settings icon
share icon
سوال

اصولی/ڈوگمیٹک علمِ الٰہیات کیا ہے ؟

جواب


ڈوگمیٹک علمِ الٰہیات کو یہ نام یونانی اور لاطینی لفظ "ڈوگما" سے ملا ہے ۔ اِسکو جب علمِ الٰہیات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو اِس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ "ایک عقیدہ یا عقائد کا ایسا مجموعہ جس کی باضابطہ اور مستند طور پر تصدیق کی گئی ہو۔"بنیادی طور پر ڈوگمیٹک الٰہیات اُس "باضابطہ ادارتی " یا "ڈوگمیٹک " علمِ الٰہیات کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے ایک منظم کلیسیائی ادارہ تسلیم کرتا ہو جیسے کہ رومن کیتھولک کلیسیا، ڈچ اصلاحی کلیسیا وغیرہ۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ڈوگمیٹک علمِ الٰہیات کی اصطلاح پہلی بار 1659 میں ایل۔ رینہارڈ کی ایک کتاب کے عنوان کے طور پر سامنے آئی، یہ اصطلاح کلیسیائی اصلاح کاری کے بعد زیادہ وسیع پیمانے پر استعمال ہوئی اور اِس کا استعمال مسیحی عقائد کے اُن مضامین کو نامزد کرنے کے لیے کیا گیا جنہیں کلیسیا نے باضابطہ طور پر وضع کیا تھا۔ ڈوگمیٹک علمِ الٰہیات کی ایک اچھی مثال وہ عقائدی بیانات یا اصول ہیں جو ابتدائی کلیسیا کی مجالس میں مذہبی مسائل کو حل کرنے اور بدعتی تعلیمات کے خلاف موقف اختیار کرنے کی کوشش میں وضع کئے گئے تھے ۔ کلیسیا کی مجالس سے جو عقائد اور اصول سامنے آئے وہ تمام مسیحیوں کے نزدیک مستند خیال کئے جاتے تھے اور سبھی مسیحی خود کو اُنکا پابند خیال کرتے تھے کیونکہ کلیسیا نے باضابطہ طو رپر اُن کی تصدیق کی تھی۔ ڈوگمیٹک علمِ الٰہیات کا ایک مقصد یہ ہے کہ وہ کلیسیائی ادارے کو ایسا عقیدہ وضع کرنے اور اُسے دوسروں کے سامنے پیش کرنے کے قابل بنائے جو مسیحی ایمان کے لیے ضروری خیال کیا جائے اور اگر اُس کا انکار کیا جائے تو اُس انحراف کو بدعت خیال کیا جائے۔

ڈوگمیٹک علمِ الٰہیات پر بعض اوقات منظم علمِ الٰہیات کا گمان ہوتا ہے اور کئی بار تو دونوں اصطلاحات کو ایک ہی مقصد کے لیے ادل بدل کر استعمال بھی کر لیا جاتا ہے۔ بہرحال اِن دونوں کے درمیان لطیف مگر اہم فرق موجود ہے۔ باضابطہ علمِ الٰہیات اور ڈوگمیٹک علمِ الٰہیات کے درمیان فرق کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ لفظ "ڈوگما" نہ صرف کلام کے بیانات پر زور دیتا ہے بلکہ یہ اُن بیانات کے کلیسیائی کی طرف سے مستند اثبات پر بھی زور دیتا ہے۔ باضابطہ علمِ الٰہیات اور ڈوگمیٹک علمِ الٰہیات کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ باضابطہ علمِ الٰہیات کو کسی کلیسیا یا کلیسیائی ادارے کی طرف سے ادارتی منظوری یا توثیق کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ ڈوگمیٹک علمِ الٰہیات براہِ راست طور پر کسی خاص کلیسیائی ادارے یا فرقے کے ساتھ جُڑا ہوتا ہے ۔ ڈوگمیٹک علمِ الٰہیات عام طور پر اُنہی عقائد پر بات کرتا ہے جو با ضابطہ علمِ الٰہیات کے خاکے اور فہرست میں ہوتے ہیں ، لیکن ڈوگمیٹک علمِ الٰہیات ایسا کسی ایسے مخصوص مذہبی موقف کی بنیاد پر کرتا ہے جس کی کسی مخصوص فرقے یا کلیسیا کے ساتھ وابستگی ہوتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اصولی/ڈوگمیٹک علمِ الٰہیات کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries