settings icon
share icon
سوال

کیا خُدا میری دُعائیں سُنتا ہے ؟

جواب


خُدا دُعاؤں سمیت سب کچھ سُنتا ہے۔ وہ خُدا ہے۔ کوئی چیز اُس سے پوشیدہ نہیں ہے (139 زبور 1-4 آیات)۔ وہ اپنی بنائی ہوئی ہر ایک چیز پر مکمل اختیار رکھتا ہے (یسعیاہ 46باب9-11 آیات)۔ پس سوال یہ نہیں ہے کہ آیا خُدا ہر ایک دُعا سے واقف ہے یا نہیں (وہ ہر ایک چیز سے واقف ہے)، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیاہماری دُعا کا جواب دینا خُدا کے ارادے میں ہے یا نہیں۔

خُدا چاہتا ہے کہ ہم دُعا کریں۔ اُس نے دُعا کو ایک ایسے ذریعے کے طور پر تخلیق کیا ہے جس کی مدد سے ہم اُس کی ذات سے لطف اندوز ہو سکتے (مکاشفہ 3باب 20آیت )، اپنے گناہوں کا اقرار کر سکتے (1 یوحنا 1باب 9آیت )، اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اُس سے التجا کر سکتے (50زبور 15آیت) اور اپنی مرضی کو اُس کی مرضی کے ساتھ ہم آہنگ کر سکتے ہیں (یرمیاہ 29باب 11-12آیات؛ لوقا 22باب 42آیت)۔ دُعا کی ایک قسم کے قبول ہونے کی ضمانت دی جاتی ہے۔ لوقا 18باب 13-14آیات توبہ کی دُعا کو بیان کرتی ہیں ۔ جب ہم عاجزی کیساتھ توبہ کرتے ہوئے خُداوند کو پکارتے ہیں، تو وہ ہمیں راستباز ٹھہرانے اور معاف کرنے کے لیے راضی ہوتا ہے۔

تاہم دُعا پر غور کرتے وقت یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کتابِ مقدس میں قلمبند خدا کے زیادہ تر وعدے اُس کے لوگوں کے لیے ہیں ۔ پرانے عہد نامے میں وہ وعدے اسرائیل اور اُن سب کے لیے تھے جو اُن کے ساتھ متحد تھے۔ نئے عہد نامے میں وہ وعدے خُداوند یسوع کے پیروکاروں کے لیے قلمبند کئے گئے تھے۔ دُعا سمیت مخصوص آیات کو الگ کرنا اور اُن کا کسی بھی ایسی صورت حال پر اطلاق کرنے کی کوشش کرنا جو ہم چاہتے ہیں کلامِ مقدس کا غلط استعمال کرنا ہے۔ اگرچہ خداوند سب کچھ جانتا اور سنتا ہے مگر اُس نے کچھ حالات واضح کئے ہیں جن میں وہ ہماری دُعائیں نہیں سنتا:

1. جب ہم توبہ کرنے اور تبدیل ہونے کی بجائے گناہ پر قائم رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو خدا ہماری دُعائیں نہیں سنے گا۔ یسعیاہ 1باب 15آیت میں خداوند فرماتا ہے کہ " جب تم اپنے ہاتھ پھیلاؤ گے تو مَیں تم سے آنکھ پھیر لُوں گا۔ ہاں جب تم دُعا پر دُعا کرو گے تو مَیں نہ سنُوں گا۔ تمہارے ہاتھ تو خُون آلُودہ ہیں۔" امثال 28باب 9آیت فرماتی ہے کہ "جو کان پھیر لیتا ہے کہ شرِیعت کو نہ سُنے اُس کی دُعا بھی نفرت انگیز ہے۔"

مثال کے طور پر: ایک جوان جوڑا جنسی بدکاری کے گناہ کی حالت میں ایک ساتھ رہ رہا ہے مگر اس کے با وجود وہ دونوں اپنے گھر پر خدا کی برکات کی دُعا کرتے ہیں۔

2. جب ہم اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق مانگتے ہیں تو خدا ہماری دُعا نہیں سنے گا۔ یعقوب 4باب 3آیت فرماتی ہے کہ " تم مانگتے ہو اور پاتے نہیں اِس لئے کہ بُری نیّت سے مانگتے ہو تاکہ اپنی عیش و عشرت میں خرچ کرو۔"

مثال کے طور پر: ایک آدمی اپنی تین سال پرانی کار سے مطمئن نہیں ہے اوراِس لیے وہ بالکل نئی اوربہت مہنگی کار کے لیے دُعا کرتا ہے۔

3. جب ہم اُس چیز کے لیے مانگتے ہیں جو ہمارے لیے اُس کی مرضی کے مطابق نہیں ہوتی ۔ 1 یوحنا 5باب 14آیت میں درج ہے کہ" ہمیں جو اُس کے سامنے دِلیری ہے اُس کا سبب یہ ہے کہ اگر اُس کی مرضی کے موافق کچھ مانگتے ہیں تو وہ ہماری سُنتا ہے۔"

مثال کے طور پر: ہم بڑی جانفشانی سے ایک نئی نوکری کے لیے دُعا کرتے ہیں لیکن خدا کا منصوبہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم جہاں ہیں وہیں رہیں اور اپنے ساتھی کارکنوں کے لیے گواہ بنیں۔

4. جب ہم ایمان سے نہیں مانگتے۔ مرقس 11باب 24آیت میں خداوند یسوع نے فرمایا ہے کہ"اِس لئے مَیں تم سے کہتا ہوں کہ جو کچھ تم دُعا میں مانگتے ہو یقین کرو کہ تم کو مِل گیا اور وہ تم کو مِل جائے گا۔" تاہم ایمان کسی طرح کی باتوں کے لیے یقین رکھنا نہیں ہے؛ بلکہ یہ کسی ذات پر یقین رکھنا ہے ۔ ہمارا ایمان خدا کے کردار اور اُس کی اِس خواہش کے مطابق ہے کہ وہ ہمیں برکت اور تسلی دے۔ جب ہم دُعا کرتے ہیں تو ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ وہ ہماری سنتا ہے اور ہر اُس درخواست کو پورا کرے گا جو ہمارے لیے اُس کی مرضی کے مطابق ہے (1یوحنا 5 باب 14-15آیات)۔

مثال کے طور پر: ہم خُدا سے مالی ضرورت کی فراہمی کے لیے التجا کرتے ہیں لیکن ہم مسلسل فکر مند رہتے اور اپنے خاندان کے اراکین اور ساتھی کارکنوں سے اس بارے میں بے یقینی کے بیانات دیتے رہتے ہیں جیسا کہ "غالباً مَیں اُس رقم کو کبھی حاصل نہیں کر پاؤں گا ۔"

خدا پاک ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہم بھی ویسے ہی پاک ہوں جیسا وہ پاک ہے (احبار 22باب 32آیت ؛ 1پطرس 1باب 16آیت )۔ جب وہ جانتا ہے کہ ہم بھی اُس پاکیزگی کے خواہاں ہیں تو وہ ہماری دُعاؤں کا اُن طریقوں سے جواب دینے میں خوش ہوتا ہے جو ہماری رُوحانی ترقی کو جاری رکھتے ہیں۔ خداوند یسوع نے فرمایا ہے کہ "اگر تم مجھ میں قائِم رہو اور میری باتیں تم میں قائم رہیں تو جو چاہو مانگو۔ وہ تمہارے لئے ہو جائے گا۔" ( یوحنا 15باب 7 آیت) ۔ مسیح میں قائم رہنا ہی دُعا کا رازہے تاکہ ہم جو کچھ مانگیں وہ اُس کے دل کے موافق ہو (37زبور 4آیت )۔ تب ہی ہم یہ اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ خدا ہماری دُعاؤں کو اِس ارادہ سے سنتا ہے کہ اُن کا جواب دے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا خُدا میری دُعائیں سُنتا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries