settings icon
share icon
سوال

غیر افسانوی/غیر اساطیر ی بنانے سے کیا مُراد ہے ؟

جواب


بائبل کو غیر افسانوی/غیر اساطیری بنانے کا تصور بیسویں صدی کے ایک نمایاں ماہرِ علمِ الٰہیات اور نئے عہد نامے کے عالم روڈولف بلٹمین کی طرف سے پیش کیا گیا۔ بلٹمین کا ماننا تھا کہ نیا عہدنامہ اناجیل کو قلمبند کرنے والوں کی طرف سے مسیح کی صورت میں خُدا سے ملاقات کا محض ایک انسانی بیان ہے۔ اُس کے مطابق اناجیل کو قلمبند کرنے والوں نے انہی تصورات اور اصطلاحات کو استعمال کیا جو اُن کے پاس موجود تھیں اور وہ تصورات اور اصطلاحات معجزات اور مافوق الفطرت چیزوں سے جڑی ہوئی تھیں ؛ جنہیں بلٹمین نے افسانوی ہونے کے طو پر دیکھا۔

بلٹمین نے تجویز پیش کی کہ اناجیل کو جدید دور کے مفکرین کے لیے قابلِ قبول، برمحل اور موزوں بنانے کے لیے نئے عہد نامے کو غیر افسانوی یا غیر اساطیری بنایا جانا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں اساطیری (یعنی معجزات و مافوق الفطرت) چیزوں کو ہٹانا ضروری ہے، اِس کے بعد ہی کہانیوں میں شامل آفاقی سچائیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ بلٹمین کے لیے آفاقی سچائی یہ تھی کہ مسیح میں خُدا نے انسانیت کی بھلائی کے لیے کام کیا تھا۔ تاہم نئے عہد نامے میں سے کنواری مریم سے پیدایش، پانی پر چلنے، روٹی اور مچھلی کو کئی گناہ بڑھا دینے، اندھوں کو بینا کرنے اور یہاں تک کہ یسوع مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کو بھی ضروری پیغام میں سے افسانوی اضافے کے طور پر ہٹانا ہوگا۔ آج مسیحیت کے اندر ایسے بہت سارے گروہ ہیں جو اِس سوچ کی پیروی کرتے ہیں چاہے وہ اپنے اِس نظریے کو بلٹمین سے منسوب کریں یا نہ کریں۔ جسے ہم "مین لائن لبرل ازم" کہتے ہیں جس کا انحصار بائبل کو غیر افسانوی/غیر اساطیری بنانے کے تصور پر ہے۔ لبرل ازم خُدا کی ایک مبہم بھلائی اورانسانی بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے جس میں یسوع مسیح کی مثال پر عمل کرنے پر زور دیا جاتا ہے جبکہ اُسکے معجزات کا انکار کیا جاتا ہے۔

بلٹمین یہ سمجھنے میں ناکام رہا کہ معجزاتی عنصر(جسے وہ افسانوی یا دیومالائی کہتا تھا) انجیلی پیغام کا مرکز ہے۔ مزید برآں ایسا نہیں ہے کہ پہلی صدی میں لوگ محض بھولے بھالے تھے اور آسانی سے معجزانہ باتوں پر یقین کر لیتے تھے جبکہ "جدید انسان" اب بہتر جانتا ہے۔ جس وقت فرشے نے کنواری مریم کے سامنے یہ اعلان کیا کہ وہ ایک بچّے کی ماں بننے جا رہی ہے تو وہ اچھی طرح سے جانتی تھی کہ اِس طرح کا واقعہ معمول کی بات نہیں ہے (لوقا 1باب34 آیت)۔ اِسی طرح یوسف کو بھی اِس بات پر قائل کرنے کی ضرورت تھی (متی م1باب18-21 آیات)۔ توماؔ جانتا تھا کہ مصلوب ہونے کے بعد کسی کا زندہ ہو جانا زندگی کے عام معمول کی بات نہیں تھی اور اُس نے اِس بات پر یقین کرنے سے پہلے براہِ راست اِس کے ثبوت کا مطالبہ کیا (یوحنا 20باب24-26 آیات)۔

پولس رسول کو ایک ایسی تعلیم لوگوں کے سامنے پیش کرنی پڑی جس نے کرنتھس کے ایمانداروں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مُردوں کی قیامت کے نظریے کا دفاع کرتے ہوئے پولس نے وضاحت کی کہ انجیل کے اصل پیغام میں سے معجزات کو نکال دینا (یعنی نام نہاد طور پر اِسے غیر افسانوی یا غیر اساطیری بنانا) انجیل کو کسی صورت میں ایک خوشخبری نہیں رہنے دے گا۔ یسوع مسیح کا مُردوں میں سے "جی اُٹھنا" (1 کرنتھیوں 15باب4 آیت) اوّلین اہمیت کا حامل ہےاور یہ تاریخی ہونے کے ساتھ ساتھ قابلِ تصدیق بھی ہے (5 آیت)۔"اگر مسیح نہیں جی اُٹھا تو ہماری مُنادی بھی بے فائدہ ہے اور تمہارا اِیمان بھی بے فائدہ۔بلکہ ہم خُدا کے جھوٹے گواہ ٹھہرے کیونکہ ہم نے خُدا کی بابت یہ گواہی دی کہ اُس نے مسیح کو جِلا دِیا حالانکہ نہیں جِلایا اگر بِالفرض مُردے نہیں جی اُٹھتے۔اور اگر مُردے نہیں جی اُٹھتے تو مسیح بھی نہیں جی اُٹھا۔اور اگر مسیح نہیں جی اُٹھا تو تمہارا اِیمان بے فائدہ ہے تم اب تک اپنے گُناہوں میں گرِفتار ہو۔بلکہ جو مسیح میں سو گئے ہیں وہ بھی ہلاک ہُوئے۔اگر ہم صِرف اِسی زِندگی میں مسیح میں اُمّید رکھتے ہیں تو سب آدمیوں سے زِیادہ بدنصیب ہیں" (1کرنتھیوں 15باب14-19 آیات)

خلاصہ یہ ہے کہ نئے عہد نامے کو غیر افسانوی /غیر اساطیری بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلٹمین جن چیزوں کو افسانوی کہتا ہے وہ حقیقت میں معجزانہ ہیں اور معجزانہ باتیں نئے عہد نامے کی تعلیمات کا مرکز ہیں۔ کنواری مریم کے وسیلے پیدایش سے لیکر یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے، اُسکی آمدِ ثانی اور ایمانداروں کی قیامت تک سب کچھ معجزانہ نوعیت کا ہے۔ اگرکچھ کیا جانا چاہیے تو وہ یہ ہے کہ "جدید مفکرین" کو "ماقبل جدیدیت ذہنیت" سے دوبارہ متعارف کروایا جائے، جو کم از کم مافوق الفطرت مداخلت کو تو قبول کرنے کے لیے تیار تھی۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

غیر افسانوی/غیر اساطیر ی بنانے سے کیا مُراد ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries