الہٰی دیکھ بھال کیا ہے؟



سوال: الہٰی دیکھ بھال کیا ہے؟

جواب:
الہٰی دیکھ بھال خُدا کی حکمرانی ہے جس کے ذریعہ وہ حکمت اور محبت کے ساتھ کائنات میں ہر چیز کا خیال رکھتا ہے۔ الہٰی دیکھ بھال کی تعلیم دعویٰ کرتی ہے کہ ہر چیز مکمل طور پر خُدا کے کنٹرول میں ہے۔ وہ پوری کائنات پر(زبور 103:19)، مادی دُنیا پر (متی 5:45)، اقوام کے معاملات میں (زبور 66:7)، انسانی کامیابیوں اور ناکامیوں میں (لوقا 1:52)اور اپنے لوگوں کی محافظت کے معاملے میں مکمل طور پر حکمران ہے۔ یہ تعلیم اِس نظریہ کی براہ راست مخالفت میں کھڑی ہے کہ کائنات کو اتفاق یا قسمت کی طرف سے کنڑول کیا جاتا ہے۔

خُدا الہٰی دیکھ بھال کے وسیلہ سے اپنی مرضی کو پورا کرتا ہے۔ اِس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ اُسکے مقاصد پورے ہوتے ہیں، خُدا چیزوں کی فطرتی ترتیب کے وسیلہ سے انسان کے معاملات اور کاموں کو کنڑول کرتا ہے۔ فطرت کے قوانین کائنات میں خُدا کے کاموں سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ فطرت کے قوانین کے پاس ذاتی قدرت نہیں ہے، بلکہ یہ وہ اصول ہیں جن کو خُدا نے چیزوں کو کنڑول کرنے کے لئے قائم کیا ہے۔ یہ صرف "قوانین" ہیں جو خُدا نے خود بنائے ہیں۔

الہٰی دیکھ بھال کا انسانی مرضی اور اِرادہ کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ انسانوں کے پاس آزاد مرضی ہے، لیکن ہم یہ بھی جانتےہیں کہ خُدا حکمران ہے۔ اِس بات کو سمجھنا مشکل ہے کہ اِن دونوں سچائیوں کا آپس میں کیا تعلق ہے، لیکن ہم بائبل میں اِن دونوں کی مثالیں دیکھتے ہیں۔ ترسس کا ساؤل اپنی مرضی سے کلیسیا کو تکلیف دے رہا تھا، لیکن وہ خُدا کی دیکھ بھال کے خلاف "پَینے کی آر پر لات مار رہا تھا" (اعمال 26:14)۔

خُدا گناہ سے عداوت رکھتا ہے اور گنہگاروں کا انصاف کرے گا۔ خُدا گناہ کا خالق نہیں ہے، وہ کسی کو بھی گناہ کرنے کے لئے نہیں آزماتا (یعقوب 1:13)، اور نہ ہی وہ گناہ کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ اِس کے ساتھ ہی، خُدا ایک مخصوص پیمانہ پر گناہ کی اجازت بھی دیتا ہے۔ اگرچہ وہ گناہ سے عداوت رکھتا ہے،لیکن عارضی طور پر گناہ کی اجازت دینے کی کوئی وجہ ضرور ہے۔

الہٰی دیکھ بھال کی ایک مثال بائبل میں یوسف کی کہانی میں ملتی ہے۔ خُدا نے یوسف کے بھائیوں کو اجازت دی کہ وہ یوسف کو اغوا کریں، اور اُسے غلام کے طور پر بیچ دیں، اور پھر اپنے باپ کے ساتھ جھوٹ بولیں۔ یہ گناہ تھا اور خُدا اِس سے ناخوش تھا۔ پھر بھی، اُن کے تمام گناہ ایک بہت بڑی بھلائی کا سبب بنے۔ یوسف مصر میں ہی مر گیا جہاں وہ وزیرِ اعظم بنا تھا۔ یوسف نے سات سالہ قحط کے دوران اپنے گھرانے سمیت دُور کے علاقے کے لوگوں کو زندہ رکھنے کے لئے اپنی حثییت کا استعمال کیا۔ اگر قحط شروع ہونے سے پہلے یوسف مصر میں نہ ہوتا، اسرائیل سمیت لاکھوں لوگ مر جاتے۔ خُدا نے یوسف کو مصر میں کیسے بُلایا؟ خُدا نے اُس کے بھائیوں کو گناہ کرنے کی آزادی اور اجازت دی۔پیدائش 21-15:50 میں خُدا کی الہٰی دیکھ بھال براہ راست تسلیم کی جاتی ہے۔

الہٰی دیکھ بھال کی ایک اور واضح مثال یہوداہ اِسکر یوتی کی کہانی میں ملتی ہے۔ خُدا نے یہوداہ کو جھوٹ بولنے، دھوکہ دینے، سازش کرنے، چوری کرنے، اور آخر کار خُداوند یسوع کو اُس کے دشمنوں کے ہاتھوں میں پکڑوانے کی اجازت دی۔ یہ سب کچھ بہت بڑا گناہ تھا، اور خُدا ناخوش تھا۔ پھر بھی، یہوداہ کی تمام سازشیں اور دھوکے بہت بڑی بھلائی انسان کی نجات کا سبب بنے۔ یسوع کو گناہوں کی قربانی بننے کے لئے رومیوں کے ہاتھوں سے مرنا پڑا۔ اگر یسوع مصلوب نہ ہوتا، ہم ابھی بھی اپنے گناہوں میں ہوتے۔ خُدا مسیح کو صلیب تک کیسے لایا؟ خُدا نے یہوداہ کو بُرے اعمال کا ایک سلسہ انجام دینے کے لئے آزادی اور اجازت دی۔ یسوع واضح طور پر لوقا 22:22 میں بیان کرتا ہے، "کیونکہ ابنِ آدم تو جیسا اُس کے واسطے مقرر ہے جاتا ہی ہے مگر اُس شخص پر افسوس ہے جِس کے وسیلہ سے وہ پکڑوایا جاتا ہے!"۔

یاد رکھیں یسوع نے خُدا کی حاکمیت ("ابنِ آدم تو جیسا اُس کے واسطے مقرر ہے جاتا ہی ہے") اور انسان کی ذمہ داری/مرضی ("مگر اُس شخص پر افسوس ہے جِس کے وسیلہ سے وہ پکڑوایا جاتا ہے") دونوں کے بارے میں سکھایا۔ دونوں میں ایک توازن پایا جاتا ہے۔

الہٰی دیکھ بھال رومیوں 8:28 میں بھی سکھائی گئی ہے، "اور ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر خُدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اُن کے لئے جو خُدا کے اِرادہ کے مُوافق بُلائے گئے ہیں"۔ سب چیزوں سے مراد "سب چیزیں" ہی ہیں۔ خُدا کبھی بھی کنڑول سے باہر نہیں ہوا۔ شیطان کے بدترین کام بھی ، یہاں تک کہ بُرائی کے کام جس سے دُنیا برباد ہو رہی ہے، عظیم حتمی مقصد کے لئے ہو رہے ہیں۔ ہم ابھی اِن کو دیکھ نہیں سکتے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ خُدا کسی وجہ سے اِن کاموں کی اجازت دے رہا ہے اور خُدا کا منصوبہ بھلا ہی ہے۔ یہ شیطان کے لئے مایوس کُن ہی ہو گا۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ شیطان کیا کرتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اُس کے منصوبے پورے نہیں ہوں گے۔

الہٰی دیکھ بھال کی تعلیم کا خلاصہ اِس طرح کیا جا سکتا ہے، "خُدا نے ازل میں، اپنی مرضی کی مشورت سے، سب کچھ مقرر کر دیا جو واقع ہو گا، پھر بھی، خُدا کسی بھی مفہوم میں گناہ کا خالق نہیں ہے، اور نہ ہی انسانی ذمہ داری کو ختم کیا گیا ہے"۔ بنیادی مقاصد ثانوی اسباب (مثال کے طور پر، فطرت کے قوانین، اور انسانی انتخاب) سے ہیں جس کے ذریعے خُدا اپنی مرضی کو پورا کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، خُدا عام طور پر اپنی مرضی پوری کرنے کے لئے بالواسطہ کام کرتا ہے۔

بعض اوقات خُدا اپنی مرضی کو پورا کرنے کے لئے براہ راست بھی کام کرتا ہے۔ یہ وہ کام ہیں جنہیں ہم معجزات کہتے ہیں۔ معجزہ خُدا کا اپنی مرضی کو پورا کرنے کے لئے مختصر وقت کے لئے چیزوں کے قدرتی قوانین کو روکنا ہے۔ دمشق کے راستہ پر ساؤل پر گرنے والی تیز روشنی خُدا کی براہ راست مداخلت کی مثال ہے (اعمال 9:3)۔ بِتونیہ جانے کے لئے پُولس کی منصبوبے کی ناکامی خُدا کی بالواسطہ رہنمائی کی ایک مثال ہے (اعمال 16:7)۔ دونوں الہٰی دیکھ بھال کی مثالیں ہیں۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ خُدا کا براہ راست یا بالواسطہ تمام چیزوں میں مداخلت کا نظریہ انسان کی آزاد مرضی کے امکان کوتباہ کر دیتا ہے۔ اگر خُدا ہر چیز پر مکمل اختیار رکھتا ہے تو ہم اپنے فیصلے کرنے میں حقیقی طور پر آزاد کیسے ہو سکتے ہیں؟ لیکن دوسری جانب، اگر خُدا تمام چیزوں پر مکمل اختیار نہیں رکھتا تو پھر وہ ہماری نجات کی ضمانت کیسے دے سکتا ہے؟ پُولس فلپیوں 1:6 میں فرماتا ہے کہ، "اور مجھے اِس بات کا بھروسہ ہے کہ جس نے تم میں نیک کام شروع کیا ہے وہ اُسے یسوع مسیح کے دن تک پُورا کر دیگا"۔ اگر خُدا کو سب چیزوں پر کنڑول نہیں ہے تو پھر اُس کا یہ وعدہ اور دوسرے تمام الہٰی وعدے مشکوک ہیں۔ اگر خُدا کے پاس مستقبل مکمل طور پر نہیں ہے، تو ہمارے پاس مکمل سکیورٹی موجود نہیں کہ ہماری نجات مکمل ہو جائے گی۔

اِس کے علاوہ ، اگر خُدا تمام چیزوں کو کنڑول نہیں کرتا، تو پھر وہ حاکمِ اعلیٰ نہیں ہے۔ اور اگر وہ حاکمِ اعلیٰ نہیں ہے تو وہ خُدا نہیں ہے۔ لہذہ، خُدا کے کنڑول سے باہر حالات کو برقرار رکھنے کی قیمت اِس بات پر یقین رکھنا ہے کہ خُدا واقعی خُدا نہیں ہے۔ اور اگر آزاد مرضی الہٰی دیکھ بھال سے جیت جائے تو پھر آخر کون خُدا ہے؟کیا ہم ہیں۔ انسان کا خُدا ہونا بائبل کے مطابق کسی کے لئے بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ الہٰی دیکھ بھال کسی بھی طرح ہماری آزادی کو تباہ نہیں کرتی۔ بلکہ الہٰی دیکھ بھال ہماری آزادی کو حساب میں لاتی ہے اور خُدا کی لامحدود حکمت میں، خُدا کی مرضی کو پورا کرنے کا ایک طریقہ قائم کرتی ہے۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



الہٰی دیکھ بھال کیا ہے؟