settings icon
share icon
سوال

ٹھوس فیصلہ سازی کے لیے بائبل کے اصول کیا ہیں ؟

جواب


ٹھوس فیصلہ سازی کی ابتدا خُدا کی مرضی کا تعین کرنے کے ساتھ ہوتی ہے۔ خُدا اُن پر اپنی مرضی کو ظاہرکرنے میں خوش ہوتا ہے جو اُس کی تعلیمات اور اصولوں پر عمل کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں (33 زبور 18 آیت؛ 35 زبور 27 آیت؛ 147 زبور 11 آیت)۔ فیصلہ سازی کے حوالے سے ہمارا رویہ ویسا ہی ہونا چاہیے جیسا کہ خود یسوع کا بھی تھا جس نے اِس بات کو بیان کیا کہ "میری مرضی نہیں بلکہ تیری ہی مرضی پُوری ہو " (لوقا 22باب42آیت؛ متی 6باب10 آیت) ۔

خُدا بنیادی طور پر دو طریقوں سے ہم پر اپنی مرضی کو ظاہر کرتا ہے۔ سب سے پہلے اپنے رُوح کے ذریعے سے : "لیکن جب وہ یعنی رُوحِ حق آئے گا تو تُم کو تمام سچّائی کی راہ دِکھائے گا ۔ اِسلئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سُنے گا وُہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا " (یوحنا 16 باب 13 آیت، مزید دیکھئے 1 یوحنا 2باب20، 27 آیات)۔ اور دوسرے نمبر پر خُدا اپنی مرضی کو اپنےکلام کے ذریعے سے ظاہر کرتا ہے : "تیرا کلام میرے قدموں کے لئے چراغ اور میری راہ کے لئے رَوشنی ہے" (119 زبور 105 آیت، مزید دیکھئے 19 زبور 7-9 آیات؛ 2 پطرس 1باب19 آیت)۔

‏فیصلہ سازی کے عمل میں کسی رویے یا عمل کا جائزہ لینا شامل ہے۔ فیصلے مرضی پر مشتمل عمل ہوتے ہیں، اور ہمیشہ ہی اُن پر ذہن ، جذبات یا دونوں ہی کا اثر ہوتا ہے۔ ہم جو فیصلے کرتے ہیں وہ دراصل ہمارے دِل کی خواہشات کی عکاسی کرتے ہیں (119 زبور 30 آیت)۔ اِس لیے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے کلیدی سوال یہ ہے کہ "کیا اِس فیصلے کے ذریعے سے مَیں اپنے آپ کو خوش کرنے کا انتخاب کرتا ہوں یا پھر مَیں خُدا کو خوش کرنے کا انتخاب کرتا ہوں۔ یشوع اِس حوالے سے ایک معیار کو قائم کرتا ہے "اور اگر خُداوند کی پرستش تم کو بُری معلوم ہوتی ہو تو آج ہی تم اُسے جس کی پرستش کرو گے چُن لو۔ ۔۔ اب رہی میری اور میرے گھرانے کی بات سو ہم تو خُداوند کی پرستش کریں گے " (یشوع 24باب15 آیت؛ بالموازنہ رومیوں 12باب2 آیت)۔

خُدا ہماری زندگی کی پوری تصویر یعنی ماضی، حال اور مستقبل کو دیکھتا ہے۔ جب وہ اپنی ذات کو رُوح القدس اور اپنے کلام کے ذریعے سے ہم پر ظاہر کرتا ہے تو وہ ہمیں سکھاتا اور نصیحت کرتا ہے۔ خُدا نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ "مَیں تجھے تعلیم دُوں گا اور جس راہ پر تجھے چلنا ہو گا تجھے بتاؤں گا ۔ مَیں تجھے صلاح دُوں گا ۔ میری نظر تجھ پر ہو گی" (32 زبور 8 آیت؛ بالموازنہ 25 زبور 12 آیت)۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمیں خُدا کی مرضی ناپسندیدہ اور نا خوشگوار لگتی ہے، اور یہ اُس وقت ہوتا ہے جب ہمارا دِل خُدا پر بھروسہ کرنے کی بجائے ہماری اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔ لیکن ہم بالآخر سیکھیں گے کہ خُدا کی مرضی ہمیشہ ہی ہمارے فائدے کے لیے ہوتی ہے (119زبور 67آیت؛ عبرانیوں 12باب10-11 آیات)۔

ایک بار پھر ٹھوس فیصلہ سازی کی کلید خُدا کی مرضی کو جاننا اور اپنے دِلوں کی خواہشات پر عمل پیرا نہ ہونا ہے : "اَیسی راہ بھی ہے جو اِنسان کوسیدھی معلُوم ہوتی ہے پر اُس کی اِنتہا میں مَوت کی راہیں ہیں" (امثال 14باب 12 آیت؛ بالموازنہ امثال 12باب15 آیت؛ امثال 21باب2 آیت)۔ جب ہم اپنی ذات کی بجائے اپنا سارا اعتقاد اور بھروسہ خُدا پر کرتے ہیں تو جلد ہی ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کونسے فیصلے خُدا کو خوش کرتے ہیں۔

سب سے پہلے خُدا اُن فیصلوں کو برکت دیتا ہے جن کو وہ خود شروع کرتا ہے اور جو اُس کے کلام سے مطابقت رکھتے ہیں: "مَیں نے تجھے حکمت کی راہ بتائی ہے اور راہِ راست پر تیری راہنمائی کی ہے "(امثال 4باب11 آیت؛ مزید دیکھئے 119 زبور 33 آیت)۔ دوسرے نمبر پر خُدا اُن فیصلوں کو برکت دیتا ہے جو اُس کے مقصد کو پورا کرتے ہیں اور جن کا انحصار اُس کی قدرت پر ہوتا ہے : "کیونکہ جو تم میں نیّت اور عمل دونوں کو اپنے نیک اِرادہ کو انجام دینے کے لئے پیدا کرتا ہے وہ خُدا ہے " (فلپیوں 2باب13 آیت؛ مزید دیکھئے فلپیوں 4باب13 آیت)۔

مزید برآں ، خُدا اُن فیصلوں کو برکت دیتا ہے جو اُس کے نام کو جلال دینے کا سبب بنتے ہیں "پس تم کھاؤ یا پیو یا جو کچھ کرو سب خُدا کے جلال کے لئے کرو" (1 کرنتھیوں 10باب31 آیت)۔ خُدا اُن فیصلوں کو برکت دیتا ہے جو اُس کے کردار کی عکاسی کرتے ہیں، جو انصاف، شفقت اور عاجزی کو فروغ دیتے ہیں : "اَے اِنسان اُس نے تجھ پر نیکی ظاہر کر دی ہے ۔ خُداوندتجھ سے اِس کے سِوا کیا چاہتا ہے کہ تُو اِنصاف کرے اور رحم دِلی کو عزِیز رکھّے اور اپنے خُدا کے حضُورفروتنی سے چلے؟ " (میکاہ 6باب8 آیت، مزیددیکھئے 1 کرنتھیوں 10باب31 آیت؛ 1 تیمتھیس 4باب 12 آیت)۔ اور وہ اُن فیصلوں کو برکت دیتا ہے جو ایمان کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں:"اور بغیر اِیمان کے اُس کو پسند آنا ناممکِن ہے ۔ اِس لئے کہ خُدا کے پاس آنے والے کو اِیمان لانا چاہئے کہ وہ مَوجُود ہے اور اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے " (عبرانیوں 11باب6 آیت)۔

ہمیں کبھی بھی خُدا کے اِس وعدے کو نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ اپنے فرزندوں کو اُن کی ضرورت کے وقت حکمت عطا کرے گا : "لیکن اگر تم میں سے کسی میں حکمت کی کمی ہو تو خُدا سے مانگے جو بغیر ملامت کئے سب کو فیّاضی کے ساتھ دیتا ہے ۔ اُس کو دی جائے گی۔ " (یعقوب 1باب5 آیت؛ بالموازنہ 1 تھسلنیکیوں 5باب17 آیت)۔ اور جب ہم حکمت کے لیے دُعا کرتے ہیں تو ہمیں بھروسہ رکھنا چاہیے کہ خُدا ہماری دُعا کا جواب دے گا: "مگر اِیمان سے مانگے اور کُچھ شک نہ کرے کیونکہ شک کرنے والا سمُندر کی لہر کی مانِند ہوتا ہے جو ہوا سے بہتی اور اُچھلتی ہے۔اَیسا آدمی یہ نہ سمجھے کہ مُجھے خُداوند سے کُچھ مِلے گا۔ " (یعقوب 1باب6-7 آیات)۔ جب ہم خُدا کے متعین کردہ وقت کا انتطار کرتے ہیں تو اُس وقت صبر و تحمل بھی بہت زیادہ اہم ہے: "اوراِس طرح صبر کر کے اُس (ابرہام) نے وعدہ کی ہُوئی چیز کو حاصل کِیا " (عبرانیوں 6باب15 آیت) ۔

فیصلہ سازی اُس وقت زیادہ مشکل ہوتی ہے جب اِس میں تکلیف دہ انتخاب شامل ہوتا ہے۔ بعض دفعہ بالکل درست لائحہ عمل بھی ہمیں کسی نہ کسی طرح کا نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہمیں سب سے زیادہ فضل کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا واقعی ہم مسیح کے نام کو جلال دینے کے لیے دُکھ اُٹھانے کے لیے تیار ہیں؟ "پس جب کہ مسیح نے جسم کے اِعتبار سے دُکھ اُٹھایا تو تم بھی اَیسا ہی مِزاج اِختیار کر کے ہتھیار بند بنو کیونکہ جس نے جسم کے اِعتبار سے دُکھ اُٹھایا اُس نے گُناہ سے فراغت پائی۔تاکہ آیندہ کو اپنی باقی جسمانی زِندگی آدمیوں کی خواہشوں کے مُطابِق نہ گُذارے بلکہ خُدا کی مرضی کے مُطابِق" (1 پطرس 4باب1-2 آیات) ۔

کیا آج آپ کوئی فیصلہ کر رہے ہیں؟ اِس کے لیے ہدایت و راہنمائی پانے کی خاطر خُدا کے کلام کو دیکھیں۔ خُدا کے اُس اطمینان میں تسلی پائیں جو صرف اور صرف خُدا ہی فراہم کر سکتا ہے (فلپیوں 4باب7 آیت)۔ خُدا سے حکمت مانگیں، اُس کے وعدوں پر بھروسہ کریں اورپھر وہ آپکی رہنمائی کرے گا: "سارے دِل سے خُداوند پر توکُّل کراور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔اپنی سب راہوں میں اُس کو پہچان اور وہ تیری را ہنمائی کرے گا" (امثال 3باب 5-6 آیات؛ مزید دیکھئے یسعیاہ 58باب11 آیت؛ یوحنا 8باب12 آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ٹھوس فیصلہ سازی کے لیے بائبل کے اصول کیا ہیں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries