settings icon
share icon
سوال

کیا بائبل مسیحیوں کو یہ تعلیم دیتی ہے کہ وہ اپنے ایمان کا دفاع کریں/اپنے ایمان کے لیے پُر دلیل گفتگو کریں؟

جواب


بائبل مُقدس کی وہ اعلیٰ درجے کی فصیح آیت جو اپولوجیٹکس (علمِ دفاعِ ایمان) کو فروغ دینے کی حمایت کرتی ہے 1پطرس 3باب15آیت ہے، جو یہ بیان کرتی ہے کہ ایمانداروں کو "اپنی اُمید کی وجہ بیان کرنے" کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔ اِس کام کو موثر طریقے سے کرنا صرف اُسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم اُن وجوہات کا مطالعہ کریں گے کہ ہم کیا ایمان رکھتے ہیں اور کیوں ایمان رکھتے ہیں۔ یہ چیز ہمیں تیار کرتی ہے کہ پھر "ہم تصورات اور ہر ایک اُونچی چیز کو جو خُدا کی پہچان کے برخلاف سر اُٹھائے ہوئے ہے ڈھا دیں اور ہر ایک خیال کو قید کر کے مسیح کا فرمانبردار بنا دیں" جیسا کہ پولس نے کہا ہے ہمیں کرنا چاہیے(2 کرنتھیوں 10باب 5آیت)۔ پولس رسول جن باتوں کی تعلیم دیتا تھا اُنہیں وہ اپنی عملی زندگی میں بھی استعمال کرتا تھا، اور حقیقت تو یہ ہے کہ ایمان کا دفاع کرنا یا اپنے ایمان کی جوابدہی مہیا کرنا اُس کی روزمرہ کی سرگرمی تھی (فلپیوں 1باب 7آیت)۔ وہ اِسی حوالے کے اندر مسیحی ایمان کے دفاع یعنی اپولوجیٹکس کو اپنے مشن کے ایک بہت اہم پہلو کے طور پر بیان کرتا ہے (آیت 16)۔ اُس نے ططس 1باب 9آیت کے اندر اپولوجیٹکس یعنی مسیحی دفاعِ ایمان کی خصوصیت کا کلیسیا کی قیادت کے اندرتقاضا کیا ہے۔ یہوداہ جو مسیح یسوع کا خادم اور رسول تھا اُس نے اِس حوالے سے لکھا ہے کہ " اَے پیارو! جس وقت مَیں تم کو اُس نجات کی بابت لکھنے میں کمال کوشش کر رہا تھا جس میں ہم سب شریک ہیں تو مَیں نے تمہیں یہ نصیحت لکھنا ضرور جانا کہ تم اُس اِیمان کے واسطے جانفشانی کرو جو مُقدّسوں کو ایک ہی بار سونپا گیا تھا" (یہوداہ 1باب3آیت)۔

رسولوں کو یہ خیال کہاں سے ملا؟اُنہیں یہ تصور اپنے مالک سے ملا تھا۔ یسوع خود ہی اپنی ذات کا دفاع (اپولوجیٹکس) تھا جیسا کہ اُس نے بہت دفعہ یہ بیان کیا ہے کہ اُس پر اُن ساری شہادتوں اور ثبوتوں کی وجہ سے ایمان لانا چاہیے جو وہ ہمیں مہیا کرتا ہے (یوحنا 2 باب 23آیت؛ 10 باب 25آیت؛ 10 باب 38آیت؛ 14 باب 29آیت)۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ساری کی ساری بائبل معجزات سے بھری ہوئی ہے جو اُن سب باتوں کی تصدیق کرتے ہیں جن کے حوالے سے خُدا چاہتا ہے کہ ہم اُن پر ایمان رکھیں (خروج 4باب1-8آیات؛ 1 سلاطین 18 باب 36-39آیات؛ 2باب 22-43آیات؛ عبرانیوں 2باب 3-4آیات؛ 2 کرنتھیوں 12باب 12آیت)۔

لوگ بالکل بجا طور پرثبوتوں کے بغیر کسی بھی چیز پریقین نہیں کرتے ۔ اب چونکہ خُدا نے انسان کو ایک شعوری مخلوق بنایا ہے تو ہمیں اِس حوالے سے حیران نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ہم سے ایک باشعور زندگی گزارنے کا تقاضا کرتا ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر نورمن گائزلر نے کہا ہے کہ "اِس کا قطعی طور پر مطلب نہیں ہے کہ ایمان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ بلکہ خُدا چاہتا ہے کہ ہم اندھیرے میں چھلانگ لگانے کی بجائے ثبوتوں اور شہادتوں کی بنیاد پر اپنے ایمان کی بناء پر ایک قدم اُٹھائیں۔"

وہ لوگ جو بائبل مُقدس کی اِن واضح تعلیمات اور مثالوں کی مخالفت کرتے ہیں وہ شاید یہ کہیں کہ "خُدا کے کلام کو کسی طرح کے دفاع کی قطعی طو ر پر کوئی ضرورت نہیں ہے۔"لیکن اگر سوال کیا جائے کہ اِس دُنیا کے اندر جتنی بھی تحریریں ہیں اُن میں سے خُدا کا کلام کونسا ہے؟ جونہی کوئی اِس بات کاجواب دینے کی کوشش کرتا ہے وہ دراصل اپولوجیٹکس یعنی ایمان کے دفاع کا کام سرانجام دے رہا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کوئی انسانی شعوری دلیل ہمیں خُدا کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتا سکتی– لیکن غور کیا جائے تو یہ بات بھی خُدا کی ذات کے بارے میں ایک شعوری دلیل ہے۔اور اگر یہ شعوری دلیل نہیں ہے تو پھر اِس بات پر یقین کرنے کی قطعی طور پر کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ایک بہت ہی مقبول مثل ہے کہ "اگر کوئی باتوں میں لگا کر آپکو مسیحیت میں لے جا سکتا ہے تو پھر کوئی دوسراشخص باتوں میں لگا کرآپکو مسیحیت سے باہر بھی لے جا سکتا ہے۔"اب یہ بات ایک مسئلہ کیوں ہے؟کیا پولس رسول نے ایمان کی پہچان کا ایک معیار (مسیح کا جی اُٹھنا) نہیں دیا جس کی روشنی میں مسیحیت کو قبول یا رَد کیا جانا چاہیے 1 کرنتھیوں 15 باب؟ وہ لوگ جو اِس بات کا جواب نہیں دیتے ہیں وہ حقیقت میں ایک غلط تقویٰ اور پرہیز گاری ہے۔

اِس سب کو بیان کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اکیلا علمِ دفاعِ ایما ن یعنی اپولوجیٹکس ہی رُوح القدس کے اثر کے بغیر لوگوں کی زندگیوں میں نجات بخش کام کر سکتا ہے۔ ایسی سوچ بہت سارے لوگوں کے ذہن میں ایک جھوٹا تصور قائم کرتی ہے۔ لیکن ہمیں خیال رکھنا چاہیے کہ ہم "رُوح بمقابلہ منطق" کا درس دینا نہ شروع کر لیں۔ ایک ہی وقت میں رُوح اور منطق دونوں ہی کیوں کام نہیں کر سکتے؟سب سے پہلے رُوح القدس کسی شخص کو اُس مقام تک لے کر جاتا ہے جہاں پر وہ ایمان لا سکتا ہے، اور اُس کے بعد وہ اپنے اُس سفر کو کیسے مکمل کرتا ہے اِس کا انحصار اُس شخص کی ذات پر ہے۔ کئی لوگوں کو ایمان کی طرف لانے کے لیے خُدا کچھ آزمائشوں اور مصیبتوں کو استعمال کرتا ہے، کچھ لوگوں کو وہ جذباتی تجربات کے وسیلے اور دیگر کو منطق اور دلیل کے ذریعے سے ایمان تک لے کر آتا ہے۔ خُدا ہر اُس دلیل اور منطق کو استعمال کر سکتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ ہمیں بہرحال بتایا گیا ہے کہ ہم جس قدر زیادہ ممکن ہوہر اُس مقام پر اپولوجیٹکس کا استعمال کریں جہاں ہم کلامِ مُقدس کی منادی کرتے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا بائبل مسیحیوں کو یہ تعلیم دیتی ہے کہ وہ اپنے ایمان کا دفاع کریں/اپنے ایمان کے لیے پُر دلیل گفتگو کریں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries