سے سن 324 تک کی کلیسیائی تاریخ لکھی شامل ہیں۔ یوسیبیس کو نقائیہ کے بعد والے دور میں شامل کیا جاتا ہے کیونکہ اُس نےنقائیہ کی مجلس کے منعقد ہونے تک اپنی تاریخ نہیں لکھی تھی۔نقائیہ کی مجلس کے بعد ہو گزرنے والے دیگر کلیسیائی بزرگوں میں جیروم جس نے نئے عہد نامہ کا یونانی سے لاطینی وولگیٹ میں ترجمہ کیا اور ایمبروز شامل ہیں جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ شہنشاہِ روم قسطنطین کو مسیحیت میں لانے میں اِس کی بہت زیادہ کاوشیں اور خدمت شامل تھی۔

پس ابتدائی کلیسیائی بزرگ کیا ایمان رکھتے تھے؟ رسولی بزرگ انجیل کی مُنادی اُسی طریقے سے کرنے کے لئے نہایت فکر مند تھے جیسے رسولوں نے خُود منادی کی تھی۔ وہ اُس وقت علم الہیات کے عقائد کی تشکیل میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے کیونکہ جو انجیل اُنہوں نے رسولوں سے سیکھی تھی اُن کے لئے وہی کافی تھی۔ رسولی بزرگ ابتدائی کلیسیا میں پیدا ہونی والی غلط تعلیمات کو بے نقاب کرنے اور اُن کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے اُتنے ہی سرگرم تھے جتنے کہ رسول خود تھے۔ پیغام کی راسخ الاعتقادی اُن رسولی بزرگوں کی طرف سے محفوظ کی گئی جن کی ہمیشہ خواہش رہی کہ وہ اُس انجیل کے ساتھ سچائی کے ساتھ جُڑے رہیں جو اُن کو رسولوں کی طرف سے سکھائی گئی تھی۔

نقائیہ کی مجلس سے پہلے کے کلیسیائی بزرگوں نے بھی انجیل کے ساتھ سچائی سے جُڑے رہنے کی کوشش کی، لیکن اُن کی ایک اضافی فکر بھی تھی۔ اُن دِنوں متعدد جعلی تحریریں پولُس، پطرس، اور لوقا کی طرف سے پیش کردہ تحریروں کے برابر معتبر ہونے کا دعویٰ کر رہی تھیں۔ اِن جعلی دستاویزات کا مقصد واضح تھا۔ اگر مسیح کے بدن(کلیسیا) کو جعلی دستاویزات قبول کرنے کی طرف راغب کر لیا جاتا ، تو کلیسیا میں غلطیاں شامل ہو جاتیں۔ لہذا نقائیہ کی مجلس سے پہلے کے کلیسیائی بزرگوں نے زیادہ تر وقت مسیحی عقائد کو غلط تعلیمات سے بچانے کے دفاع میں صَرف کیا اور اِس سے مقبول کلیسیائی عقائد کے قیام کی شروعات ہوئی۔

نقائیہ کی مجلس کے بعد کے کلیسیائی بزرگوں نے تمام قسم کی بدعات کے خلاف انجیل کو تحفظ دینے کے مشن کو جاری رکھا، لہذا اِس دور کے زیادہ تر کلیسیائی بزرگوں کی دلچسپی انجیل کے دفاع کے طریقوں میں زیادہ اور انجیل کو حقیقی اور خالص شکل میں آگے منتقل کرنے میں کم ہو گئی۔ اِس طرح وہ اُس راسخ الاعتقادی سے دُور ہونے لگے جو کہ رُسولی بزرگوں کاامتیازی نشان تھا۔ یہ علمِ الہٰیات کے ماہرین ، اور "ایک سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے رقص کر سکتے ہیں" جیسے غیراہم موضوعات پر کبھی نہ ختم ہونے والی بحث و تکرار کا دور تھا۔

ابتدائی کلیسیائی بزرگ مسیح کی پیروی کرنے اور سچائی کا دفاع کرنے کے لئے ہمارے لئے ایک مثال تھے۔ ابتدائی کلیسیائی بزرگوں میں سے کوئی بھی کامل نہ تھا، جیسے ہم میں سے کوئی بھی کامل نہیں ہے۔ ابتدائی کلیسیائی بزرگوں میں سے بعض نے ایسے عقائد قائم کئے جنہیں آج زیادہ تر مسیحی غلط سمجھتے ہیں۔ جن چیزوں کی روشنی میں بعد میں رومن کیتھولک علمِ الہیات مرتب کیا گیا اُس کی جڑیں نقائیہ کی مجلس کے بعد کے کلیسیائی بزرگوں کی تحریروں میں بھی موجود تھی۔ اگرچہ ہم ابتدائی کلیسیائی بزرگوں کی تحریروں کو پڑھنے سے علم و بصیرت حاصل کر سکتے ہیں، لیکن ہمارے ایمان کی حتمی بُنیاد خُدا کے کلام پر ہونی چاہیے نہ کہ ابتدائی کلیسیائی بزرگوں کی تحریروں پر۔ صرف خُدا کا کلام ہی ہمارے ایمان اور عمل کے لئے لاخطا رہنما ئی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ابتدائی کلیسیائی بزرگ کون تھے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries