شیاطین کی بابت کلام پاک کیا کہتا ہے؟



سوال: شیاطین کی بابت کلام پاک کیا کہتا ہے؟

جواب:
جس طرح مکاشفہ 12:9 اشارہ کرتاہے شیاطین گرائے گئے فرشتے ہیں۔ "اور وہ پرانا اژدہا یعنی وہی پرانا سانپ جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گمراہ کر دیتاہے زمین پر گرا دیا گیا اور اس کے فرشتے بھی اس کے ساتھ گرا دئے گئے۔" شیطان کا آسمان سے گرایا جانا نشان بطور یسعیاہ 15-12 :14 میں اور حزقی ایل 15-12 :28 بیان کیا گیا ہے۔ جب شیطان گرا تھا تو اس نے کچھ فرشتوں کو بھی اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ مکاشفہ 12:4 کے مطابق ایک تہائی فرشتے اس کے ساتھ ہو لئے تھے۔یہوداہ کا خط چھٹی آیت بھی ان فرشتوں کا ذکر کرتا ہے جنہوں نے گناہ کیا تھا۔ اس لئے کلام پاک کے موافق شیاطین گرائے گئے فرشتے تھے جنہوں نے خدا کے خلاف بغاوت کرنا منظور کیا۔

کچھ شیاطین پہلے سے ہی قید میں بند ہیں "ان کو اس نے دائمی قیدمیں تاریکی کے اندر روز عظیم کی عدالت تک رکھا ہے"۔ (یہو داہ 6) ان کے گناہ کے سبب سے۔ اور دیگر شیاطین گھومنے کے لئے آزاد ہیں اور افسیوں 6:12 میں انہیں "اس دنیاکی تاریکی کے حاکم ……… اور شرارت کی روحانی فوج جو آسمانی مقاموں میں پائے جاتے ہیں۔" یہ کہہ کر حوالہ دیا گیا ہے۔ (کلیسیوں 2:15)۔ انہیں بھوت یا ابلیس بھی کہا جاتاہے اور یہ ابھی بھی شیطان کواپنا سردار مانتےہوئے اس کے پیچھے چلتے اور مقدس فرشتوں کے ساتھ جنگ کرتے ہیں۔اور یہ خدا کی مرضی اور منصوبہ کے خلاف کاموں کو انجام دیتے اور خداکے لوگوں کے لئے رکاوٹ بنتے ہیں۔ (دانی ایل 10:13)۔

شیاطین جو روحانی تخلیق ہیں جسمانی شکل اختیار کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ جب ایک شخص کا جسم پوری طرح سے ایک شیطان کے قبضہ میں آجاتاہے تب وہ اس میں سما جاتاہے۔ مگر یہ خدا کے فرزند یعنی میسحی ایماندار کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوتا کیونکہ خدا کا روح القدس اس کے دل میں سکونت کرتاہے۔ (1 یوحنا 4:4)۔

یسوع مسیح نے اپنی زمینی خدمت کے دوران کئی ایک شیاطین کا سامنا کیا۔ مگر ان میں سے کسی کی بھی طاقت مسیح کی قوت کا مقابلہ نہ کرسکی۔ "یسوع کے پاس بہت سے لوگوں کو لایا گیا جن میں بد روحیں تھیں۔ اس نے بد روحوں کو زبان ہی سے کہہ کر نکال دیا۔ " (متی 8:16)۔ بد روحوں پر یسوع کا اختیار کئی ایک ثبوتوں میں سے ایک ثبوت ہے کہ وہ حقیقت میں خدا کا بیٹا ہے۔ (لوقا 11:20)۔ وہ شیاطین جنہوں نے یسوع کا سامنا کیا جانتے تھے کہ یسوع کون تھا اور وہ اس سے ڈرتے اور کانپٹے تھے۔ "اور دیکھو بد روحوں نے چلا کر کہا اے خدا کے بیٹے ہمیں تجھ سےکیا کام؟ کیا تو یہاں اس لئے آیا ہے کہ وقت سے پہلے ہمیں عذاب میں ڈالے؟ (متی 8:29)۔ بد روحیں جانتی تھیں کہ ان کا خاتمہ عذاب میں ڈالے جانے کے ذریعہ ہے۔

شیطان اور ان کی بد روحیں موجودہ زمانہ میں خداکے کاموں کو برباد کرنے کے انتظار میں رہتی ہیں اورکسی کو بھی دھوکہ دیتے ہیں جنہیں دے سکتے ہیں۔ (1 پطرس 5:8؛ 2 کرنتھیوں 15-14 :11)۔ شیاطین کوبد روحیں بطور بیان کیاگیا ہے۔ متی 10:1 )یہ ناپاک روحیں ہیں (مرقس 1:27)۔ یہ جھوٹ بولنے والی روحیں ہیں (1 سلاطین 22:23)، یہ شیطان کے فرشتے ہیں (مکاشفہ 12:9)۔ شیطان اور اس کے فرشتے دنیا کے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں (2 کرنتھیوں 4:4)۔ غلط اصولوں کی منادی کرتے ہیں۔ (1 تموتھیس 4:1)۔ مسیحیوں پر حملہ کرتے ہیں (2 کرنتھیوں 12:7؛ 1 پطرس 5:8) اور پاک فرشتوں سے لڑتے اور انکا مقابلہ کرتے ہیں ۔ (مکاشفہ 9-4 : 12)۔

شیاطین/ گرائے گئے فرشتے خدا کے دشمن ہیں مگر وہ ہارے ہوئے دشمن ہیں۔ "مسیح نے ان کی حکومتوں اور اختیاروں کو نہتا کر دیا تھا" "انکا بر ملا تماشا بنا کر صلیب کے سبب سے ان پر فتحیابی کا شادیانہ بجایا (کلیسیوں 2:15)۔ جب ہم خدا کے لئے سپرد ہوتے اور شیطان کا مقابلہ کرتے ہیں تو ہم کو خوف کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یوحنا اپنے خط میں لکھتا ہے کہ اے بچو! تم خدا سے ہو اور شیاطین پر غالب آگئے ہوکیونکہ جو تم میں ہے وہ اس سے بڑا ہے جو دنیا میں ہے" (1 یوحنا 4:4)۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



شیاطین کی بابت کلام پاک کیا کہتا ہے؟