settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


آیت ہے جہاں پر یسوع بیان کرتا ہے کہ "کوئی میرے پاس نہیں آ سکتا جب تک باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لے اور مَیں اُسے آخِری دِن پِھر زِندہ کرُوں گا۔ "یہاں پر جس یونانی لفظ کا ترجمہ "کھینچنا" کیا گیا ہے وہ helkuo ہے جس کے لغوی معنی ہیں "گھسیٹنا"۔ بڑے واضح طور پر اِس طریقے سے کھینچا جانا یک سمتی معاملہ ہوتا ہے۔ خُدا ہمیں نجات کے لیے کھینچتا ہے اور ہم جنہیں کھینچا جاتا ہے اُس میں ایک غیر متحرک کردار ادا کرتے ہیں۔ اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اُس کی طرف سے کھینچے جانے کی وجہ سے ہم اپنے رَد عمل کا اظہار کرتے ہیں لیکن کھینچنے کا سارا عمل صرف اور صرف اُسی کی طرف سے ہوتا ہے۔

لفظ helkuo کا استعمال یوحنا 21 باب 6 آیت میں مچھلیوں سے بھرے ہوئے ایک جال کو کنارے پر کھینچنے کے لیے بھی ہوا ہے۔ یوحنا 18باب10 آیت کے اندر ہم پطرس کو اپنی تلوار کھینچتے ہوئے دیکھتے ہیں اور اعمال 16باب 19آیت میں helkuo لفظ پولس اور سیلاس کو حاکموں کے سامنے کھینچ کر لےجانے کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ بڑے واضح طور پر جب جال کو کنارے پر کھینچا جا رہا تھا تو جال بذاتِ خود اُس میں کچھ بھی حصہ نہیں ڈال رہا تھا۔ جب پطرس کی تلوار کھینچی جا رہی تھی تو تلوار اُس میں کوئی بھی کردار ادا نہیں کر رہی تھی، اور پولس اور سیلاس خود اپنے اپنے کو کھینچ کر حاکموں کے سامنے نہیں لے جا رہے تھے۔ بالکل یہی کچھ اُن لوگوں کے بارے میں کہا جا سکتا ہے جنہیں خُدا نجات کے لیے کھینچتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی رضا مندی سے آ جاتے ہیں اور کچھ لوگ رضامند نہیں ہوتے اور اُنہیں کھینچا جاتا ہے، لیکن بالآخر سبھی آ جاتے ہیں ، حالانکہ اُس کھینچے جانے میں ہمارا کوئی بھی اپنا حصہ نہیں ہوتا۔

خُدا کو ہمیں نجات کے لیے کھینچنے کی ضرورت کیوں ہے ؟اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اگر وہ ہمیں نہیں کھینچتا تو ہم اُس کی طرف رجوع نہیں لائیں گے۔ یسوع اِس بات کو یوں بیان کرتا ہے کہ جب تک کھینچ نہ لیا جائے کوئی بھی خُدا باپ کے پاس نہیں آتا (یوحنا 6باب65آیت)۔ فطری انسان میں خُدا کے پاس آنے کی کوئی خوبی موجود نہیں ہے اور نہ ہی اُس کے اندر ایسا کرنے کی خواہش پائی جاتی ہے۔ کیونکہ اُس کا دِل سخت ہے اور اُس کے ذہن پر تاریکی چھائی ہوئی ہے، جو شخص نئے سرے سے پیدا نہیں ہوتا وہ خُدا کے پاس آنے کی خواہش نہیں رکھتا اور حقیقت میں خُدا کا دشمن ہوتا ہے (رومیوں 5باب10آیت)۔ جب یسوع یہ کہتا ہے کہ جب تک خُدا باپ کسی کو اپنی طرف کھینچ نہ لے اُس وقت تک کوئی بھی اُس کے پاس نہیں آ سکتا تو ایسے میں یسوع دراصل انسان کی مکمل محرومی اور اُس کی عالمگیر نوعیت کے بارے میں بیان دے رہا ہے۔ ایک گناہگار شخص کا دِل اِس قدر تاریک ہوتا ہے کہ اُسے اِس بات کا اندازہ تک نہیں ہوتا: " دِل سب چیزوں سے زِیادہ حیلہ باز اور لاعِلاج ہے ۔ اُس کو کَون دریافت کر سکتا ہے؟ " (یرمیاہ 17 باب 9 آیت)۔ اِس لیے یہ صرف خُدا کے رحم اور فضل کے وسیلے کھینچا جانا ہی ہے جو ہمیں بچاتا ہے۔ جب کسی گناہگار کی زندگی تبدیل ہوتی ہے تو خُدا اُس کے ذہن کو روشن کرتا ہے (افسیوں 1باب18آیت)، اُس کی مرضی کا رُخ اپنی طرف موڑتا ہے، اُس کی رُوح پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر وہ اُس پر اثر انداز نہ ہو تو اُس صورت میں اُس کی رُوح تاریکی میں ہوتے ہوئے خُدا کے خلاف بغاوت کی حالت میں رہتی ہے۔ خُدا کی طرف سے کھینچے جانے کے اِس مرحلے میں یہ سب باتیں شامل ہوتی ہیں۔

ایک طرح سے خُدا سبھی آدمیوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔اِسے "عام بلاہٹ" کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہ "موثر بلاہٹ" سے مختلف ہے جو خُدا کے چُنے ہوئے لوگوں کے لیے ہوتی ہے۔ 19 زبور 1-4آیات اور رومیوں 1باب20آیت جیسے حوالے اِس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ خُدا کی ازلی قدرت اور الوہیت دُنیا کی پیدایش کے وقت سے بنائی ہوئی چیزوں کے ذریعہ سے معلوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں ۔ یہاں تک کہ"اُن کو کچھ عُذر باقی نہیں ۔" لیکن پھر بھی انسان خُدا کا انکار کرتے ہیں اور وہ جو اُس کے وجود کا اقرار کرتے ہیں وہ بھی اُس وقت تک خُدا کی ذات کے نجات بخش پہلو کو نہیں جان پاتے جب تک خُدا خود اُنہیں اپنی طرف کھینچتا نہیں ہے۔ صرف وہی لوگ جنہیں خُدا کے مکاشفہِ خاص سے –رُوح القدس کی قدرت اور خُدا کے فضل سے نجات کے لیے کھینچا گیا ہے –یسوع کے پاس آئیں گے۔

کئی ایسے ٹھوس ذرائع ہیں جن کے ذریعے سے وہ جو نجات کے لیے کھینچے جاتے ہیں وہ اِس کھینچے جانے کے تجربے کا احساس پاتے ہیں۔ سب سے پہلے تو رُوح القدس ہماری گناہ آلود حالت کو ہم پر ظاہر کر کے ہمیں قصور وار ٹھہراتا ہے اور ہمیں نجات دہندہ کی ضرورت کا احساس دلاتا ہے (یوحنا 16 باب 8آیت)۔ دوسرے نمبر پر وہ ہمارے اندر رُوحانی چیزوں کے بارے میں خاص دلچسپی کو جگاتا ہے جو ہمارے اندر پہلے نہیں تھی، اور یونہی اُن رُوحانی چیزوں کے لیےہمارے اندر ایسی خواہشات بھی پیدا کرتا ہے جو پہلے نہیں تھیں۔ ایک دم سے ہمارے کان کھل جاتے ہیں، ہمارا دِل خُدا کی طرف رجوع کر لیتا ہے اور اُس کے کلام میں ہمارے لیے نئی اور حیرت انگیز باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ ہماری رُوح اُس رُوحانی سچائی کا امتیاز حاصل کرنا شروع کر دیتی ہے جو پہلے کبھی بھی ہماری ذات کے اندر موجود نہیں تھا: " مگر نفسانی آدمی خُدا کے رُوح کی باتیں قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ اُس کے نزدِیک بیوقُوفی کی باتیں ہیں اور نہ وہ اُنہیں سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ رُوحانی طَور پر پرکھی جاتی ہیں"(1 کرنتھیوں 2باب 14آیت)۔ اور آخر میں ہمارے اندر نئی خواہشات پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ وہ ہمارے اندر ایک ایسا نیا دِل پیدا کر دیتا ہے جو خود ہی اُس کی طرف رجوع لاتا ہے، ایک ایسا دِل جو اُسے جاننا چاہتا ہے، اُس کی تابعداری کرنا چاہتا ہے اور زندگی کے اُس "نئے پن" میں چلنا چاہتا ہے (رومیوں 6باب4آیت) جس کا ہمارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries