کیا خُدا موجود ہے؟


سوال: کیا خُدا موجود ہے؟

جواب:
کیا خُدا موجود ہے یا نہیں، یہ ایک ایسااہم ترین سوال ہے جو کوئی بھی شخص سوچ یا کر سکتا ہے۔ خُدا کے بارے میں مختلف طرح کے خیالات و تصورات تو ہر جگہ موجود ہیں لیکن اِس سوال کا جواب کہ "کیا خُدا موجود ہے؟" محض چند لمحات سے بہت زیادہ گہری توجہ کے ساتھ دئیے گئے وقت ، بہت زیادہ گہری سوچ اور کئی ایک ثبوتو ں کا تقاضا کرتا ہے۔ اور پھر آخر میں ہم انسانی تجربے، سائنس، منطق اور تاریخ میں جو کچھ دیکھتے ہیں وہ سب ہماری یہ جواب دینے میں رہنمائی کرتا ہے کہ: جی ہاں، خُدا موجود ہے۔

بہت دفعہ یہ سوال کچھ اِس طرح سے کیا جاتا ہے کہ "کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ خُدا موجود ہے؟"مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ سچائی بذاتِ خودقطعی اور حتمی ہے لیکن اُس کو ثابت کرنے کے قطعی اور حتمی ثبوت حقیقی منطق اور علمِ ریاضی سے باہر موجود نہیں ہیں۔اِسی وجہ سے عدالتیں قطعی اور حتمی ثبوت کا نہ تو تقاضا کرتی ہیں اور نہ ہی اُنہیں قبول کرتی ہیں ؛ اِس کی بجائے وہ "مبنی بر دلیل شکوک" کو خارج کرتی ہیں اور اُس ثبوت پر غور کرتی ہیں جو سب سے زیادہ امکانی /ممکنہ ہو۔

اِس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اُسی قدر غلط ہے کہ کسی سے "خُدا کے وجود" کے حوالے سے ایسے ثبوت کا تقاضا کیا جائے جنہیں کبھی بھی کوئی شخص رَد نہیں کر سکتا۔ حقیقی دُنیا کے اندر نہ تو ثبوت اور نہ ہی لوگ اِس طرح سے کام کرتے ہیں۔ حقائق کے آمنے سامنے آنا اور اُن کو قبول کرنا دو بالکل متضاد چیزیں ہیں۔ وہ لوگ جوکبھی بھی کسی بات کو نہ ماننے کے لیے پُرعزم ہیں اُن کے لیے بہت اچھے مبنی بر عقل دلائل اُبھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے شخص کے لیے جس نے نہ ماننے کا تہیہ کر رکھا ہے "پیش کیا جانے والا ثبوت" حقیقت میں ثبوت نہیں ہوتا چاہے ہر ایک اُس ثبوت کو تسلیم کر کے حقیقت کو مان لے۔ اِس لیے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی بڑے سے بڑے ثبوت سے بڑھ کر کسی شخص کی نیت بہت زیادہ اہم ہے کہ آیا وہ غیر جانبدار طور پر اُس ثبوت کو قبول کرے گا یا نہیں۔

اِس کا مطلب یہ ہے کہ صرف خُدا کا وجود ہی ضروری نہیں بلکہ "یقین" یا "ایمان" بھی ضروری ہے۔ کامل علم ہماری قابلیت سے باہر کی بات ہے۔ ہمارے تصورات تعصب اور طرفداری سے متاثر ہوتے ہیں۔ جو کچھ ہم "ایمان" رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم "جان " سکتے ہیں اِن دونوں کے درمیان میں ہمیشہ ہی ایک بہت بڑی خلیج موجود رہے گی۔ اِس بات کا اطلاق ایمانداروں اور تشکیک پرستوں پر بالکل یکساں ہوتا ہے۔ جتنی دفعہ بھی ہم کرسی پر بیٹھتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں یا پھر سیڑھیاں چڑھتے ہیں تو ہم اُس کی معمولی سے معمولی تفصیلات کو نہ ہی جان سکتے ہیں اور نہ ہی یاد رکھ سکتے ہیں۔ جتنا کچھ ہم جانتے ہیں بس اُس کی روشنی میں ہم اُن باتوں یا چیزوں کے حوالے سے بھی عمل کرتے ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے۔ ہم جو کچھ جانتے ہیں اُس پر یقین رکھتے ہیں اور یہی بات ہمیں عمل کرنے کی ترغیب دیتی ہے، اگرچہ ہماری کسی معاملے کے متعلق معلومات قطعی یا حتمی نہیں ہوتی (عبرانیوں 11باب 6آیت)۔

کوئی چاہے خُدا کو مانے یا نہ مانے اُس کے اِس ماننے یا نہ ماننے کے عمل کے لیے ایمان کی لازمی ضرورت ہوتی ہے۔ خُد اپر یقین رکھنے کے لیے اندھے ایمان کی ضرورت نہیں ہوتی (یوحنا 20باب 29آیت)،لیکن اِس کے ساتھ ہی یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ خُدا پر ایمان کسی بھی طرح کی بدسلوکی اور مخالف کی وجہ سے مغلوب بھی نہیں ہوتا (یوحنا 5باب 39-40آیات)۔ یہاں پر مناسب بات یہ ہے کہ اِس سوال کا جواب دینے کے لیے انسانی تجربات، منطق اور تجرباتی سائنس سے حاصل کردہ ثبوتوں کو دیکھا جائے۔

کیا خُدا موجود ہے؟ – انسانی تجربات

خُدا کے وجود کے بارے میں بات کرنا اکثر منطقی گفتگو کے طور پر شروع ہوتا ہے۔ اِس بات کی واضح سمجھ آتی ہے لیکن انسان ہمیشہ اِس انداز سے کام نہیں کرتے۔ کوئی بھی شخص اپنے خیال کو تشکیل دینے سے پہلے کھوکھلے نقطہ نظر کو لیکر خود کار طریقے سے منطقی شاہراہ پر گامزن ہونے کا انتظار نہیں کر رہا ہوتا۔ لو گ اپنے ارد گرد کی دُنیا کو دیکھ کر زندگی کے معاملات کی تشریح کرتے ہیں۔ تو پھر اِس بات کی طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ خُدا کی موجودگی کا معاملہ لوگوں کے تجربات سے شروع کیا جانا چاہیے۔ اُس کے بعد ہم اُن تصورات کا تجزیہ کرنے کے لیے منطق کو استعمال کر سکتے ہیں۔

خُدا کی موجودگی کے ثبوت کاانسان کی روزمرہ کی زندگی میں تجربہ کیا جا سکتا ہے (رومیوں 1باب19-20آیات؛ 19زبور1آیت؛ واعظ 3باب 11آیت) اور اِس میں ہمارے اندر فطری طور پر اخلاقیات کو ماپنے والا احساس بھی شامل ہے۔ اِس کا اطلاق ہمارے چاروں طرف نظر آنے والی کائنات کے نمونے (ڈیزائن ) پر بھی ہوتا ہے۔ انسانی زندگی یہ یقین کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ سچائی، دھوکہ بازی، محبت، نفرت، اچھائی اور بُرائی وغیرہ حقیقی اور بامعنی چیزیں ہیں۔انسانی تاریخ میں لوگوں کی ایک بڑی تعدادکا رجحان اِسی بات کو ماننے کی طرف رہا ہے کہ حقیقت ظاہری طور پر نظر آنے والی چیزوں سے ہمیشہ بڑی ہوتی ہے۔

ہمارے تجربات یقینی طور پر حتمی نہیں ہیں یا پھر ایسا نہیں کہ ہمیں صرف اُنہی پر ہی اکتفا کرنا ہے۔ خُدا ہمیں دعوت دینے کے لیے مکاشفہِ عام کا استعمال کرتا ہے(مکاشفہ 3باب 20 آیت) ۔ عام تجربات کا مقصد یہ تھا کہ وہ ہمیں اپنےسوالات کے اور بڑے پیمانے پر جوابات ڈھونڈنے کی تحریک دے (متی 7باب 7-8آیات)۔ وہ لوگ جو اُس دعوت کو نظراندا ز کرتے ہیں یا حقیر جانتے ہیں اُن کے پاس قطعی طور پر یہ عذر نہیں ہے کہ وہ یہ کہیں کہ وہ کچھ بھی جانتے نہیں تھے (رومیوں 1باب 18آیت؛ 14 زبور 1 آیت)

کیا خُدا موجود ہے؟ – انسانی منطق

خُدا کے موجود ہونے کے حوالے سے ہمارے پاس جو منطقی دلائل ہیں اُن میں سے تین اہم دلیلِ سببیت، دلیلِ غائی اور اخلاقیاتی دلیل ہیں۔

کائناتی دلیل جسے دلیلِ سببیت بھی کہتے ہیں اصل میں سبب اور اُس کے اثر کے بارے میں بات کرتا ہے۔ ہر ایک چیزکے وجود یعنی ہر ایک اثر کا کو ئی نہ کوئی سبب موجود ہے اور ہر ایک سبب ک پیچھے کوئی اُس سے بھی بڑا سبب موجود ہے۔ بہرحال سبب در سبب کی یہ کڑی ماضی میں لامحدودیت تک نہیں جا سکتی ورنہ اُس کڑی کا کہیں پر آغاز ہی نہیں ہوگا۔ یہاں پر منطق اِس سب کو شروع کرنے والی کسی ابدی قوت کے موجود ہونے کا تقاضا کرتا ہے جو بذاتِ خود کسی سبب کا اثر نہ ہو۔ ہماری یہ کائنات بڑے واضح طور پر نہ تو ابدی ہے اور نہ ہی خود بخود وجود میں آئی ہے۔ یہاں پر منطق خُدا کی ذات کی طرف اشارہ کرتا ہے: وہ جو کبھی تخلیق نہیں ہوااور اپنی ذات میں ابدی ہے اور تمام چیزوں کا ابدی سبب ہے وہی در اصل حقیقت کا ابدی سبب ہے۔

دلیلِ غائی کو آسان زبان میں کائنات میں پائے جانے والے ڈیزائن کی دلیل بھی کہا جا سکتا ہے اور یہ کائنات کے اندر اُس کی ساخت کا معائنہ کرتی ہے۔ بڑے ترین کہکشائی پیمانے، ہمارا شمسی نظام، ہمارا ڈی این اے، ایٹم سے بھی چھوٹے چھوٹے ذرات کے حصے – ہر ایک چیز یہ تاثر دیتی ہے کہ اُسے بڑے ہی بامقصد طور پر تخلیق کیا گیا ہے۔ کائنات کی یہ خاصیت اِس قدر طاقتور ہے کہ بڑے سے بڑے دہریے بھی کائنات کے اندر پائے جانے والے نمونے یعنی ڈیزائن پر بات کرنے یا اُسکی وضاحت کرنے سے کتراتے ہیں۔

ایٹم سے بھی چھوٹے ذرات یا قوتوں میں کچھ بھی یہ اشارہ نہیں کرتا کہ اُنہیں اِسی طرح ہی ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اگر وہ بالکل اِسی طرح نہ ہوتے جیسے وہ ہیں تو پیچیدہ اشیاء اور زندگی کا وجود نا ممکن ہو جاتا۔ زندگی کو حقیقی ہونے سے پہلے ممکن ہونے کی ضرورت ہے اوراِس کے لیے ایسے اجسام یا ذرات کی کئی درجنوں کائناتوں کا باہمی طور پر ملکر اِس انداز سے کام کرنا کہ جسے ہمارا ذہن سمجھ ہی نہیں سکتا زندگی کے وجود کو ممکن بناتا ہے۔ سائنس نے نہ تو کبھی بے حیاتی میں سے حیات کے پیدا ہونے کا تجزیہ کیا ہے اور نہ ہی اِس کی کوئی تفصیل بیان کی ہے، اور پھر یہ زندگی ایک دم عضویات کا انتہائی پیچیدہ نظام بھی ظاہر کرتی ہے۔ وہ تمام ماہرینِ آثارِ قدیمہ جو کسی غار کی دیوار پر یہ لکھا ہو دیکھیں "مَیں یہاں ہوں" وہ عالمگیر سطح پر اِس بات کو فرض کر لیں گے کہ یہ تحریر کسی انسان کے پُر حکمت عمل کا نتیجہ ہے۔ اِس کے ساتھ ہی اگر ہم دیکھیں تو انسانی ڈی این اے میں اِس قسم کی کوڈنگ ہوئی ہے جو دُنیا کا کوئی بہترین انجینئر کبھی کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ثبوتوں کا وزن منطقی لحاظ سےاِس سب کو بیان کرنے کے لیے ایک بہت پُر حکمت نمونہ ساز – یعنی خُداکے وجود کی حمایت کرتا ہے۔

اخلاقی دلیل اچھائی اور بُرائی ، اخلاقیات اور ایسے دیگر تصورات پر بات کرتی ہے۔یہاں پر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اِس بحث میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ موجودہ طور پر کیا ہے، بلکہ اِس پر بات کی جاتی ہے کہ کونسی چیز یا کونسا رویہ کیسا ہونا چاہیے۔ اخلاقی اصول مکمل طور پر ایسی کسی بھی مخلوق کی ذات کا حصہ نہیں ہو سکتے جو خود بخود ارتقاء پذیر ہوئی ہو، خود غرض اور خونخوار ہو اور ہر ایک قیمت پر جینا چاہتی ہو، یعنی اپنی زندگی کے لیے کچھ بھی کر جانے کو تیار ہو۔ غیر طبعی چیزوں میں وہ تصور جو انسانی دماغ سوچتا ہے اخلاقی اصطلاحات میں بہت ہی حیرت انگیز ہے۔ اِس کے علاوہ اخلاقیات کے جو مشمولات ہیں وہ دُنیا کی تمام تہذیبوں اور انسانی تاریخ میں یکساں ہیں۔

مزید برآں اگر اخلاقی تصورات پر بات کی جائے تو اِس کی کئی ایک شاخیں سامنے آنا شروع ہو جائیں گی۔ یا تو اخلاقی اصول مکمل طور پر نسبتی ہیں (یعنی ہر ایک شخص کا اخلاقیات کا اپنا ہی پیمانہ ہے، ہرکسی کا اچھائی اور بُرائی کا اپنا اپنا معیار ہے) اِس لیے یہ بالکل بے معنی اور فضول ہیں یا پھر وہ کسی لاتبدیل ابدی معیار کی بنیاد پر قائم ہیں۔ انسانی تجربات قطعی طور پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کرتے کہ اخلاقیات کچھ بھی نہیں ہوتی۔ اِس بات کی سب سے زیادہ معقول وضاحت کہ لوگ کیوں اخلاقی انداز میں سوچتے اور اخلاقی نظریات کو پیش کرتے ہیں یہ ہے کہ اخلاقی اصول ایک ایسے قانون یا اصول بنانے والی ہستی کی طرف سے اچھائی اور بُرائی کے معیار کو جاننے والے پیمانے کے طور پر دئیے گئے ہیں جسے ہم خُدا کہتے ہیں۔

کیا خُدا موجود ہے؟ – انسانی سائنس

اوپر بیان کردہ منطقی دلائل انسانی تجربات و تجزیات کی بنیاد پر اخذ کئے گئے ہیں۔ بگ بینگ تھیوری جیسے نظریات ایک ایسی کائنات کے وجود کا کوئی مناسب سائنسی جواز پیش نہیں کرتی جو ابدی نہیں ہے۔ بالکل اِسی طرح ڈی این اے کی ساخت کو بھی دیکھئے۔ تجرباتی ڈیٹا بائبل میں بیان کردہ خالق کے وجود کے بیان اور تصور کی تصدیق کرتا ہے جبکہ اِس کائنات کے وجود میں آنے کے دیگر جتنےبھی نظریات ہیں جیسے کہ "ابدی کائنات یا خود بخود پیدا ہو جانے والی زندگی " اُن کی تردید کرتا ہے۔

علمِ آثارِ قدیمہ بھی بائبل کے بیانات کی تصدیق کرتی ہے۔ وہ لوگ، واقعات اور مقامات جن کا کلامِ مُقدس کے اندر ذکر ملتا ہے اُن کی علمِ آثارِ قدیمہ کے غیر مسیحی علماء کی دریافتوں نے ہی تصدیق کی ہے۔ بہت ساری ایسی دریافتیں اُس وقت سامنے آئیں جب بہت سے تشکیک پرستوں نے یہ کہنے کی کوشش کی کہ بائبلی بیانات حقیقی نہیں بلکہ افسانوی ہیں۔

تاریخ اور ادب بھی خُدا کے وجود کے بار ے میں ثبوت پیش کر کے اِس حقیقت کی تصدیق میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ بائبل مُقدس کامحفوظ کیا جانا یا محفوظ رہنا بھی اِس کی ایک عمدہ مثال ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ بائبل کا جو اصل متن ہے وہ تاریخ کے واقعات کے اِس قدر نزدیک ہے تو اِس کی حقانیت اور زیادہ بڑے پیمانے پر اُبھر کر سامنے آتی ہے۔ دُنیا کی تہذیبوں، اخلاقیات، انسانی حقوق اور جدید سائنس کی پیدایش پر جس قدر زیادہ یہودی اور مسیحی اثر پایا جاتا ہے وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ بائبل سچائی پر مبنی ہے۔

کیا خُدا موجود ہے؟– خُدا ہمارے ساتھ

اوپر بیان کردہ تصورات کی ہر ایک قسم کا تعلق علم کے وسیع تر عنوانات سے جُڑا ہوا ہے جس پر کئی ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ اِس کے باوجود خُدا کا موجود ہونا بڑے ہی عمدہ انداز میں اِن ساری سائنسوں کے علاوہ انسان کے اپنے تجربات میں ظاہر ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے لیے کسی دوسرے کے سامنے یہ ثابت کرنا ناممکن ہو کہ آپ "خوش" ہیں، لیکن اِس بات سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ آپ واقعی خوش ہیں۔یہاں پر یہ کہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اندرونی تجربات اُس بیرونی سچائی سے جو ہم تجربے سے معلوم کرتے زیادہ وزن رکھتے ہیں۔ لیکن پیچیدہ سچائیاں کی اکثر ذاتی تجربات کے ذریعے سے تصدیق ہوتی ہے۔ تبدیل شُدہ زندگیاں، اصلاح پذیر رویہ جات اور دُعاؤں کا جواب سبھی ہمارے اِن ذاتی تصورات کا حصہ ہیں کہ خُدا موجود ہے۔

سچائی کا ذاتی ادراک خُدا کی موجودگی کے بارے میں جاننے کاسب سے زیادہ پُر زور طریقہ ہے اور یہ خُدا کی مرضی ہے کہ ہر ایک انسان اِس ادراک یا احساس کا تجربہ کرے۔ خُدا خود انسان بن کر اِس زمین پر آیا (2 کرنتھیوں 4باب6آیت)، تاکہ ہم خُدا کے ساتھ ایک شخصی تعلق رکھ سکیں(یوحنا 14باب 6آیت)۔ وہ جو پُورے خلوص کے ساتھ خُدا کی تلاش کرتے ہیں وہ اُسے پا لیں گے (متی 7باب 7-8آیات)، اور پھر نتیجے کے طور پر رُوح القدس کی ہمیشہ قائم رہنے والی حضوری میں رہیں گے(یوحنا 14باب 26-27 آیات)۔

اِس لیے یہ سوال کہ "کیا خُدا موجود ہے" ایک قطعی ثبوت کا تقاضا نہیں کرتا، لیکن ہم لوگوں کی اُن باتوں کی طرف رہنمائی ضرور کر سکتے ہیں جہاں پر وہ ثبوت حاصل کر سکتے ہیں۔ خُدا کے وجود کو قبول کرنا در اصل اندھے کنویں میں چھلانگ لگانے جیسا ہرگز نہیں ہے۔ یہ ایک ایمان سے بھرپور قدم ہے جو کوئی بھی شخص ایک بہت اندھیری جگہ سے ایک ایسے روشن کمرے میں رکھتا ہے جہاں پر بہت ساری چیزیں مکمل طور پر واضح ہو جاتی ہیں۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
کیا خُدا موجود ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں