settings icon
share icon
سوال

گناہ سے کیا مراد ہے ؟

جواب


بائبل میں گناہ کو خدا کے قانون /شریعت کی خلاف ورزی (1یوحنا 3باب 4آیت) اور خدا کے خلاف بغاوت (استثنا 9باب 7آیت؛ یشوع 1باب 18آیت) کے طور پر بیا ن کیا گیا ہے۔ گناہ کا آغاز لوسیفر کے ساتھ ہو ا تھا جوغالباً تمام فرشتوں میں سب سے زیادہ خوبصورت اور طا قتور تھا ۔ لوسیفر اپنے عہدےیا مقام سے مطمین نہیں تھا وہ آسمان پر چڑ ھ جانا چاہتا تھا اور اپنے تخت کو ستاروں سے بھی اونچا کرنا چاہتا تھا۔ اور یہی بات یعنی اُس کے دل میں سمانے والا گھمنڈ اُس کے زوال اور گناہ کی ابتدا کی وجہ بنی ( یسعیاہ 14باب 12- 15آیات)۔ اُس کا نام شیطان رکھ دیا گیا، اور پھر وہ گناہ کو باغِ عدن میں نسلِ انسانی کے پاس لایا جہاں پر اُس نے آدم اور حوّا کو اِس لالچ کے ساتھ ورغلایا کہ " تم خداکی مانند نیک و بد کے جاننے والے بن جاؤ گے "۔ پیدایش 3باب خدا کے خلاف آدم اور حوّا کی بغاوت اور حکم عدولی کے بارے میں بات کرتا ہے ۔اُس وقت سے گناہ بنی نوع انسان میں نسل در نسل منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے اور آدم کی نسل میں سے ہونے کے باعث وہ گناہ ہمیں آدم سے میراث میں ملا ہے ۔ رومیوں 5باب 12آیت ہمیں بتاتی ہے کہ آدم کے سبب سے گناہ دنیا میں آیا اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی "کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے "( رومیوں 6باب23 آیت)۔

آدم کے گناہ کرنے کے باعث بنیِ نوع انسان کی فطر ت میں گناہ کی جانب پیدایشی رجحان نے جنم لیا اور اس طرح نسلِ انسانی فطری طور پر گنہگار بن گئی ۔ جب آدم نے گناہ کیا تو اُس کی سرکشی کے باعث آدم کی اندرونی فطرت تبدیل ہو گئی جو اُس کی روحانی موت اور محرومی کی وجہ بنی اور یہ روحانی موت اور محرومی آدم کی آئندہ نسل میں منتقل ہو گئی۔ ہم گنہگار اس لیے نہیں کہ ہم گناہ کرتے ہیں بلکہ ہم گناہ اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہم فطری طور پر گنہگار ہیں ۔ یہ نسل در نسل منتقل ہونے والی رُوحانی موت اور محرومی موروثی گناہ کے طور پر جانی جاتی ہے ۔ جس طرح ہم میراث میں اپنے والدین سے جسمانی خصوصیات حاصل کرتے ہیں بالکل اُسی طرح ہم میراث میں آدم سے گناہ آلود فطرت بھی حاصل کرتے ہیں۔ داؤد نے انسان کی گناہ آلودہ حالت کے بارے میں 51زبور اور اُس کی 5آیت میں کچھ اس طرح سے دُکھ بھرا اظہار کیا ہے کہ "دیکھ! مَیں نے بدی میں صورت پکڑی اور مَیں گناہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا"۔

گناہ کی ایک اور قسم " منسوب کئے جانے والے گناہ " کے طور پر جانی جاتی ہے ۔ مالی اور قانونی دونو ں سیاق و سباق میں استعمال ہونے والے اُس یونانی لفظ کا مطلب جس کا ترجمہ نسبتی کیا گیا ہےیہ ہے کہ " ایک ایسی چیز کو کسی دوسرے شخص کے نام سے منسوب کر دینا جو پہلے کسی اور شخص سے تعلق رکھتی تھی۔ " موسیٰ کے وسیلہ سے دی جانے والی شریعت سے پہلے گوکہ موروثی گناہ کے باعث لوگ گنہگار ہی تھے مگر اُس وقت تک گناہ انسان سے منسوب نہیں کیا تھا۔ مگر شریعت کے دئیے جانے کے بعد جو لوگ شریعت کی خلاف ورزی کرتےتھے اُن کے خلاف وہ گناہ منسوب کئے جاتے(رومیوں 5باب 13آیت)۔ حتیٰ کہ شرعی گناہوں کے لوگوں سے منسوب کئے جانے سےپہلے بھی گناہ کی حتمی سزا (موت) کا سلسلہ جاری تھا( رومیوں 5باب 14آیت)۔ آدم سے موسیٰ تک تمام بنی نوع انسان صرف موسوی شریعت کے خلا ف کئے جانے والے اپنے بُرے اعمال کے باعث موت کے قبضہ میں نہیں تھے بلکہ وہ اپنی گناہ آلودہ فطرت کی وجہ سے موت کے قبضہ میں تھے۔ موسیٰ کے بعد بنی نو ع انسان نہ صرف آدم کی طرف سے ملنے والے موروثی گناہ بلکہ خدا کے قوانین /شریعت کی خلاف ورزی کے باعث منسوب کئے جانے والے دونوں گناہوں کی وجہ سے موت کے قبضہ میں تھے ۔

خدا نے اِسی منسوب کرنے کے اصول کو اُس وقت بنی نو ع انسان کے فائد ے کےلیے استعمال کیا تھا جب خدا نے ایمانداروں کے نام منسوب کئے گئے گناہوں کو یسوع مسیح کے نام سے منسوب کیا ، جس نے صلیب پر اُس موروثی گناہ کی قیمت کو اپنی موت کے ذریعےسے ادا کیا تھا ۔ اگر چہ یسوع گنہگار نہیں تھا مگر ہمارے گناہ اُس سے منسوب کئے جانے کی وجہ سے خدا نے اُس سے ایک گنہگار جیسا سلوک کیا اور یسوع کو تمام جہاں کے گناہوں کے لیے مرنے دیا ( 1یوحنا 2باب 2آیت)۔ یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ہمارا گناہ اُس سے منسوب کیا گیا کیونکہ آدم سے اُسے یہ گناہ میراث میں نہیں ملا تھا ۔ اگرچہ اُس نے گناہ کی قیمت ادا کی تھی مگر اُس نے کبھی گناہ نہیں کیا تھا۔ اُس کی پاک اور کامل فطرت میں گناہ نہیں تھا۔ گوکہ اُس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا مگر اُس کے ساتھ بالکل ایسے برتاؤ کیا گیا جیسے کہ وہ تمام نسل ِ انسانی کے گناہوں کا مرتکب تھا۔ اور اس کے بدلے میں خدا نے مسیح کی راستبازی کو ایمانداروں کے نام منسوب کر دیا اور جیسے خدا نے ہمارے گناہوں کو مسیح کے نام منسوب کر دیا تھا بالکل اُسی طرح ہم مسیح کی راستبازی میں راستباز ٹھہرائے گئے ہیں (2کرنتھیوں 5باب 21آیت)۔

تیسری قسم کا گناہ شخصی گناہ ہے جو ہر انسان ہر زور کرتا ہے ۔ کیونکہ ہمیں آدم سے میراث میں ایک گناہ آلودہ فطرت ملی ہے اس لیے ہم انفرادی ، شخصی گناہ اور بظاہر عام جھوٹ سے لے کر قتل تک کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ وہ لوگ جو مسیح یسوع پر ایمان نہیں رکھتے اُن لوگوں کو اِن شخصی گناہو ں کے ساتھ ساتھ موروثی اور منسوب شدہ گناہوں کی قیمت بھی چُکانی پڑے گی۔ تاہم ایمان داروں کو گناہ کی ابدی سزا – جہنم اور رُوحانی موت سے آزاد کر دیا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب ہم گناہ کے خلاف قوت رکھتے ہیں ۔ اب ہم خود یہ انتخاب کر سکتے ہیں کہ ہم شخصی گناہ کریں کہ نہ کریں کیونکہ ہم رُوح القدس کے وسیلہ سے جو ہم میں بسا ہوا ہے گناہ کے خلاف قوتِ مدافعت رکھتے ہیں ۔ رُوح القدس ہماری تقدیس کرتا ہے اور گناہ کرنے پر ہماری ملامت کرتے ہوئے ہمیں مجرم ٹھہراتا ہے ( رومیوں 8باب 9-11آیات)۔ہم جب خداوند کے حضور اپنے شخصی گناہوں کا اقرار کرتے اور اُن کےلیے معافی کی درخواست کرتے ہیں تو ہمیں خدا کی کامل رفاقت میں بحال کر دیا جاتا ہے ۔ " اگر اپنے گناہوں کا اقرار رکریں تو وہ ہمارے گناہوں کے معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادل ہے " (1 یوحنا 1باب 9آیت)۔

ہم سب کو موروثی گناہ ، منسوب شدہ گناہ اور شخصی گناہ کی وجہ سے تین رُخی /سہ رُخی ملامت کا سامنا ہے ۔ اور اِس گناہ کی سزا صرف موت ہے ( رومیوں 6باب 23 آیت) نہ صرف جسمانی بلکہ رُو حانی موت ( مکاشفہ 20باب 11- 15آیات)۔ خدا کا شکر ہے کہ موروثی گناہ، منسوب شدہ گناہ اور شخصی گناہ یسوع کی صلیب کے وسیلہ سے مصلوب کر دئیے گئے ہیں اور اب یسوع مسیح پر نجات دہندہ کے طور پر ایمان لانے کے ذریعےسے " ہم کو اُس میں اُس کے خون کے وسیلہ سے مخلصی یعنی قصوروں کی معافی اُس کے اُس فضل کی دولت کے موافق حاصل ہے۔ جو اُس نے ہر طرح کی حکمت اور دانائی کے ساتھ کثرت سے ہم پر نازل کیا " ( افسیوں 1باب 7- 8آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

گناہ سے کیا مراد ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries