settings icon
share icon
سوال

اِس سے کیا مُراد ہے کہ خُدا نے انسانوں کو جانوروں پرا ختیار دیا ہے؟

جواب


لفظ "اختیار " کے معنی ہیں کسی پر "حکمرانی یا اقتدار" ۔ خُدا اپنی ساری تخلیق پر خود مختار اختیار رکھتا ہے اور اُس نے اپنے اُس اختیار میں سے انسان کو بھی بخشا ہے کہ وہ جانوروں پر اختیار رکھے (پیدایش 1باب26آیت)۔ داؤد اِس سچائی کو اِس طرح سے بیان کرتا ہے : "تُو نے اُسے اپنی دست کاری پر تسلُّط بخشا ہے ۔ تُو نے سب کچھ اُس کے قدموں کے نیچے کر دِیا ہے " (8 زبور 6 آیت)۔ انسان کے لیے خُدا نے مقرر کیا تھا کہ وہ اِس زمین کو محکوم کرے (پیدایش 1باب28آیت) – ہمارے لیے مقرر تھا کہ ہم اِس زمین پر اختیار رکھنے کے مرتبے پر فائز ہوں؛ ہمیں ایک بہت اعلیٰ کردار عطا کیا گیا تھا اور ہم نے اِس زمین کے سبھی نباتات و حیوانات پر اپنا اختیار رکھنا تھا۔ بنی نو ع انسان کو اِس زمین پر ایک حاکم کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ اور باقی کی ہر ایک چیز اُس کے تابع تھی۔

خُدا کی طرف سے زمین اور اُس پر ہر طرح کی حیوانی زندگی کو محکوم کرنے کا حکم در اصل ہر ایک چیز کے حوالے سے مہارت حاصل کرنے کا حکم ہے۔ کسی بھی چیز کی حقیقی مہارت اُس چیز کے بارے میں مناسب سمجھ بوجھ کے بغیر نہیں حاصل کی جا سکتی۔ ایک موسیقار اُسی وقت وائلن کی مہارت حاصل کر سکتا ہے جب وہ صحیح معنوں میں سُر اور ساز کو سمجھے گا۔ بنی نوع انسان کی طرف سے عالمِ حیوانیات کو محکوم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم جانوروں کو اچھی طرح سے سمجھیں۔

کسی چیز پر حکمرانی کرنے کے اختیار کے ساتھ ساتھ اچھی طرح حکمرانی کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ زمین کو محکوم کرنے کے حکم کے اندر ایک فطری جوابدہی کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ یہ انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنی اُس حکمرانی کو اُس ذات کے اختیار میں رہتے ہوئے استعمال کرے جس نے اُسے یہ اختیار تفویض کیا تھا۔ ہر ایک چیز پر سارا اختیار صرف اور صرف خُدا کی ذات کو حاصل ہے (رومیوں 13باب1-5آیات)، اور وہ اپنا اختیار جس کو چاہے اپنی مرضی سے دیتا ہے۔ (دانی ایل 4باب17 آیت)۔ لفظ محکوم کرنے کا مطلب کسی پر تشدد یا بد سلوکی کرنا ہرگز نہیں ہے۔ اِس کا مطلب کسی چیز پر اِس طرح سے حکمرانی کرنا ہے جیسے کسی کھیت میں "کاشتکاری" کی جاتی ہے۔ اِس زمین کو محکوم کرنے کا خُدا کا حکم دراصل انسان کے لیے اُس کی برکت کا حصہ ہے۔ خُدا کی شبیہ پر بنائے جانے والے آدم و حوّا کے لیے ضروری تھا کہ وہ اِس زمین کے بہت ہی وسیع وسائل کو اپنی اور خُدا کی کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔ خُدا کی طرف سے یہ حکم انسان کو دئیے جانے کے باعث ہی با معنی بنتا ہے کیونکہ صرف انسان ہی کو اُس نے اپنی شبیہ پر تخلیق کیا ہے۔

جب خُدا نے انسانوں کو جانوروں پر اختیار دیا تو اِس کا مقصد اُن جانوروں کی دیکھ بھال کرنا، اُن کی نگہبانی کرنا اور اُنہیں درست طریقے سے اُن کی پوری صلاحیتوں کے مطابق استعمال کرنا تھا۔ جس وقت خُدا نے انسانوں کو جانوروں پر اختیار دیا اُس وقت انسان گوشت نہیں کھاتے تھے (پیدایش 1 باب 29آیت)۔ گوشت کھانا انسان کی طرف سے طوفانِ نوح کے بعد تک شروع نہیں ہوا تھا (پیدایش 9باب1-3آیات) اور یہ وہ وقت تھا جب جانور انسانوں سے خوفزدہ ہونا شروع ہو گئے تھے۔ بہرحال، اگرچہ خُدا نے جانوروں کے ساتھ ہمارے رویے اور عملی اقدام کو تبدیل کر دیا تھا اور اب وہ ہمارے لیے "گوشت" ہیں لیکن اب بھی یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اُن کے ساتھ نہایت احسن طریقے سے پیش آئیں۔ انسان کی جانوروں پر حکمرانی کا ہرگزی یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیں اُن جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کرنے یا اُن کا غلط استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔

جانوروں پر حکمرانی حاصل کرنے کے حکم سے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ انسانوں کی طرف سے ایسا انتظام ہونا چاہیے جس میں وسائل کو اُس طریقے سے استعمال کیا جائے جیسے خُدا نے انسانوں کے لیے مقرر کیا ہے۔ ہمیں اِس بات کو زیر ِ غور رکھنا چاہیے کہ بنی نوع انسان کو اِس زمین پر خُدا کی نمائندگی کرنے کا کام (اور برکت) دی گئی تھی۔ ہمارا ساری زمین پر غلبہ اور اختیار ہے اور ہم (خُدا کی شبیہ رکھتے ہوئے ) اِس ذمہ داری کے حامل ہیں کہ ہم اِس زمین پر ویسے ہی کام کریں گے جیسے کہ خُدا کرنا چاہتا ہے۔ کیا خُدا اپنی تخلیق کے ساتھ بد سلوکی کرتا ہے؟ جی نہیں۔ کیا خُدا اپنے اِس دُنیا کے وسائل کو استعمال کرنے کے حوالے سے غیر دانشمند ہے ؟ جی نہیں؟ کیا خُدا ظالم، خودغرض اور مُسرف ہے ؟ جی نہیں ۔ پھرہمیں بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ خُدا کی کی مخلوقات کا کسی بھی طرح کا غلط استعمال یا اُن کے ساتھ بد سلوکی خُدا کی طرف سے ملنے والے اصل حکم کا نتیجہ نہیں بلکہ گناہ کا نتیجہ ہے ۔ ہمیں اِس زمین پر کے انتظامات کو سنبھالنے کے لیے اپنی ذمہ داری کو خوش اسلوبی کے ساتھ پورا کرنا چاہیے حتیٰ کہ اُس وقت تک جب تک بھیڑیہ اور برّہ مسیح کی بادشاہت میں اکٹھے نہیں لیٹ جاتے (یسعیاہ 11باب6 آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اِس سے کیا مُراد ہے کہ خُدا نے انسانوں کو جانوروں پرا ختیار دیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries