settings icon
share icon
سوال

کیا شیطان موجود ہے ؟

جواب


بائبل بہت ہی واضح طور پر ہمیں شیطان کے وجود کے بارے میں آگاہ کرتی ہے۔ اُسے بہت ساری دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ انسان کے دشمن (پیدایش 3باب15آیت)، جھوٹ کے باپ (یوحنا 8باب44 آیت ب)، الزام لگانے والے(مکاشفہ 125باب10 آیت) کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔اُسے دئیے جانے والے نام "شیطان " کے معنی ہیں "مخالف/حریف/دشمن"۔ یسعیاہ 14باب12-17آیات بیان کرتی ہیں کہ شیطان بنیادی طور پر ایک فرشتہ تھا، لیکن پھر اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ خُدا کی عظمت کو حاصل کرے گا اور جو پرستش خُدا کے لیے ہے اُسےوہ اپنے لیے چاہتا تھا اور اِسی وجہ سے اُسے آسمان پر سے گرا دیا گیا (حزقی ایل 28باب11-17آیات)۔

جب سے اُسے(اُس کے حمایتی فرشتوں کے ساتھ) آسمان پر سے نکالا گیا ہے شیطان نے خُدا کی مخالفت کرنے اور زمین پر رہنے والے لوگوں کو خُدا کے خلاف بغاوت پر اکسانے کو اپنے وجود کا مقصد بنا لیا ہے۔ اِس دُنیا کے اندر شیطان کے پاس ایک مخصوص اختیار ہے؛ اُسے "اِس جہان کا خُدا" (2 کرنتھیوں 4باب4آیت) اور "ہوا کی عملداری کا حاکم "(افسیوں 2باب2آیت) کہا گیا ہے۔ اِسی لیے ہمیں کہا گیا ہے "تم ہوشیار اور بیدار رہو ۔ تمہارا مخالِف اِبلیس گرجنے والے شیرِ بَبر کی طرح ڈُھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے " (1 پطرس 5باب8آیت)۔

شیطان کی طرف سے ہماری زندگیوں میں تباہی مچانے کا ایک بہت بڑا طریقہ دھوکا بازی اور گمراہی ہے۔ جس وقت شیطان اِس حوالے سے ہمیں دھوکا دے لیتا ہے کہ خُدا کون ہے، خُدا کے مطابق ہم کون ہیں اور شیطان کون ہے تو اُ س وقت وہ ہماری زندگیوں میں طاقت اور اختیار کو حاصل کرتا ہے۔ "شیطان کا وجود نہیں ہے" یہ اُس شیطان ہی کی طرف سے بولا جانے والا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔

دُنیا کی تخلیق کے وقت خُدا نے بنی نوع انسان کو ساری زمین پر اختیار بخشا (پیدایش 1باب28 آیت)۔ جب آدم اور حوّا نے جانتے بوجھتے ہوئے خُدا کی نافرمانی کی اُس وقت اُنہوں نے اپنے اختیار کو کسی حد تک کھو دیا۔ جب اُنہوں نے شیطان کی بات سُنی تو اُنہوں نے اپنے آپ کواُس کےتابع کر دیا۔لیکن اپنی صلیب پر یسوع نے شیطان سے وہ اختیار چھین لیا"اب دُنیا کی عدالت کی جاتی ہے ۔ اب دُنیا کا سردار نِکال دِیا جائے گا۔ " (یوحنا 12باب13 آیت)۔ "جو شخص گُناہ کرتا ہے وہ اِبلیس سے ہے کیونکہ اِبلیس شرُوع ہی سے گُناہ کرتا رہا ہے ۔ خُدا کا بیٹا اِسی لئے ظاہِر ہُوا تھا کہ اِبلیس کے کاموں کو مِٹائے " (1 یوحنا 3باب8آیت)۔ وہ سب جو اب مسیح میں ہیں اُن پر شیطان کا کوئی اختیار نہیں ہے،لیکن جب کوئی شخص شیطان کے جھوٹ پر یقین کر کے خود کو اُس کے تابع کرتا ہے تو اُس صورت میں شیطان کا اُس پر اختیار ہوتا ہے۔

شیطان کے بارےمیں بہت ساری غلط معلومات ہالی وڈ اور دیگر غلط قسم کے ذرائع سے آتی ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اِس معاملے اور دیگر بہت سارے معاملات کی سچائی کو جاننے کے لیے بائبل سے سیکھیں۔ بائبل ہمیں واضح طور پر بتاتی ہے کہ شیطان موجود ہے اور بائبل ہمیں اِس بارے میں بھی آگاہی دیتی ہے کہ شیطان کام کس طریقے سے کرتا ہے۔ ہمارے پاس شیطان سے خوفزدہ ہونے کا کوئی سبب نہیں ہے، کیونکہ اُس کی طاقت خُدا کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ کم اور محدود ہے۔ لیکن بائبل ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہم رُوحانی جنگوں میں نادان نہ بنیں (افسیوں 6باب10-18 آیات)۔ یہاں پر زندگی گزارنے کی کلید یہ ہے کہ خُدا کے تابع ہو جائیں اور ابلیس کا مقابلہ کریں (یعقوب 4باب7آیت)، یہ جانتے ہوئے کہ مسیح نے اپنی صلیب پر اُسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے شکست دے دی ہے، اور آخر میں شیطان کی ابدی عدالت اور اُس کے انجام کا ہمیں حتمی یقین ہے (مکاشفہ 19 باب20 آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا شیطان موجود ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries