settings icon
share icon
سوال

اِس کا کیا مطلب ہے کہ ہمیں دنیا سے محبت نہیں رکھنی ہے ؟

جواب


1 یوحنا 2باب 15-16آیات فرماتی ہیں کہ " نہ دُنیا سے مُحبّت رکھّو نہ اُن چیزوں سے جو دُنیا میں ہیں۔ جو کوئی دُنیا سے مُحبّت رکھتا ہے اُس میں باپ کی مُحبّت نہیں۔ کیونکہ جو کچھ دُنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زِندگی کی شَیخی وہ باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دُنیا کی طرف سے ہے۔" مگر یوحنا 3باب 16آیت اِن الفاظ کے ساتھ شروع ہوتی ہے " کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اَیسی مُحبّت رکھّی۔۔۔۔۔"۔ پس خدا دنیا سے محبت رکھتا ہےلیکن ہمیں محبت نہیں رکھنی؟ یہ ظاہری تضاد کیوں ہے ؟

بائبل میں دنیا کی اصطلاح زمین اور طبعی کائنات کا حوالہ دے سکتی ہے (عبرانیوں 1باب 2آیت ؛ یوحنا 13باب 1آیت) مگر اکثر یہ انسانی نظام کی طرف اشارہ کرتی ہے جو خدا سے متصادم ہے (متی 18باب 7آیت ؛ یوحنا 15باب 19آیت؛ 1یوحنا 4باب5آیت )۔ جب بائبل کہتی ہے کہ خدا دنیا سے محبت کرتا ہے تو یہ اِس پر بسنے والے انسانوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے (1 یوحنا 4باب 9آیت)۔ اور اُس کے فرزندوں کی حیثیت ہمیں دوسرے لوگوں سے محبت رکھنی چاہیے (رومیوں 13باب 8آیت ؛ 1 یوحنا 4باب 7آیت ؛ 1 پطرس 1باب 22آیت)۔ نیک سامری کی تمثیل یہ واضح کرتی ہے کہ ہم اس بات کا چناؤ نہیں کر سکتے کہ ہمیں کس سے محبت رکھنی ہے اور کس سے نہیں (لوقا 10باب 30-37آیات)۔

جب ہمیں دنیا سے محبت نہ رکھنے کے لیے کہا جاتا ہےتو بائبل دنیا کی اقدار کے مسخ شدہ نظام کا حوالہ دے رہی ہوتی ہے۔ اس دنیا کا حاکم شیطان ہےاور اُس کا اپنااقدارکا نظام ہے جو خدا کے نظام کے برعکس ہے (2 کرنتھیوں 4باب 4آیت)۔ 1 یوحنا 2باب 16آیت درست طور پر بیان کرتی ہے کہ شیطان کا نظام کس چیز کو فروغ دیتا ہے: جسم کی خواہش، آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی۔ ہر قابل تصور گناہ کو اِن تینوں برائیوں میں سمویا جا سکتا ہے۔

جب ہم مسیح کے پاس آتے ہیں تو دنیا وہ چیز ہے جسے ہم چھوڑ دیتے ہیں ۔ یسعیاہ 55باب 7آیت فرماتی ہے کہ خدا کے پاس آنے میں ہمارے اپنے طریقوں اور خیالات کو ترک کرنا شامل ہے۔ اپنی کتاب The Pilgrim’s Progress میں جان بنیان ایماندار کی اُس حالت کی تصویر کشی کرتا ہے جب "اُس کی آنکھیں آسمان کی طرف ہوتی ہیں" اور ایک "بہترین کتاب" پکڑے ہوئے وہ "دنیا کو اپنے پیچھے چھوڑے " کھڑا ہوتا ہے (صفحہ نمبر 34)۔

دنیا گناہ کو اکثر سراہتی ہے۔ ہالی ووڈفلمی صنعت ہمیں گنہگاروں پر رشک کرنے اور بے عقلی سے اپنے آپ کا "خوبصورت لوگوں" کے ساتھ موازنہ کرنے کی ترغیب دیتی ہے (دیکھیں امثال 23باب 17آیت)۔ اکثر " فلمی ستاروں" کی مقبولیت ہم میں ہماری اپنی زندگیوں کے لیے ناپسندیدگی پیدا کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے ۔تشہیر کرنے والے اس دنیا سے محبت کرنے کے ہمارے فطری رجحان کا استحصال کرتے ہیں اور مارکیٹنگ کی زیادہ تر مہمات کسی نہ کسی طرح سے آنکھوں کی خواہش، جسم کی خواہش، یا زندگی کی شیخی کو اُکساتی ہیں۔

دنیا سے محبت کرنے کا مطلب دنیا کے مال و دولت ، فلسفوں اور ترجیحات کے لیے وقف ہونا ہے ۔ خُدا اپنے لوگوں کو اپنی ترجیحات کا اُس کے ابدی نظام کی اقدار کے مطابق تعین کرنے کے لیے کہتا ہے ۔ ہمیں " پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کی تلاش " کرنی ہے ( متی 6باب 33آیت )۔ کوئی بھی انسان دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا (متی 6باب 24آیت)اور ہم ایک ہی وقت میں خدا اور دنیا دونوں کے لیے مخلص نہیں ہو سکتے۔

جب ہم مسیح میں ایمان کے وسیلے خُدا کے خاندان میں داخل ہوتے ہیں تو خُدا ہمیں دنیا کے معمول سے باہر نکلنے کی صلاحیت بخشتا ہے (2 کرنتھیوں 5باب 17آیت)۔ ہم ایک دوسری بادشاہی کے شہری بن جاتے ہیں (فلپیوں 1باب 27آیت؛ 3باب 20آیت)۔ ہماری خواہشات کا رُخ آسمان کی طرف ہو جاتا ہے اور ہم ابدی خزانہ جمع کرنا شروع کر دیتے ہیں (لوقا 12باب 33آیت ؛ متی 19باب 21آیت ؛ 1 تیمتھیس 6باب 18-19 آیات)۔ ہم سمجھ جاتے ہیں کہ اصل میں عارضی دُنیا نہیں بلکہ ابدیت اہم ہے اور ہم دنیا سے محبت کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

دنیا سے اُس طور سے محبت کرنا جاری رکھنا جس طرح غیر ایماندار رکھتے ہیں ہماری رُوحانی نشوونما کو کمزور کر دے گا اور ہمیں خدا کی بادشاہی کے لیے بے پھل کر دے گا (متی 3باب 8آیت ؛ لوقا 6باب 43-45آیات؛ یوحنا 15باب 1-8آیات)۔ یوحنا12باب 25آیت میں یسوع اس تصور کو ایک قدم آگے لے کر جاتا ہے جب اُس نے فرمایا کہ "جو اپنی جان کو عزِیز رکھتا ہے وہ اُسے کھو دیتا ہے اور جو دُنیا میں اپنی جان سے عداوت رکھتا ہے وہ اُسے ہمیشہ کی زِندگی کے لئے محفُوظ رکھّے گا"۔ دنیا سے محبت نہ رکھنے کا عمل ہماری اپنی زندگیوں کا بھی احاطہ کرتا ہے۔ یسوع نے کہا ہے کہ اگر ہم کسی بھی چیز کو اُس سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں تو ہم اُس کے لائق نہیں ہیں (متی 10باب 37-38آیات)۔

بائبل میں عموماً دنیا کی اصطلاح شیطان کے زیر اختیار اُس بُرے نظام کی طرف اشارہ کرتی ہے جو ہمیں خدا کی عبادت سے دور لے جاتا ہے۔ جان کیلون نے کہا ہےکہ "انسانی دل بُت بنانے والا ایک کارخانہ ہے" ہم کسی بھی چیز کا بُت بنا سکتے ہیں۔ ہمارے دلوں کی ایسی کوئی بھی شدید خواہش جو خُدا کی طرف سے اُس کے جلال کے لیے نہیں رکھی گئی ہے وہ ایک بُت کی صورت اختیارکر سکتی ہے (1 کرنتھیوں 10باب 31آیت )۔ دنیا سے محبت رکھنا بُت پرستی ہے (1 کرنتھیوں 10باب 7، 14آیات)۔ لہٰذا جبکہ ہمیں دنیا کے لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا گیا ہےہمیں ہر اُس چیز کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے جو ہماری خُدا کے ساتھ اعلیٰ ترین محبت کا مقابلہ کرتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اِس کا کیا مطلب ہے کہ ہمیں دنیا سے محبت نہیں رکھنی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries