میں ایک طلاق شدہ ہوں۔ کیا میں بائيبل کے مطابق دوبارہ شادی کرسکتا ہوں؟



سوال: میں ایک طلاق شدہ ہوں۔ کیا میں بائيبل کے مطابق دوبارہ شادی کرسکتا ہوں؟

جواب:
"ہم اکثر اس طرح کے سوالات حاصل کرتے ہیں کہ میں فلاں فلاں وجہ سے طلاق شدہ ہوں۔ کیا میں دوبارہ شادی کرسکتا ہوں"؟ "میرا دو مرتبہ طلاق ہوچکا ہے — پہلی بار میرے شریک حیات کے زناکاری کی وجہ سے اور دوسری بار متبائن ہونے کی وجہ سے یعنی میل نہ کھانے کی وجہ سے"۔ مجھے ایک آدمی کے بارے میں یاد ہے جس کا تین بار طلاق ہو چکا تھا — پہلی بار متبائن ہونے کی وجہ سے، دوسری بار اس کے خود کی زناکاری کی وجہ سے اور تیسری بار اس کی بیوی کی زناکاری کی وجہ سے۔ ایسی حالت میں کیا ہم ایک دوسرے سے شادی کرسکتے ہیں؟ یہ سوالات ایسے ہیں جن کا جواب دینا مشکل ہے کیونکہ کلام پاک اس معاملہ میں ایک طلاق کے بعد دوبارہ شادی کے لئے مختلف مناظر ناموں کی تفصیل پیش نہیں کرتی۔

ہم یقین کے ساتھ معلوم کرسکتے ہیں کہ ایک شادی شدہ جوڑے کے لئے خدا کا منصوبہ یہ ہے کہ دونوں میاں بیوی جب تک زندہ ہیں تب تک اپنی شادی میں برقرار رہیں (پیدایش 2:24؛ متی 19:6)۔ طلاق کے لئے صرف ایک خاص اجازت زناکاری کے سبب سے ہے (متی 19:9)، اور یہاں تک کہ یہ مسیحیوں کے بیچ کا معاملہ ہے۔ دوسرا امکان ہے بے وفائی (شادی کے بعد کسی ایک کا فلاں مرد یا عورت کو لیکر گھر سے فرار ہوجانا) — جب ایک غیر ایماندار مرد یا عورت ایک ایماندار شریک حیات کو چھوڑ دیتا ہے ( 1 کرنتھیوں15- 7:12)۔ حالانکہ یہ عبارت خاص طور سے دوبارہ شادی کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ ایک شادی میں باندھے جاکر صرف برقرار رہنے کو کہتا ہے۔ جسمانی نظیریں، جنسی یا سنجیدہ جزباتی گالیاں ایک دوسرے سے جدا ہونے کے لئے کافی ہوسکتی ہیں مگر کلام پاک طلاق یا دوسری شادی کے لئے ان گناہوں کی بابت ذکر نہیں کرتا۔

ہم یقین کے ساتھ دو باتیں جانتے ہیں کہ خدا طلاق سے نفرت کرتا ہے۔ (ملاکی 2:16)، اور خدا رحم کرنے والا اور بخشنےوالا اور بڑا مہربان ہے۔ ہر ایک طلاق گناہ کا نتیجہ ہے چاہے وہ شوہر کی طرف سےیا بیوی کی طرف سے ہو۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیاخدا طلاق کو معاف کر سکتاہے؟ بالکل کر سکتاہے! طلاق دیگر گناہوں کی نسبت کم معافی کے قابل نہیں ہے۔ مسیح یسوع پر ایمان کے ذریعہ تمام گناہوں کی معافی دستیاب ہے۔ (متی 26:28؛ افسیوں 1:7)۔ اگر خدا طلاق کا گناہ معاف کرتا ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دوبارہ شادی کے لئے آزاد ہیں؟ایسا ضروری نہیں ہے۔ کبھی کبھی خدا لوگوں کو اکیلے رہنے کے لئے بھی بلاتاہے (1 کرنتھیوں 8- 7:7)۔ اکیلے رہنے کا نظریہ یہ نہیں ہونا چاہے کہ یہ خداکی طرف سے لعنت یا سزا ہے، مگر اس کو خداکی خدمت گزاری دل و جان سےکرنے کا ایک سنہرا موقع بطور سمجھنا چاہئے (1 کرنتھیوں 36 – 7:32)۔ خداکاکلام ہم سے کہتاہے کہ "لیکن اگر ضبط نہ کر سکیں تو بیاہ کر لیں کیونکہ بیاہ کرنا مست ہونے سے بہتر ہے" (1 کرنتھیوں 7:9)۔ شاید اس کو کبھی کبھی ایک طلاق کے بعد دوبارہ شادی کرنے کے لئے بھی نافذ کیا جاسکتا ہے۔

آپ جو طلاق شدہ ہیں کیا آپ کو دوبارہ شادی کرنی چاہئے یا کر سکتے ہیں؟ ہم اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے۔ آخر کار یہ آپ پر منحصر کرتاہے، آپ کے شریک حیات کے امکانی قوت پر منحصر کرتا ہے ضروری طور سے خدا پر منحصر کرتاہے۔ ہم آپ کو صرف یہی نصیحت دے سکتے ہیں کہ آپ خدا سے سمجھ (حکمت) کے لئے دعا کریں کہ وہ آپ سےکیا کرانا چاہتا ہے (یعقوب 1:5)۔ کھلے دل سے دعا کریں۔ سچ مچ خداوند سے مانگیں کہ وہ آپ کے دل میں اپنی مرضی کو رکھے۔ (زبور 37:4)۔ خداوند کی مرضی کی تلاش کریں (امثال 6 – 3:5) اور اس کی رہنمائی کے پیچھے ہو لیں۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



میں ایک طلاق شدہ ہوں۔ کیا میں بائيبل کے مطابق دوبارہ شادی کرسکتا ہوں؟