settings icon
share icon
سوال

الٰہی پروردگاری کیا ہے؟

جواب


الٰہی پروردگاری خُدا کی حکمرانی ہے جس کے ذریعہ وہ حکمت اور محبت کے ساتھ کائنات میں ہر چیز کا خیال رکھتا ہے۔ الٰہی پروردگاری کی تعلیم دعویٰ کرتی ہے کہ ہر چیز مکمل طور پر خُدا کے اختیار اور قابو میں ہے۔ وہ پوری کائنات پر(103زبور 19آیت)، مادی دُنیا پر (متی 5 باب 45آیت)، اقوام کے معاملات میں (66زبور7آیت)، انسانی کامیابیوں اور ناکامیوں میں (لوقا 1 باب 15آیت)اور اپنے لوگوں کی محافظت کے معاملے میں مکمل طور پر حکمران ہے۔ یہ تعلیم اِس نظریے کی براہ راست مخالفت میں کھڑی ہے کہ کائنات محض اتفاق یا قسمت سے چل رہی ہے ۔

خُدا الٰہی پروردگاری کے وسیلہ سے اپنی مرضی کو پورا کرتا ہے۔ اِس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ اُسکے مقاصد اُسکی مرضی کے مطابق پورے ہوں، خُدا چیزوں کی فطرتی ترتیب کے وسیلہ سے انسان کے معاملات اور کاموں پر اختیار رکھتا ہے۔ فطرت کے اصول کائنات میں خُدا کے کام کرنے کی تصویر کشی سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ فطرت کے اصولوں کے پاس ذاتی قدرت نہیں ہے نہ ہی وہ اپنے طور پر کام کرتے ہیں، بلکہ یہ وہ اصول ہیں جن کو خُدا نے چیزوں پر اپنا اختیار رکھنےکے لئے قائم کیا ہے۔ یہ فطری اصول محض "قوانین" ہیں جو خُدا نے خود بنائے ہیں۔

الٰہی پروردگاری کا انسانی مرضی اور اِرادےکے ساتھ کیا تعلق ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ انسانوں کے پاس آزاد مرضی ہے، لیکن ہم یہ بھی جانتےہیں کہ خُدا حکمران ہے۔ اِس بات کو سمجھنا مشکل ہے کہ اِن دونوں سچائیوں کا آپس میں کیا تعلق ہے، لیکن ہم بائبل میں اِن دونوں کی مثالیں دیکھتے ہیں۔ ترسیس کا ساؤل اپنی مرضی سے کلیسیا کو تکلیف دے رہا تھا، لیکن وہ خُدا کی پرودگاری کے خلاف "پَینے کی آر پر لات مار رہا تھا" (اعمال26 باب 14آیت)۔

خُدا گناہ سے عداوت رکھتا ہے اور گنہگاروں کا انصاف کرے گا۔ خُدا گناہ کا خالق نہیں ہے، وہ کسی کو بدی سے نہیں آزماتا (یعقوب 1باب13آیت)، اور نہ ہی وہ گناہ کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ اِس کے ساتھ ہی، خُدا ایک مخصوص پیمانے پردُنیا میں گناہ کی اجازت بھی دیتا ہے۔ اگرچہ وہ گناہ سے عداوت رکھتا ہے،لیکن عارضی طور پر گناہ کی اجازت دینے کی کوئی وجہ ضرور ہے۔

الٰہی پروردگاری کی ایک مثال بائبل میں یوسف کی کہانی میں ملتی ہے۔ خُدا نے یوسف کے بھائیوں کو اجازت دی کہ وہ یوسف کو اغوا کریں، اور اُسے غلام کے طور پر بیچ دیں، اور پھر اپنے باپ کے ساتھ جھوٹ بولیں۔ یہ گناہ تھا اور خُدا اِس سے ناخوش تھا۔ پھر بھی، اُن کے تمام گناہ ایک بہت بڑی بھلائی کا سبب بنے۔ یوسف مصر میں ہی مر گیا جہاں وہ وزیرِ اعظم بنا تھا۔ یوسف نے سات سالہ قحط کے دوران اپنے گھرانے سمیت دُور کے علاقے کے لوگوں کو زندہ رکھنے کے لئے اپنی حثییت کا استعمال کیا۔ اگر قحط شروع ہونے سے پہلے یوسف مصر میں نہ ہوتا، اسرائیل سمیت لاکھوں لوگ مر جاتے۔ خُدا نے یوسف کو مصر میں کیسے بُلایا؟ خُدا نے اُس کے بھائیوں کو گناہ کرنے کی آزادی اور اجازت دی۔پیدائش 50 باب 15-21آیات میں خُدا کی الٰہی پروردگاری براہ راست تسلیم کی جاتی ہے۔

الٰہی پروردگاری کی ایک اور واضح مثال یہوداہ اِسکر یوتی کی کہانی میں ملتی ہے۔ خُدا نے یہوداہ کو جھوٹ بولنے، دھوکہ دینے، سازش کرنے، چوری کرنے، اور آخر کار خُداوند یسوع کو اُس کے دشمنوں کے ہاتھوں پکڑوانے کی اجازت دی۔ یہ سب کچھ بہت بڑا گناہ تھا، اور خُدا ناخوش تھا۔ پھر بھی، یہوداہ کی تمام سازشیں اور دھوکے بہت بڑی بھلائی یعنی انسان کی نجات کا سبب بنے۔ یسوع کو گناہوں کی قربانی بننے کے لئے رومیوں کے ہاتھوں سے مرنا پڑا۔ اگر یسوع مصلوب نہ ہوتا، ہم ابھی بھی اپنے گناہوں میں ہوتے۔ خُدا مسیح کو صلیب تک کیسے لایا؟ خُدا نے یہوداہ کو بُرے اعمال کا ایک سلسلہ سر انجام دینے کے لئے آزادی اور اجازت دی۔ یسوع واضح طور پر لوقا 22باب 22آیت میں بیان کرتا ہے، "کیونکہ ابنِ آدم تو جیسا اُس کے واسطے مقرر ہے جاتا ہی ہے مگر اُس شخص پر افسوس ہے جس کے وسیلہ سے وہ پکڑوایا جاتا ہے!"

یاد رکھیں یسوع نے خُدا کی حاکمیت ("ابنِ آدم تو جیسا اُس کے واسطے مقرر ہے جاتا ہی ہے") اور انسان کی ذمہ داری/مرضی ("مگر اُس شخص پر افسوس ہے جس کے وسیلہ سے وہ پکڑوایا جاتا ہے") دونوں کے بارے میں سکھایا۔ دونوں میں ایک توازن پایا جاتا ہے۔

الٰہی پروردگاری رومیوں 8 باب 28 آیت میں بھی سکھائی گئی ہے، "اور ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر خُدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اُن کے لئے جو خُدا کے اِرادہ کے مُوافق بُلائے گئے ہیں"۔ سب چیزوں سے مراد "سب چیزیں" ہی ہیں۔ خُدا کبھی بھی بے اختیار نہیں ہوا۔ شیطان کے بدترین کام بھی ، یہاں تک کہ بُرائی کے کام جس سے دُنیا برباد ہو رہی ہے، عظیم حتمی مقصد کے لئے ہو رہے ہیں۔ ہم ابھی اِن کو دیکھ نہیں سکتے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ خُدا کسی وجہ سے اِن کاموں کی اجازت دے رہا ہے اور خُدا کا منصوبہ بھلا ہی ہے۔ یہ شیطان کے لئے مایوس کن ہی ہو گا۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ شیطان کیا کرتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اُس کے منصوبے پورے نہیں ہوں گے۔

الٰہی پروردگاری کی تعلیم کا خلاصہ اِس طرح کیا جا سکتا ہے، "خُدا نے ازل میں، اپنی مرضی کی مشورت سےوہ سب کچھ مقرر کر دیا جو واقع ہو گا، پھر بھی، خُدا کسی بھی مفہوم میں گناہ کا خالق نہیں ہے، اور نہ ہی انسانی ذمہ داری کو ختم کیا گیا ہے"۔ بنیادی مقاصد ثانوی اسباب (مثال کے طور پر، فطرت کے قوانین، اور انسانی انتخاب) سے ہیں جس کے ذریعے خُدا اپنی مرضی کو پورا کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، خُدا عام طور پر اپنی مرضی پوری کرنے کے لئے بالواسطہ کام کرتا ہے۔

بعض اوقات خُدا اپنی مرضی کو پورا کرنے کے لئے براہ راست بھی کام کرتا ہے۔ یہ وہ کام ہیں جنہیں ہم معجزات کہتے ہیں۔ معجزہ خُدا کا اپنی مرضی کو پورا کرنے کے لئے مختصر وقت کے لئے چیزوں کے قدرتی قوانین کو معطل کرنا ہے۔ دمشق کے راستہ پر ساؤل پر گرنے والی تیز روشنی خُدا کی براہ راست مداخلت کی مثال ہے (اعمال 9 باب 3آیت)۔ بِتونیہ جانے کے لئے پُولس کے منصبوبے کی ناکامی خُدا کی بالواسطہ رہنمائی کی ایک مثال ہے (اعمال 16باب 7آیت)۔ دونوں الٰہی پروردگاری کی مثالیں ہیں۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ خُدا کا براہ راست یا بالواسطہ تمام چیزوں میں مداخلت کا نظریہ انسان کی آزاد مرضی کے امکان کوتباہ کر دیتا ہے۔ اگر خُدا ہر چیز پر مکمل اختیار رکھتا ہے تو ہم اپنے فیصلے کرنے میں حقیقی طور پر آزاد کیسے ہو سکتے ہیں؟ لیکن دوسری جانب، اگر خُدا تمام چیزوں پر مکمل اختیار نہیں رکھتا تو پھر وہ ہماری نجات کی ضمانت کیسے دے سکتا ہے؟ پُولس فلپیوں 1باب 6آیت میں کہتا ہے کہ، "اور مجھے اِس بات کا بھروسہ ہے کہ جس نے تم میں نیک کام شروع کیا ہے وہ اُسے یسوع مسیح کے دن تک پُورا کر دیگا"۔ اگر خُدا کو سب چیزوں پر اختیار نہیں ہے تو پھر اُس کا یہ وعدہ اور دوسرے تمام الٰہی وعدے مشکوک ہیں۔ اگر خُدا کے پاس مستقبل مکمل طور پر نہیں ہے، تو ہمارے پاس مکمل تحفظ موجود نہیں کہ ہماری نجات مکمل ہو جائے گی۔

اِس کے علاوہ ، اگر خُدا تمام چیزوں پر اختیار نہیں رکھتا تو پھر وہ حاکمِ اعلیٰ نہیں ہے۔ اور اگر وہ حاکمِ اعلیٰ نہیں ہے تو وہ خُدا نہیں ہے۔ لہذا، خُدا کے اختیار سے باہر حالات کو برقرار رکھنے کی قیمت اِس بات پر یقین رکھنا ہے کہ خُدا واقعی خُدا نہیں ہے۔ اور اگر آزاد مرضی الٰہی پروردگاری سے جیت جائے تو پھر آخر کون خُدا ہے؟کیا ہم ہیں۔ انسان کا خُدا ہونا بائبل کے مطابق کسی کے لئے بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ الٰہی پروردگاری کسی بھی طرح ہماری آزادی کو تباہ نہیں کرتی۔ بلکہ الٰہی پروردگاری ہماری آزادی کو حساب میں لاتی ہے اور خُدا کی لامحدود حکمت میں، خُدا کی مرضی کو پورا کرنے کا ایک طریقہ قائم کرتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

الٰہی پروردگاری کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries