نظام فطرت کا اصول کیا ہے اور کیا یہ کلام پاک سے تعلق رکھتا ہے؟



سوال: نظام فطرت کا اصول کیا ہے اور کیا یہ کلام پاک سے تعلق رکھتا ہے؟

جواب:
نظام فطرت چیزوں کو سلسلہ میں لانے کا ایک طریقہ ہے۔ ایک بندوبست ہے، ایک نظام ہے یا ایک انتظام ہے۔ علم الہی میں ایک نظام فطرت وقت کے یا زمانے کے عرصہ کا بندوبست ہے؛ ہرایک نظام فطرت کا الہی طور سے مقررہ میعاد ہے۔ نظام فطرت کا اصول دو خاص مختصیں (خصوصیت رکھنے والے) ہیں:1) ایک با اصول طور پر حرف کلام کا ترجمہ خاص طور سے کلام پاک کی نبوت اور 2) اسرائیل کے بے مثل ہونے کا نظریہ خدا کے پروگرام میں کلیسیا سے علحیدہ کرنے بطور- قدیم یونانی طرز کا نظام فطرت کا اصول انسانیت کے لئے خدا کے منصوبہ میں سات نظام فطرت کی پہچان کراتا ہے۔

نظام فطرت کے ماہر کلام پاک کے حرف بہ حرف ترجمہ کو بہترین تشریحی مسودہ بطور قائم رکھے ہوئے ہیں۔ حرف بہ حرف ترجمہ جو ہر ایک لفظ کے معنی دیتا ہے وہ عام طور سے ہر دن کے استعمال میں ہے۔ نشان کے لئے تقریری شکلوں کے لئے اور اسباق کے سلسلہ کے نمونوں کے لئے منظوری دی گئی ہے۔ یہ سمجھا گیا ہے کہ یہاں تک کہ نشان اور تصویری اور تمشیلی کہاوتیں یہ سب کے سب حرف بہ حرف معنی رکھتے ہیں۔ اس لئے مثال کے طور پر جب کلام پاک مکاشفہ کے 20 باب میں، ایک ہزار سال کی حکومت کا ذکر کرتا ہے تو نظام فطرت کے ماہرین کو ہو بہو ایک ہزار سال کی حکومت کا عرصہ بطور ہی ترجمہ پیش کرتے ہیں (یعنی مسیح کی بادشاہی کا نظام فطرت)، جبکہ ترجمہ کرنے کے سوا اور کوئی وجہ نہیں ہے۔

کم سے کم دو وجوہات ہیں کہ کیوں لفظی ترجمہ کلام کے نظریہ کا بہترین طریقہ ہے۔ پہلا یہ کہ فلسفانہ طور سے خود زبان کا مقصد ضرورت ہے کہ ہم حرف بہ حرف لفظوں کا ترجمہ کریں۔ زبان خدا کی طرف سے عنایت ہوئی ہے اس مقصد کا ترجمہ کریں۔ زبان خدا کی طرف سے عنایت جوئی ہے اس مقصد سے کہ ہم ایک دوسرے کے تعلقات میں آئیں۔ الفاظ معنوں کا برتن ہے۔ دوسرا مقصد بائیبل کے مطابق ہونے سے ہے۔ پرانے عہدنامے میں یسوع مسیح کی بابت ہر ایک نبوت حرف بہ حرف پورے ہوئے تھے۔ یسوع کی پیدایش، خدمت گزاری، موت اور قیامت یہ سب کے سب جو ہو بہو ویسے ہی پورے ہوئے جیسا کہ پرانے عہدنامے میں پیشین گوئی ہوئی تھی۔ نبوت حرف بہ حرف تھے۔ ایسا کوئی مسیحانہ نبوت نہیں تھا جو نئے عہدنانے میں حرف بہ حرف پورے نہ ہوئے ہوں۔ حرف بہ حرف پورا ہونے کا یہ طریقہ سنجیدہ طور سے بحث کے تحت ہے۔ اگر ایک حرف بہ حرف ترجمہ نوشتوں کے مطالعہ میں استعمال نہیں کیا گیا تو وہاں اعتراض والی کوئی معیار نہیں ہے جس کے ذریعہ سے بائیبل کو سمجھاجائے۔ ہر ایک شخص بائیبل کوجیسے اس نے معقول سمجھا اور روح کی ھدایت ہوئی ترجمہ کرنے کے قابل ہوگا۔ بائیبل کا ترجمہ اس بات پر تفریض کردیگا کہ" یہ عبارت مجھ سے کیا کہتی ہے" بجائے اس کے کہ یوں کہا جائے کہ "بائیبل کیا کہتی ہے"۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ پہلے سے ہی موجودہ زمانہ میں بائیبل کے مطالعہ کا معاملہ بہت زیادہ رائج ہے۔

نظام فطرت کا الہی علم یہ سکھاتا ہے کہ خدا کے دو فرق فرق لوگ ہیں: ایک اسرائیل اور دوسری کلیسیا-نظام فطرت کے ماہر اعتقاد کرتے ہیں کہ نجات ہمیشہ سے ایمان کے وسیلہ سے رہا ہے۔ خدا میں، پرانے عہدنامے میں، خاص طور سے نئے عہدنامے کے اندر خدا بیٹے میں۔ نظام فطرت کے ماہر اس بات پر قائم ہیں کہ خدا کے منصوبہ میں اسرائیل کو کلیسیا کا قائم مقام نہیں بنایا۔ اور یہ کہ پرانے عہدنامےکے وعدے جو اسرائیل کے لئے ہے وہ کلیسیا کو منتقل نہیں کرائے گئے ہیں۔ نظام فطرت کا اصول یہ تعلیم دیتاہے کہ پرانے عہدنامے میں خدا نے اسرائیل کے لئے جو وعدے کئے تھے (ملک سے متعلق، افزائش نسل سے متعلق اور برکات سے متعلق) وہ آخرکار ایک ہزار سال کے کے درمیان پورے ہونگےجسطرح مکاشفہ 20 باب میں ذکر کیا گیا ہے۔ نظام فطرت کے ماہر اعتقاد کرتے ہیں کہ جس طرح موجودہ زمانہ میں خدا اپنی کلیسیا پر خاص دھیان دیتے ہوئے اس پر لو لگائے ہوئے ہے وہ مستقبل میں اسرائیل پر بھی دوبارہ دھیان دیگا۔ (دیکھیں رومیوں 11-9 ابواب اور دانی ایل 9:24)۔

نظام فطرت کے ماہر اس بات کو سمجھاتے ہیں کہ بائیبل کو سات نظام فطرت میں تنظیم وتقسیم کیا گیا ہے: معصومی (پیدایش 1:13،7(، ضمیری (پیدایش 3:8 سے 8:22)، انسانی حکومت (پیدایش 9:1 سے 11:32)، وعدہ (پیدایش 12:11 سے خروج 19:25)، شریعت کادیا جانا (خروج 20:1 سے اعمال 2:4)، فضل (اعمال 2:4 سے مکاشفہ 20:3)، ایک ہزار سال کی حکومت (مکاشفہ6- 20:4۔ دوبارہ سے ہم آپکو بتانا چاہتے ہیں کہ یہ نظام فطرت نجات کے لئے راستے نہیں ہیں۔ مگر خدا جو انسان سے رشتہ رکھتا ہے اس کا اسلوب بیان کرتا ہے۔

ہر ایک نظام فطرت ایک جانا پہچانا نمونہ کو شامل کرتا ہے جس میں خدا نے اپنے لوگوں کے ساتھ نظام فطرت میں رہتے ہوئے کام کیا وہ ذیل کی باتوں کا نمونہ پیش کرتا ہے-1) ایک ذمہ داری 2) ایک ناکامی 3) ایک فیصلہ اور آخر میں 4) ایک فصل تاکہ آگے بڑھتے رہیں۔

نظام فطرت کا اصول ایک نظام بطور مسیح کی دوسری آمد کے ایک ہزار سال کی حکومت کے ایک ترجمہ میں نتیجہ پیش کرتا ہے۔ حسب معمول طریقہ سے کلیسیا کے اٹھائے جانے سے پہلے کے معنے میں نظام فطرت کو خلاصہ کرنا ایک الہی علم کا طریقہ ہے جو بائیبل کی نبوت کے لئے حرف بہ حرف ترجمہ کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے، اسرائیل اور کلیسیا کے درمیان ایک فرق کی پہچان کراتا ہے۔ اور فرق فرق نظام یا بندوبست میں بائیبل کی تنظیم کرتا ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



نظام فطرت کا اصول کیا ہے اور کیا یہ کلام پاک سے تعلق رکھتا ہے؟