settings icon
share icon
سوال

نظریہ ادواریت کیا ہے، اور کیا یہ بائبلی نظریہ ہے؟

جواب


ادواریت مختلف چیزوں کو ترتیب دینے کا ایک طریقہ ہے – ایک انتظامی عمل ، ایک نظام یا پھر ایک انتظام ہے۔ علمِ الہیات کی رُو سے ادواریت وقت کے کچھ مخصوص حصوں کا الہٰی انتظام ہے؛ ہر ایک دور خُدا کی طرف سے مخصوص کیا گیا خاص وقت ہے۔ نظریہ ادواریت وہ الہیاتی نظام ہے جویہ مانتا اور تعلیم دیتا ہے کہ اِس دُنیا میں خاص معاملات کو دیکھنے اور چلانے کی غرض سے خُدا نے خاص ادوار کو مخصوص کیا۔ نظریہ ادواریت کی دو اہم اور بنیادی خصوصیات ہیں۔

‌أ. کلامِ مُقدس کا مسلسل لفظی و لغوی ترجمہ ، بالخصوص نبوتوں کا،

‌ب. خُدا کے منصوبے میں اسرائیل کی ایک خاص انفرادی حیثیت جو اسرائیل اور کلیسیا میں فرق کو قائم رکھتی ہے۔

ادواریت کی قدیم تعلیمات کے مطابق انسان کے لیے خُدا کے منصوبے کے اندر سات مختلف ادوار ہیں۔

نظریہ ادواریت کے حامی یہ مانتے ہیں کہ کلام کی تفسیر کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کلام کا بالکل لفظی و لغوی ترجمہ کیا جائے۔ لفظی و لغوی ترجمہ ہی الفاظ کو وہ معنی دیتا ہے جو اُن کے روز مرہ کی زندگی میں ہوتے ہیں۔ یہ ترجمہ کرتے ہوئے علامات، زبان دانی اور اشارے کنائے غالباً مدِ نظر رکھے جاتےہیں اور اُن کا ترجمہ اُسی انداز سے کیا جاتا ہے جیسے ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بات قابلِ فہم ہے کہ ہر ایک علامت اور تمثیلی یا تشبہاتی محاورے کے پیچھے بھی لغوی معنی ہوتے ہیں۔پس مثال کے طور پر جب بائبل مکاشفہ 20 باب میں ایک ہزار سال کے بارے میں بات کرتی ہے تو نظریہ ادواریت کو ماننے والے اِس سے حقیقی ایک ہزار سال ہی مُراد لیتے ہیں (اِسے بادشاہت کا دور بھی کہا جاتا ہے)، کیونکہ اِسکا کسی اور طرح سے ترجمہ کرنے کا کوئی اور جواز ہمیں نہیں ملتا۔

کلامِ مُقدس کالفظی و لغوی ترجمہ کرنے کی کم از کم دو اہم وجوہات ہیں۔ فلسفیانہ لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو زبان کا مقصد ہی اِس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اُس کے الفاظ کا ترجمہ لفظی و لغوی طور پر کیا جائے۔ زبان خُدا کی طرف سے آپس میں بات چیت کرنے کے لیے عطا کی گئی تھی۔ زبان کے الفاظ اُس کے اندر پائے جانے والی معنی سے لبریز برتنوں کی مانند ہیں۔ اِس کی دوسری وجہ بائبلی ہے۔ پرانے عہد نامے کی یسوع مسیح کے بارےمیں ہر ایک نبوت لغوی معنوں میں بالکل حقیقی طور پر پوری ہوئی ہے۔ خُداوند یسوع مسیح کی پیدایش، خدمت، موت اور اُس کا جی اُٹھنا بالکل اُسی طرح وقوع پذیر ہوا جیسے اُس کے بارے میں پرانے عہد نامےمیں نبوت کی گئی ہے۔ یہ سب نبوتیں حقیقی لغوی معنوں میں کی گئیں اور حقیقی لغوی معنوں میں ہی پوری ہوئیں۔ پورے نئے عہد نامے میں کسی ایک بھی ایسی نبوت کا ذکر نہیں جو حقیقی اور لغوی معنوں میں پوری نہ ہوئی ہو۔ پس یہ بات ہمارے سامنے کلامِ مُقدس کے حقیقی لفظی و لغوی ترجمے کے لیے بھر پور دلیل پیش کرتی ہے۔ اگر بائبل مُقدس کی لفظی و لغوی تفسیر نہ کی جائے تو ہمارے سامنے کوئی ایسا حتمی معیار نہیں رہتا جس کی بنیاد پر ہم بائبل مُقدس کو اور اُسکی تعلیمات کو سمجھ سکیں۔ پھر تو ہر کوئی شخص جس طرح وہ بہتر سمجھے گا بائبل کا مطالعہ اور تفسیر کرنے کی کوشش کرے گا۔ پھر بائبل کی تفسیر اکثر ایسے کی جائے گی کہ "میرے مطابق اِس حوالے کا یہ مطلب ہے" برعکس اِس کے کہ "کلامِ مُقدس فرماتا ہے۔"افسوس کی بات یہ ہے کہ بائبل کے مطالعے کو لیکر بہت سارے مقامات پر تفسیر اور ترجمے کے حوالے سے ایسے ہی کچھ حالات ہیں، یعنی غیر لفظی و غیر لغوی ترجمہ و تفسیر۔

ادواریاتی الہیات یہ سکھاتی ہے کہ دو مختلف گروہ خُدا کے خاص لوگ کہلاتے ہیں: اسرائیل اور کلیسیا۔ نظریہ ادواریت کے حامیوں نے ہمیشہ ہی اِس بات پر اپنا پختہ ایمان رکھا ہے کہ نجات ہمیشہ ہی صرف ایمان کی بدولت خُدا کے فضل کے وسیلے ملتی ہے – پرانے عہد نامے میں خُدا باپ پر ایمان اور نئے عہد نامے میں خُدا بیٹے پر ایمان کے وسیلے سے۔ نظریہ ادواریت کے حامیوں کا ماننا ہے کہ خُدا کے منصوبے میں کلیسیا نے اسرائیل قوم کی جگہ نہیں لی، اور پرانے عہد نامے کے جو وعدے خُدا نے بنی اسرائیل کے ساتھ کئے تھے وہ کلیسیا کو منتقل نہیں ہو گئے۔ اِس نظریے کے حامیوں کا ماننا ہے کہ پرانے عہد نامے میں خُدا نے جو وعدے اسرائیل قوم کے ساتھ کئے تھے (جیسے کہ زمین ، بہت ساری اولاد اور دیگر بہت سی برکات وغیرہ )اُن میں سے جووعدے ابھی تک پورے نہیں ہوئے وہ حتمی طور پر اُس ہزار سالہ بادشاہی کے دوران پورے ہونگے جس کا ذکر مکاشفہ 20 باب میں کیا گیا ہے۔ نظریہ ادواریت کے حامیوں کا ماننا ہے کہ جس طرح اِس دور میں خُدا اپنی زیادہ تر توجہ کلیسیا پر مرکوز کئے ہوئے ہے اِسی طرح وہ ایک بار پھر اپنی زیادہ تر توجہ اسرائیل قوم پر مرکوز کرے گا (دیکھئے رومیوں 9-11 ابواب اور دانی ایل 9باب24 آیت)

نظریہ ادواریت کے حامیوں کے مطابق پوری بائبل کے سارے وقت کو سات ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے یا ترتیب دیا گیا ہے: دورِ معصومیت (پیدایش 1باب1 آیت تا 3باب 7 آیت)، شعوری دور (پیدایش 3باب 8 آیت تا 8 باب 22 آیت)؛ انسانی حکمرانی کا دور (پیدایش 9باب 1 آیت تا 11 باب 32 آیت)؛ وعدے کا دور (پیدایش 12باب 1 آیت تا خروج 19 باب 25 آیت)؛ شریعت کا دور ( خروج 20باب1 آیت تا اعمال 2باب 4 آیت)؛ فضل کا دور (اعمال 2باب 4 آیت تا مکاشفہ 20 باب 3 آیت) اور ہزار سالہ بادشاہت کا دور (مکاشفہ 20باب4- 6 آیات)۔ ایک بار پھر ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ ادوار یا ادوار کی تقسیم نجات کا راستہ یا وسیلہ نہیں ہیں بلکہ اِس نظریے کے حامیوں کے مطابق یہ وہ طریقہ کار ہیں جن کے وسیلے خُدا انسانوں کے ساتھ اپنے معاملات کو سرانجام دیتا رہا ہے۔ ہر ایک دور میں اُس طریقہ کار کی پہچان لازمی طور پر شامل کی گئی ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ خُدا نے اُس دور میں ہو گزرنے والے لوگوں کے ساتھ کیسے کام کیا۔ اُس طریقہ کار کے مشمولات میں 1) ایک خاص ذمہ داری، 2)ایک ناکامی، 3) ایک عدالت اور 4) آگے بڑھنے کا فضل شامل ہوتا ہے۔

نظریہ ادواریت کی رُو سے خُداوند یسوع مسیح کی دوسری آمد ہزار سالہ بادشاہی سے پہلے ہوگی اور کلیسیا عظیم مصیبت سے پہلے اُٹھا لی جائے گی۔ پس اِس سب کا خلاصہ یہ ہے کہ نظریہ ادواریت وہ الہیاتی نظام ہے جو بائبل مُقدس بالخصوص اُس میں پائی جانے والی نبوتوں کے لفظی و لغوی معنی اور تفسیر پر زور دیتا ہے، اسرائیل اور کلیسیا کے درمیان واضح فرق ہونے کو مانتا ہےاور بائبل کو اور اُس کے تمام وقت کو مختلف ادوار میں تقسیم کرتا یا ترتیب دیتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

نظریہ ادواریت کیا ہے، اور کیا یہ بائبلی نظریہ ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries