settings icon
share icon
سوال

نظریہ ثنوئیت/ثنوی عقیدہ کیا ہے؟

جواب


علمِ الہٰیات کی روشنی میں نظریہ ثنوئیت کو یوں بیان کیا جاتا ہے کہ یہ وہ عقیدہ ہے جس کے مطابق اچھائی اور بُرائی دو علیحدہ علحدہ قوتوں/ہستیوں کے طور پرموجود ہیں اور یہ دونوں ہستیاں اپنی طاقت کے لحاظ سے برابر ہیں۔ کچھ مسیحی جونظریہ ثنوئیت کے قائل ہیں اُن کے مطابق خُدا اچھائی کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ شیطان بُرائی کی نمائندگی کرتا ہے۔

تاہم سچ تو یہ ہے کہ اگرچہ شیطان کے پاس کچھ طاقت ہے لیکن وہ خُدایِ قادرِ مطلق کے برابر نہیں ہے کیونکہ بغاوت سے پہلے خدا نے شیطان کو ایک فرشتے کی حیثیت سے خلق کیا گیا تھا(یسعیاہ14باب 12-15آیات؛ حزقی 28باب 13-17آیات )۔ جیسا کہ کتابِ مقدس فرماتی ہے"اَے بچّو! تم خُدا سے ہو اور اُن پر غالب آ گئے ہو کیونکہ جو تم میں ہے وہ اُس سے بڑا ہے جو دُنیا میں ہے" (1یوحنا4باب 4آیت )۔لہذا کلامِ مقدس کے مطابق نہ تو نظریہ ثنوئیت کا کچھ وجود ہے اور نہ ہی برابر طاقت رکھنے والی دو مخالف قوتیں یعنی اچھائی اور بُرائی اِس جہان میں پائی جاتی ہیں ۔ بلاشبہ اچھائی جو خُدایِ قادرِ مطلق کی نمائندگی ہے اِس کائنات کی سب سےزیادہ طاقتور قوت ہے۔ شیطان کی نمائندہ قوت بُرائی اس لحاظ سے کم تر قوت ہے اور یہ اچھائی کی برابری نہیں کر سکتی ۔اچھائی کے ساتھ مقابلے میں بُرائی ہر بار شکست خوردہ ہوگی کیونکہ اچھائی کا جوہر خُدائے قادر ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے لیکن دوسری جانب بُرائی کا نمائندہ شیطان قادرِ مطلق نہیں ہے۔

جب بھی کوئی نظریہ اچھائی اور بُرائی کی تصویر کشی دو ایسی مخالف قوتوں کے طور پر کرتا ہے جو قوت کے اعتبار سے برابر ہیں تو وہ بائبل کے اِس نقطہ ِ نظرکی مخالفت کرتا ہے کہ خُدا کے نمائندہ کی حیثیت سے اچھائی کائنات میں غالب ترین قوت ہے۔ کیونکہ شیطان نہ تو کبھی خُدا کے برابر تھا اور نہ کبھی ہو گااس لیے ہر وہ نظریہ جو بیان کرتا ہے کہ شیطان خُدا کے برابر ہو سکتا ہے ایک جھوٹا نظریہ ہے ۔ اِس حقیقت کے باوجود کہ شیطان کو خُدا سے بلند تر ہونے کی کوشش کرنے/خواہش رکھنے کی وجہ سے آسمان سے گرا دیا گیا تھا، ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ایسا نہیں ہے کہ شیطان نے خُدا کے برابر ہونے یا خُدا سے افضل ہونے کی کوشش کرنا چھوڑ دی ہے۔اور یہ بات نظریہ ثنوئیت کے اُن بنیادی اصولوں سے ثابت ہوتی ہے جو انسانی فلسفیانہ حکمت کے ذریعے بڑے پیمانہ پر سامنے آتے ہیں ۔

نظریہ ثنوئیت ہماری کائنات کے کسی بھی حصے میں موجود نہیں ہو سکتا۔جیسا کہ بائبل ہم پر ظاہر کرتی ہے کہ صرف ایک ہی غالب قوت ہے اور وہ خُدایِ قادرِ مطلق کی ذات ہے۔ کتابِ مقدس کے ثبوتوں کے مطابق دو کی بجائے صرف ایک ہی قاردِ مطلق قوت ہے ۔ پس نظریہ ثنوئیت کا کوئی بھی تصور جو دو برابر اور مخالف قوتوں(اچھائی اور بُرا ئی ) کی موجودگی کا دعویٰ کرتا ہے ایک جھوٹا نظریہ ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

نظریہ ثنوئیت/ثنوی عقیدہ کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries