settings icon
share icon
سوال

گھریلو تشدد کے بارے میں بائبلی نقطہ نظر کیا ہے؟

جواب


گھریلو تشدد کی تعریف کچھ یوں کی جا سکتی ہے کہ کسی ایسے شخص کے خلاف تشدد یا دھمکی آمیز فعل ہے جس کے ساتھ اس فعل کا مرتکب قریبی رشتے میں ہے یا گزشتہ وقت میں گہرے قریبی رشتے میں رہ چکا ہے ۔ گھریلو تشدد کی اصطلاح اکثر " تشدد زدہ بیوی" یا شاید کسی جوڑے کی زبانی بحث وتکرار کے تصور کو ذہن میں لاتی ہے جو اگر بڑھ جائے تو جسمانی مارپیٹ کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔ گھریلو تشدد عام طور پر بچّوں کے ساتھ زیادتی سے بھی جڑا ہوا ہوتا ہے ۔ گوکہ اس عمل میں بچّے جسمانی طور پر زخمی نہیں ہوتے لیکن والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ بد سلوکی ہوتے دیکھنا یا سُننا شدید نفسیاتی اثرات کا باعث بن سکتا ہے ۔

گھریلو تشدد طاقت اور اختیار کے بارے میں ہے ۔ اگرچہ تشدد کی اصطلاح میں جسمانی مار پیٹ کے اشارے پائے جاتے ہیں لیکن گھریلو تشدد یا بدسلوکی غیر جسمانی انداز میں بھی ہو سکتی ہے ۔ مثال کے طور پر بدسلوکی کرنے والا اپنے متاثرین کا جذباتی یا معا شی استحصال کر سکتا ہے ۔ زبانی زیادتی یا جنسی زیادتی بد سلوکی دیگر اشکال ہیں ۔ کوئی انسان جس بھی عمر، جنس ، سماجی و معاشی طبقے ، تعلیمی معیار یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو، وہ گھریلو تشدد کے عمل سے متاثر ہو سکتا ہے ۔

گھریلو بد سلوکی کو " تشددکے ایک چکر " کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ کشیدگی بڑھتی ہے ؛متاثرہ شخص بد سلوکی کرنے والے کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن بالآخر تشدد کا ایک واقعہ رونما ہو جاتا ہے ۔ بدسلوکی کرنے والا معافی مانگتا ہے اور شاید اس وعدہ کے ساتھ کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا یا متاثر ہ شخص کو تحائف دینے کے ذریعہ سے اسے منانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس کے بعد کشیدگی شروع ہونے سے پہلے پُر سکون وقت کا ایک دور آتا ہے ۔ اس چکرکے مراحل میں محض چند منٹ لگ سکتے ہیں یا یہ سالوں تک محیط ہو سکتے ہیں ۔ کسی کی مداخلت کی غیر موجودگی میں " منانے " اور پھر" سکون " سے رہنے کے اوقات اکثر غائب ہو جاتے ہیں

گھریلو تشدد خاندانوں کےلیے خدا کے منصوبے کے سخت خلاف ہے ۔ پیدایش 1اور 2باب شادی کے بندھن کودو لوگوں کے ایک بدن بننے کے طور پر پیش کرتے ہیں جس سے رشتے کو مضبوط ہونے میں مدد ملتی ہے ۔ افسیوں 5باب 21آیت باہمی فرمانبرداری کے بارے میں بات کرتی ہے ۔ افسیوں 5باب 22-24آیات بیوی کے اپنے شوہر کے تابع ہونے کی وضاحت کرتی ہے جبکہ 25-33آیات خود شوہر کے اپنی بیوی سے قربانی کی حد تک محبت کرنے کاذکر کرتی ہیں ۔ 1پطرس 3باب 1-7آیات بھی ایسی ہی ہدایات پیش کرتی ہیں ۔ 1کرنتھیوں 7باب 4آیت فرماتی ہے "بیوی اپنے بدن کی مختار نہیں بلکہ شوہر ہے۔ اِسی طرح شوہر بھی اپنے بدن کا مختار نہیں بلکہ بیوی ۔" دونوں ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور ایک دوسرے سے ایسی محبت رکھنے کےلیے بُلائے گئے ہیں جیسی مسیح نے ہم سے محبت رکھی ہے ۔ شادی مسیح اور کلیسیا کے باہمی رشتے کی تصویر ہے ۔ گھریلو تشدد یسوع کے کردار کے بالکل برعکس ہے ۔

خُدا کی طرف سے بچّوں پر گھریلو تشدد کی بھی مذمت کی گئی ہے ۔ 127زبور 3آیت فرماتی ہے "دیکھو! اَولاد خُداوند کی طرف سے میراث ہے اور پیٹ کا پھل اُسی کی طرف سے اَجر ہے"۔ خدا بچّوں کو والدین کے سپرد کرتا ہے اور اُن والدین کو چاہیے کہ وہ محبت سے اُن کی دیکھ بھال اور تربیت کریں ۔ افیسوں 6باب 4آیت فرماتی ہے " اَے اَولاد والو! تم اپنے فرزندوں کو غُصّہ نہ دِلاؤ بلکہ خُداوند کی طرف سے تربیّت اور نصیحت دے دے کر اُن کی پرورش کرو" ( کلسیوں 3باب 21آیت بھی دیکھیں )۔ بچّوں کو اپنے والدین کی فرمانبرداری کرنی چاہیے ( افسیوں 6باب 1-3آیات) اور اس لحاظ سے نظم وضبط اہم ہے ۔ لیکن نظم و ضبط تشدد اور بدسلوکی سے واضح طور پر مختلف ہے ۔

خدا کی پیروی کا تعلق دوسروں کو استعمال کرنے اور اُن پر قابو پانے کی بجائے دوسروں کی خدمت کرنے سے ہے ۔ یسوع نے اپنے شاگردوں سے فرمایا کہ "تم میں اَیسا نہ ہو گا بلکہ جو تم میں بڑا ہونا چاہے وہ تمہارا خادِم بنے۔ اور جو تم میں اوّل ہونا چاہے وہ تمہارا غلام بنے۔ چنانچہ اِبنِ آدمؔ اِس لئے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اِس لئے کہ خدمت کرے اور اپنی جان بہتیروں کے بدلے فدیہ میں دے" ( متی 20باب 26-28آیات)۔ ہمارے لیے اُس کا حکم ہے کہ تم " ایک دُوسرے سے مُحبّت رکھّو" ( یوحنا13باب 34آیات)۔ افسیوں 5باب 1-2آیات فرماتی ہیں کہ"پس عزیز فرزندوں کی طرح خُدا کی مانند بنو۔ اور محبّت سے چلو۔ جیسے مسیح نے تم سے محبّت کی اور ہمارے واسطے اپنے آپ کو خُوشبُو کی مانند خُدا کی نذر کر کے قربان کِیا"۔ مسیحیوں کو بُلایا گیا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں اور خصوصاً اپنے خاندان کے افراد سے قربانی کی حد تک محبت کریں ۔

ایسے لوگ جن کو اس وقت گھریلو تشدد کی صورتحال کا سامنا ہے انہیں چاہیے کہ وہ اُس سے محفوظ طریقے سے نکلنے کےلیے ہر ممکنہ کوشش کریں ۔ اکثر گھریلو تشدد کا شکار ہونے والے کسی شخص کےلیے سب سے خطرنا ک وقت وہ ہوتا ہے جب وہ گھر چھوڑ جاتا/ جاتی ہے ۔ پولیس سے رابطہ کرنا درست ہو سکتا ہے یا مدد کےلیے دیگر مقامی وسائل دستیاب ہو سکتے ہیں ۔ پاکستان میں اس لحاظ سے معلومات اور وسائل کے حصول کےلیے قومی امدادی ادارہ برائے گھریلو تشدد مدد گار ہو سکتا ہے ۔ ان کا رابطہ نمبر 1099 ہے ۔ جب گھریلو تشدد کا عمل جاری ہو تو حفاظتی قدم اُٹھانا اولین ذمہ داری بن جاتاہے ۔

حتی ٰ کہ متاثرین کے جسمانی طور پر محفوظ ہونے اور زخموں کے مندمل ہونے کے بعد بھی جذباتی اور نفسیاتی گھاؤ بہت گہرے ہوتے ہیں ۔ گھریلو تشدد کے سنگین رُوحانی اثرات بھی ہو سکتے ہیں ۔ متاثرین خدا پر بھروسہ کھو سکتے ہیں ۔ وہ ( خدا)اس طرح کی باتوں کو رونما ہونے ہی کیوں دیتا ہے ؟ کیا وہ قابل ِ اعتماد ہے ؟ کیا وہ واقعی مجھ سے محبت کرتا ہے ؟ جب میرے ساتھ بد سلوکی کی جارہی تھی تو وہ کہاں تھا؟ صحت یابی یا بحالی کے عمل سے گزرنے میں وقت لگتا ہے ۔ اس طرح کی صورت حال کے خلاف ردّعمل ضرور سامنے آنا چاہیے ۔ بدسلوکی پر غصے کا اظہار کرنا مناسب ہے ۔ اگر ہم غصے، الجھن ، غم، شرمندگی وغیرہ جیسی صورتِ حال کی سنگینی کو تسلیم نہیں کرتے تو ہم اس کے اثرات سے بحالی نہیں پا سکتے ۔ بہت دفعہ متاثرین معاف کرنے میں جلد بازی کر جاتے ہیں ۔ آخر کار معافی وہ چیز ہے جو متاثرہ شخص کو اس حالت سے آزادکرے گی ۔ لیکن اگر بدسلوکی کے گھاؤ کو پہلے تسلیم کیا اور اُن سے نمٹا نہیں جاتا تو حقیقی معافی کو فروغ نہیں دیا جا سکتا ۔ گھریلو تشدد کے شکار لوگوں کو ممکنہ طور پر ایک تربیت یافتہ مسیحی صلاح کار کی مدد کی ضرورت ہو گی تاکہ وہ اس بحالی کے عمل کے دوران اُن کے ساتھ ہو ۔

ہمیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ بد سلوکی کرنے والوں کی اپنی کوئی ضروریات نہیں ہیں یا اُس کی طرف سے بد سلوکی کے کئے جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے، اکثر ہم تقاضا کرتے ہیں کہ وہ بس بدسلوکی کو بند کر دے۔ ممکنہ طور پر ایسے کئی غیر حل شدہ مسائل ہیں جو اُن کے بد سلوک بننے کا باعث بنتے ہیں ۔ اگر کوئی بد سلوکی کرنے والا /والی اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کو تیار ہے اور مدد کا خواہشمند ہے تو اُس کے لیے اُمید موجود ہے ۔ ایک بار پھر مسیحی صلاح کاری اس سلسلے میں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے ۔

گھریلو تشدد کی ہر کہانی مختلف ہوتی ہے ۔ حالات اور لوگ اتنے متنوع ہیں کہ کوئی ایک مضمون اس مسئلے سے پوری طرح نمٹ نہیں سکتا ۔ عام طور پر بات کی جائے تو جب تک بدسلوکی کا تمام عمل ختم نہیں ہوتا، دونوں فریق انفرادی طور پر مشورت کا تجربہ نہیں کرتے اور دونوں فریق صلح کے خواہشمند نہیں ہوتے ۔ ایسے حالات میں شادی شُدہ زندگی کے بارے میں کی جانے والی صلاح کاری کسی کام نہیں آتی ۔ فیملی تھراپی کے لیے بھی یہی بات درست ثابت ہو گی ۔ بچّوں کو کبھی بھی بدسلوکی کی صورت حال میں نہیں ڈالا جانا چاہیے اور نہ اُن سے ایسی صورتِ حال میں رہنے کی توقع کی جانی چاہیے ۔ اُنہیں بدسلوکی کرنے والے لوگوں /والدین سے اُس وقت تک دور رکھا جانا چاہیے جب تک وہ خُدا ترسی کے ساتھ بچّوں کی پرورش کرنے کے بارے میں سیکھ نہیں لیتے۔

گھریلو تشدد خدا کے دل کو بھی ٹھیس پہنچاتا ہے۔ وہ اس عمل کے شکار لوگوں سے نا واقف نہیں اور نہ ہی اس نے انہیں ترک کیا ہے۔ انسانی رشتوں— خصوصاً خاندان کے افراد کے لیے اُس کا منصوبہ اُس کی اپنی ذات کی خوبصورت عکاسی ہے ۔ خاندان کا مطلب خدا کی محبت کو ظاہر کرنا ہے۔ جب کوئی گھر دُکھ کا مقام بن جاتا ہے تو یہ اُسے(خدا کو ) غمگین کر تاہے۔ گھریلو تشدد میں ملوث افراد- متاثرہ اور بدسلوکی کرنے والے دونوں - کے لیے خدا کی خواہش صحت یابی اور مکمل بحالی ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

گھریلو تشدد کے بارے میں بائبلی نقطہ نظر کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries