settings icon
share icon
سوال

شادی کی تعریف کیا ہے؟

جواب


26 جون 2015 میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی قرار دینے کا فیصلہ جاری کیا۔ بحراوقیانوس کے پار جولائی 2013 کے وسط میں ملکہِ انگلینڈ نے ایک قانون "دی میرج بل" پر دستخظ کئے جس کے تحت ہم جنس پرست جوڑے قانونی طور پر شادی کر سکتے تھے۔ دُنیا بھر میں کم از کم پندرہ دیگر ممالک نے ہم جنس پرست پارٹرز کے درمیان شادی کو قانونی حیثیت دے دی ہے۔ ظاہر ہے کہ شادی کی معاشرتی تعریف بدل رہی ہے۔ لیکن کیا حکومت کے پاس یہ حق اور اختیار ہے کہ وہ شادی کی تشریح کرے، یا پھر شادی کی تعریف پہلے ہی کسی اعلیٰ اختیار نے مقرر کی ہے؟ ‏

‏ پیدائش 2باب ‏‏ میں خدا اعلان کرتا ہے کہ آدم (پہلے آدمی) کا اکیلا رہنا اچھا نہیں ہے۔تمام جاندار وہاں پر موجود تھے لیکن اُن میں سے کوئی بھی آدم کے لئے مناسب ساتھی نہیں تھا۔ پس خدا ایک خاص تخلیق کے عمل میں عورت بناتا ہے۔ چند آیات کے بعد ہی عورت کو آدم کی شریک حیات بیان کر کے اُسےآدم کی بیوی کہا گیا(پیدایش 2باب25 آیت)۔ باغِ عدن وہ پہلا مقام تھا جسے خُدا نے اِس شادی کی تقریب کے لیے مقرر کیا تھا۔ اِس کے بعد پیدایش کی کتاب کے مُصنف نے اُس معیار کو ریکارڈ کیا جس کی بنیاد پر مستقبل کی تمام شادیوں کی تعریف کی گئی ہے:"اِس واسطے مَرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی بیوی سے مِلا رہے گا اور وہ ایک تن ہوں گے۔ "

‏ کلام کا ‏‏ یہ حوالہ شادی کے لئے خدا کے نمونے کو سمجھنے کے لئے کئی نکات فراہم کرتا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ شادی میں ایک مرد اور ایک عورت شامل ہے۔عبرانی زبان میں "بیوی" کے لیے استعمال ہونے والا لفظ صنفی خاصیت کا حامل ہے اور اِس کا مطلب "عورت" کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ کلام میں ایسی کوئی عبارت نہیں ہے جس میں مرد اور عورت کے علاوہ کسی اور چیز سے متعلق شادی کا ذکر ہو۔ عورت اور مرد کے باہمی جنسی عمل کے بغیر انسانی تولید کرنا یا خاندان کو تشکیل دینا نا ممکن ہے۔ چونکہ خدا نے جنسی تعلقات کو صرف شادی شدہ جوڑے کے درمیان ہونے والے عمل کے طور پر مقرر کیا ہے، اِس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ مرد اور عورت کا جنسی تعلقات میں اکٹھے ہو کر بچّے پیدا کرنا خُدا کی طرف سے مقرر کردہ نمونے کی خاندانی اکائی ہے۔

شادی ‏‏ کے لئے خدا کےنمونے کے بارے میں ‏‏پیدائش 2باب‏‏ سے دوسرا اصول یہ ہے کہ شادی کا مقصد میاں بیوی کا زندگی بھر ساتھ رہنا ہے۔24 آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ دونوں "ایک تن" ہونگے۔ حوّا کو آدم کے پہلو میں سے تخلیق کیا گیا اِس لیے دراصل وہ آدم کے تن کا حصہ تھی۔ اُس کی ذات کا جوہر زمین کی مٹی سے لینے کی بجائے آدم میں سے لیا گیا۔ اِس کے بعد ہر شادی کا مقصد آدم اور حوّا کے مشترکہ اتحاد کی عکاسی کرنا ہے۔ کیونکہ اُن کا رشتہ "جسمانی" تھا۔ وہ اب ہمیشہ کے لیے اکٹھے تھے۔ پہلی شادی کے اندر فرار کی کوئی شق نہیں شامل کی گئی تھی جس نے دونوں کو علیحدہ ہونے کی اجازت دی ہو۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خُدا نے شادی کو زندگی بھر کے لیے ڈئزائن کیا ہے۔ جب مر داور عورت شادی کا عہد کرتے ہیں تو وہ "ایک تن" ہو جاتے ہیں اور اِسی وجہ سے وہ کہتے ہیں کہ وہ موت تک ایک دوسرے سے جُدا نہ ہونگے۔

شادی کے لیے خُدا کے نمونے کے بارے میں اِس حوالے میں سے تیسرا اصول ایک ہی فرد کے ساتھ شادی ہے۔"آدمی" اور "بیوی" کے لیے عبرانی الفاظ واحد کے صیغے میں ہیں اور متعدد بیویوں کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اگرچہ کلام کے اندر دیکھاجا سکتا ہے کہ کئی ایک لوگوں کی متعدد شادیاں تھیں لیکن خُدا کی طرف سے دئیے گئے شادی کے نمونے میں ایک مرد اور ایک ہی عورت تھی۔ خُداوند یسوع نےجب پیدایش کی کتاب میں سے آسان طریقے سے طلاق دینے کے عمل کی مذمت کی تو اُس نے اِس اصول پر زور دیا تھا (متی 19باب4-6 آیات)۔

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہونی چاہیے کہ دُنیا خُدا کے قائم کردہ قانون کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ "اِس لئے کہ جسمانی نِیّت خُدا کی دُشمنی ہے کیونکہ نہ تو خُدا کی شرِیعت کے تابع ہے نہ ہو سکتی ہے" (رومیوں 8باب7 آیت)‏۔ دُنیا جسے "شادی" کہتی ہے اُس کے لیے وہ اپنی طرف سے مختلف طرح کی تعریفیں فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن بائبل اور اُس کا اصول اب بھی قائم ہے۔ شادی کی واضح تعریف دُنیا بھر کے لیے ایک مرد اور ایک عورت کا شادی کے بندھن میں اتحاد ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

شادی کی تعریف کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries