settings icon
share icon
سوال

کوئی ایماندار ماں یا باپ کی موت کے بعد کیسے تسلی پا سکتا ہے ؟

جواب


والدین میں سے کسی ایک (یا خاندان کے کسی فرد) کی موت واقعی کسی مسیحی کے لیے مشکل وقت ثابت ہو سکتی ہے۔خصوصاً اگر یہ صدمہ اچانک لگا ہو توہم سے ہمیشہ کے لیے جُدا ہونے والے شخص کے ایماندار ہونے کے باوجود اُسے الوداع کہنا کبھی آسان نہیں ہے ۔ اپنے عزیز کے لیے غم کرنا مناسب اور متوقع عمل ہے ؛ خُداوند یسوع خود اپنے دوست لعزر کی قبر پر رویا تھا(یوحنا 11باب 35آیت )۔ بائبل تشفی فراہم کرتی ہے اور بطور مسیحی ہم اپنے کسی عزیز کی موت پر بھی تسلی پا سکتے ہیں۔

اپنے مسیحی والدین میں سے کسی ایک کی موت پر کسی ایماندار کو سب سے بڑی تسلی اِس امید اور اعتماد میں حاصل ہے کہ ہمارے والدین کے ساتھ ہمارا رشتہ موت کے وقت ختم نہیں ہو جاتا ۔ کوئی مسیحی ایماندار جس نے مسیحی والدین میں سے کسی ایک کو کھو دیا ہے وہ اس وعدے سے اطمینان پا س سکتا ہے کہ فردوس میں وہ اُس سے دوبارہ جا ملے گا۔ موت کی بدولت ہم سے جُدا ہو جانے والاہمارا عزیز اس وقت مسیح کے ساتھ اُس کی شادمانی کا تجربہ کر رہا ہے (2کرنتھیوں 5باب 8آیت )۔ مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وقت اُن تمام لوگوں کو جلال بخشا اور غیر فانی بد ن عطا کئے جائیں گے جنہوں نے مسیح کو قبول کیا ہے(1کرنتھیوں 15باب 42-44آیات؛ یوحنا 11باب 25آیت)۔ مسیح نے موت کو مسیحیوں کے لیے فتح کر لیا ہے! جیسا کہ پولس رسول 1 کرنتھیوں 15باب 54-57آیات میں خوشی سے لکھتا ہے کہ"جب یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہن چُکے گا اور یہ مَرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہن چکے گا تو وہ قَول پُورا ہو گا جو لِکھا ہے کہ مَوت فتح کا لُقمہ ہو گئی۔ اَے مَوت تیری فتح کہاں رہی؟ اَے مَوت تیرا ڈنک کہاں رہا؟ مَوت کا ڈنک گُناہ ہے اور گُناہ کا زور شرِیعت ہے۔ مگر خُدا کا شُکر ہے جو ہمارے خُداوند یِسُوع مسیح کے وسیلہ سے ہم کو فتح بخشتا ہے۔"

اگر ہم اپنے والدین کی نجات کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں تو اُن میں سے کسی کی موت زیادہ مشکل ہو سکتی ہے۔ لیکن ہم پھر بھی خُدا کے وعدوں کے ساتھ جُڑے رہ سکتے ہیں اور تسلی کے لیے اُسے تلاش کر سکتے ہیں۔ ہم اُس وقت کے منتظر ہیں جب تمام چیزیں نئی ہو جائیں گی، اور یقین رکھتے ہیں کہ خُداراست اور بھلا ہے۔

بائبل کا خدا مصیبت زدہ لوگوں کو تسلی دینے اور شکستہ دِلوں کو شفا دینے میں خوشی محسوس کرتا ہے (یرمیاہ 17باب 14آیت ؛ 2 کرنتھیوں 1باب 3-4آیات؛ 7باب 6آیت )۔ وہ "یتیموں کا باپ ہے " (68زبور 5آیت )۔ جب ہم اپنے عزیزوں کی موت کے غم میں نڈھال ہوتے ہیں تو خُدا فوراًہمیں اپنا اطمینان بخشتاہے۔ اپنے غم کی حالت میں ہم خدا کی موجودگی کو اپنے ساتھ محسوس کر سکتے اوریہاں تک کہ اپنے دُکھ میں بھی دُعا اور پرستش کے وسیلہ سے اُس کے قریب ہو سکتے ہیں۔ ایماندار ہونے کے ناطے ہمیں تنہا غمگین بھی نہیں ہونا پڑتا ہے۔ مسیح کے بدن، کلیسیا میں دیگر لوگ ہمارے ساتھ ہیں جو بوجھ اٹھانے میں ہماری مدد کریں گے ، درد بانٹیں گے اور "رونے والوں کے ساتھ "روئیں گے (رومیوں 12باب 15آیت )۔

چونکہ ہمارے والدین ہماری زندگیوں کی تشکیل سازی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں لہذا اُن کی موت بالخصوص اِس سبب سے زیادہ دکھ بھری ہو سکتی ہے ۔ درحقیقت اکثر یہ ہمارے والدین ہی ہوتے ہیں جو ہمارے دُکھ کے وقت ہمیں تسلی دیتے ہیں اور انہیں کھونے پر ہمیں ایسا محسوس ہو سکتا ہے کہ ہم نے اپنا جذباتی سہارا کھو دیا ہے ۔ لیکن مسیحی اس بات سے تسلی پاسکتے ہیں کہ ہم اپنے خاندانوں سے زیادہ تخلیق کے خدا میں تسلی پاتے ہیں جو ہمیں ہم سے زیادہ بہتر طور پر جانتا ، ہمارے درد کو سمجھتا اور ہماری نشوونما کرنے اور ہمیں شفا دینے اور اپنا اطمینان عطا کرنے کے لیے تیار ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کوئی ایماندار ماں یا باپ کی موت کے بعد کیسے تسلی پا سکتا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries