settings icon
share icon
سوال

مَیں یہ کیسے جان سکتا ہوں کہ میرے دِل کی خواہشات خُدا کی طرف سے ہیں یا نہیں؟

جواب


یسوع ہمارے لیے اِس سوال کا جواب دیتا ہے: "کیونکہ بُرے خیال ۔ خُونریزِیاں ۔ زِناکارِیاں ۔ حرامکارِیاں۔ چورِیاں۔ جُھوٹی گواہیاں۔ بدگوئیاں دِل ہی سے نکلتی ہیں۔ " (متی 15باب19آیت)، اور پھر " جو کچھ آدمی میں سے نکلتا ہے وُہی اُس کو ناپاک کرتا ہے۔کیونکہ اندر سے یعنی آدمی کے دِل سے بُرے خیال نکلتے ہیں ۔ حرام کارِیاں۔چورِیاں ۔ خُون ریزِیاں ۔ زِناکارِیاں ۔ لالچ ۔ بدیاں ۔ مکّر ۔ شہوَت پرستی ۔ بدنظری ۔ بدگوئی ۔ شیخی ۔ بیوُقُوفی۔یہ سب بُری باتیں اندر سے نِکل کر آدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔ " (مرقس 7باب20-23آیات)

یہاں پر تو یسوع ہماری خواہشوں کے سپرنگ بوڑد کو ہم پر ظاہر کر تا ہے: ہماری تمام طرح کی جسمانی خواہشات ہماری اپنی ذات کے اندر سے جنم لیتی ہیں۔ گناہ محض بیرونی طاقتوں کے کسی نتیجے کی بدولت نہیں آ جاتا۔ یہ ہمارے اپنے خیالات اور ارادوں کے اندر اُن پوشیدہ چھوٹے چھوٹے رخنوں اور طاقوں کے اندر پیدا ہوتا ہے جس کا تصور صرف دل و دماغ ہی کر سکتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمار ی اِس گناہ آلود حالت میں ہمارے دِلوں کی خواہشات خُدا کی طرف سے نہیں آتیں۔ یرمیاہ انسانی دِل کی حالت کی مزید وضاحت کرتا ہے : "دِل سب چیزوں سے زِیادہ حیلہ باز اور لاعلاج ہے ۔ اُس کو کون دریافت کر سکتا ہے؟ " (یرمیاہ 17باب9آیت) ۔

بہت قدیم زمانے سے لوگوں کا یہ خیال رہا ہے کہ تمام انسان بنیادی طور پر اچھے اور مہذب ہوتے ہیں ا ور یہ تو زندگی کے حالات جیسے کہ غربت، ناقص غذا اور پرورش ہے جو ہمیں قاتلوں اور چوروں میں تبدیل کر دیتی ہے۔ لیکن بائبل میں ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ تمام انسان ایک مشترکہ بگاڑ یعنی گناہ کا شکار ہیں۔ پولس رسول اِسے ہماری گناہ آلود فطرت قرار دیتا ہے۔ "کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ مجھ میں یعنی میرے جسم میں کوئی نیکی بسی ہوئی نہیں البتہ اِرادہ تو مجھ میں موجود ہے مگر نیک کام مجھ سے بن نہیں پڑتے۔چُنانچہ جس نیکی کا اِرادہ کرتا ہوں وہ تو نہیں کرتا مگر جس بدی کا اِرادہ نہیں کرتا اُسے کر لیتا ہُوں۔پس اگر مَیں وہ کرتا ہوں جس کا اِرادہ نہیں کرتا تو اُس کا کرنے والا مَیں نہ رہا بلکہ گُناہ ہے جو مجھ میں بسا ہوا ہے۔ " (رومیوں 7باب18-20آیات)۔ ہمارے گناہ آلود دِل ہمیں گناہ کی طرف لے کر جاتے ہیں۔

‏مزید برآں ہمار ادِل اِس قدر بدعنوان اور حیلہ باز ہے کہ ہمارے اپنے مقاصد اور خواہشات خود ہم پر واضح نہیں ہیں۔ گناہ آلود مخلوق ہوتے ہوئے ہم خیال کرتے ہیں کہ ہم خود کفیل ہیں اور یوں اپنےدِلوں کے تکبر میں گناہ کرتے ہیں (امثال 16باب30آیت؛ 35 زبور 20آیت؛ میکاہ 2 باب 1 آیت؛ رومیوں 1باب30آیت)۔ سچائی تو یہ ہے کہ صرف خُدا ہی ہماری ذات کے اندر ہمارے گہرے مقاصد اور ہماری باطنی خواہشات کو جانچ سکتا ہے۔ اور صرف اُسی کی طاقت اور قدرت کے وسیلے ہم اِس بے یقینی اور بدعنوانی کی حالت کو ختم کرنے کی اُمید کر سکتے ہیں جس نے ہمارے دِلوں کو جکڑ رکھا ہے۔ وہ اکیلا ہی خیالوں اور اَرادوں کو جانچتا ہے اور ہمیں بہت زیادہ قریب سے جانتا ہے (عبرانیوں 4باب11-13آیات)۔

‏خوش بختی سے خُدا ہمیں تکلیف دینے والی خواہشات اور ہمارے گناہ آلود رجحانات کے اندر پھنسے ہوئے نہیں چھوڑ دیتا۔ اِس کی بجاے وہ ہمیں اپنا فضل اور وہ قوت بخشتا ہے جس کی بدولت ہم اُس گناہ کے خلاف مزاحمت کرتے اور اُس پر قابو پاتے ہیں جو ہمارے دِلوں کے دروازوں پر دستک دیتا ہے۔ زبور نویس کہتا ہے کہ، "خُداوند میں مسرور رہ اور وہ تیرے دِل کی مُرادیں پوری کرے گا۔ اپنی راہ خُداوند پر چھوڑ دے اور اُس پر توکُّل کر ۔ وُہی سب کچھ کرے گا۔وہ تیری راست بازی کونُور کی طرح اور تیرے حق کو دوپہر کی طرح رَوشن کرے گا " (37 زبور 4-6آیات)۔

یہاں پر ہم دیکھتے ہیں کہ خُدا حقیقت میں انسان کے دِل میں اپنی خواہشات کو ڈال سکتا ہے ،انسان کے اُس دِل میں جو خُدا کے بغیر مکمل طور پر بُرا اور دھوکا باز ہے۔ وہ ہمارے دِل میں بدی کو بھلائی اور اچھائی سے بدل دیتا ہے اور ہمارے دِلوں کے اندر سے ہماری اپنی خواہشات کو نکال کر وہاں اپنی خواہشات کو رکھ دیتا ہے اور یوں وہ ہمارے دِلوں کو اُس راہ پر ڈالتا ہے جو اُس کی طرف لے کر جاتی ہے۔ ایسا صرف اُسی صورت میں ہوتا ہے جب ہم توبہ کر کے خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے خُدا کی طرف سے فراہم کردہ نجات کی بخشش کو قبول کرتے ہیں۔ اُس وقت وہ ہمارے جسم میں سے سنگین دِل کو نکال کر اُس کی جگہ پر گوشتین دِل ڈال دیتا ہے (حزقی ایل 11باب19آیت)۔ اور وہ یہ سب کچھ ہمارے دِلوں میں مافوق الفطرت طریقے سے اپنی رُوح کو ڈالنے کے ذریعے سے کرتا ہے۔ اُس وقت ہماری خواہشات اُس کی خواہشات بن جاتی ہیں، ہمار ی اپنی مرضی اِس چیز کی متلاشی ہوتی ہے کہ اُس کی مرضی کو پورا کرے اور ہماری ساری بغاوت بڑی خوشی کے ساتھ اُس کی تابع فرمانی میں بدل جاتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں یہ کیسے جان سکتا ہوں کہ میرے دِل کی خواہشات خُدا کی طرف سے ہیں یا نہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries