جب ہم گناہ کرتے ہیں تو خُدا وند خُدا ہماری تربیت /تنبیہ کب، کیوں، اور کیسے کرتا ہے؟



سوال: جب ہم گناہ کرتے ہیں تو خُدا وند خُدا ہماری تربیت /تنبیہ کب، کیوں، اور کیسے کرتا ہے؟

جواب:
خُدا کی تربیت ایمانداروں کے لئے اکثر نظر انداز کی جانے والی زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ ہم اکثر یہ جانے بغیر اپنے حالات کے بارے میں شکایت کرتے ہیں کہ یہ ہمارے اپنے گناہ کا نتیجہ ہو سکتے ہیں، اور یہ اُس گناہ کی وجہ سے خُدا کی محبت بھری اور مہربان تربیت کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ اِس خود مرکز لا علمی کی وجہ سے ایماندار کی زندگی میں گناہ کرنے کی عادت پڑ سکتی ہے جس کی وجہ سے پہلے سے بڑی تنبیہ ہو سکتی ہے۔

تربیت/تنبیہ کو بے مروت سزا کے ساتھ گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔خُداوند کی تنبیہ ہمارے لئے اُس کی محبت کا ردِعمل ہے اور ہم میں سے ہر ایک کے لئے اُس کی خواہش ہے کہ ہم پاک بنیں۔ "اَے میرے بیٹے! خُداوند کی تنبیہ کو حقیر نہ جان اور اُس کی ملامت سے بیزار نہ ہو۔ کیونکہ خُداوند اُسی کو ملامت کرتا ہے جِس سے اُسے محبت ہے۔ جیسے باپ اُس بیٹے کو جس سے وہ خوش ہے " (امثال 3:11-12؛ عبرانیوں 12:5-11 بھی دیکھیں)۔ خُدا توبہ کے وسیلہ سے اپنے پاس واپس لانے کے لئے آزمائشوں، تکالیف، اور ناخوشگوار صورتحال کا استعمال کرتا ہے۔ اُس کی تربیت کا نتیجہ ایک مضبوط ایمان اور خُدا کے ساتھ ایک از سرنو تعلق (یعقوب 1:2-4)، اور اُس مخصوص گناہ سے آزادی ہوتا ہے۔

خُدا کی تربیت ہماری بھلائی کے لئے ہے، اور خُدا خود بھی ہماری زندگیوں سے جلال پاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم پاکیزہ زندگیوں کا مظاہرہ کریں، ایسی زندگیاں جو کہ نئی فطرت کی عکاسی کریں جو خُدا نے ہمیں دی ہے، "بلکہ جِس طرح تمہارا بُلانے والا پاک ہے اُسی طرح تم بھی اپنےسارے چال چلن میں پاک بنو۔ کیونکہ لکھا ہے کہ پاک ہو اِس لئے کہ میں پاک ہوں" (1پطرس 1:15-16)۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



جب ہم گناہ کرتے ہیں تو خُدا وند خُدا ہماری تربیت /تنبیہ کب، کیوں، اور کیسے کرتا ہے؟