کیا کلام پاک میں تمام رسولوں کی موت کو قلمبند کیا گیا ہے؟



سوال: کیا کلام پاک میں تمام رسولوں کی موت کو قلمبند کیا گیا ہے؟ کس طرح ہر ایک رسولوں کی موت واقع ہوئی تھی؟

جواب:
صرف ایک ہی رسولوں کی موت کی بابت کلام پاک میں قلمبند کیا گیا ہے وہ ہے یعقوب جو یوحنا کا بڑا بھائي تھا۔ (یوحنا 12:2) "ہیرودیش بادشاہ نے اس کو تلوار سے قتل کروایا تھا"۔ اسی طرح اس کے سر کو جسم سے الگ کئے جانے کا حوالہ ملتا ہے۔ دیگر رسولوں کی موت کے حالات کلیسیا کی روایات سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس لئے ان واقعات پر زیادہ زور ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عام طور پر جو کلیسیا کی روایات کو قبول کیا ہے۔ وہ شمعون پطرس کی موت کی بابت ہے جس کو روم شہر میں انگریزی کے ایکس کی شکل کے صلیب میں الٹا لٹکایا گیا تھا۔ اور یہ یسوع مسیح کی نبوت کی تکمیل تھی (یوحنا 21:18)۔ مندرجہ ذیل "روایات" جو دیگر رسولوں کی موت سے متعلق ہیں وہ بہت ہی مشہور روایات ہیں۔

متی کی شہیدی موت افریقہ کے اتھوپیا شہر میں تلوار سے قتل کئے جانے کے سبب سے ہوئی تھی۔ اور روم میں جب ستاؤ کی لہر چل رہی تھی تو یوحنا کو پکڑ کر کھولتے ہوئے تیل کے کڑھاوے میں ڈال دیا گیا تھا، کس طرح معجزانہ طریقہ سے یوحنا کو موت سے چھٹکارا مل گیا۔ پھر اس کو پطمس کے جزیرہ میں کالا پانی دیدیا گیا۔ مطلب یہ کہ وہ اس جزیرہ سے باہر نہیں جاسکتا تھا۔ اس جزیرہ میں اسے ایک قید میں رکھا گیا ۔ پطمس جزیرہ کے اسی قید میں اس نے مکاشفہ کی نبوت کی کتاب لکھی۔ پھر یوحنا کو وہاں سے آزاد کردیا گیا۔ وہ وہاں سے موجود زمانہ کے ترکی میں آیا۔ وہ بہت بوڑھا ہوکر مرا۔ یہی ایک رسول تھا جو سلامتی کے ساتھ اصلی موت مرا۔

یعقوب جو یسوع مسیح کا بھائي تھا (عہدہ کے حساب سے رسول نہیں تھا) وہ یروشلیم کی کلیسیا کا رہنما (پاسبان) تھا۔ جب اس نے مسیح پر ایمان رکھنے سے انکار نہیں کیا تو اس کو یروشلیم کی مندر کے جنوبی مشرقی کنگرہ پر سے نیچے گرا دیا گیا (جس کی اونچائی 100 فٹ سے زیادہ تھی۔ وہاںسے نیچے گرا‏ئے جانے کے بعد بھی جب ان سےکی موت نہیں ہوئی تو اس کے دشمنوں نے اس پر ڈندے برسائے جس سے وہ مرگیا۔ ایسا سوچا جاتا ہے کہ یہ وہی کنگرہ تھا جہاں پر شیطان یسوع مسیح کی آزمایش کے دوران لیکر گیا تھا۔

برتلمائی جس کونتن ایل کہا جاتا ہے وہ یروشلیم سے ایشیا کے لئے خوشخبری سنانے کو نکلا تھا۔ اس نے موجودہ ترکی میں یسوع مسیح کی گواہی دی تھی۔ ترکی قدیم زماندہ کا ارمینیا شہر تھا وہاں اس نے خوشخبری کا پیغام سنایا تھا جس کے تنیجہ پر اس پر کوڑے برسائے گئے تھے۔ انہیں کوڑوں کی مار سے وہ مرگیا۔ اندریاس کو یونان میں انگریزی کے ایکس کی شکل کی صلیب میں مصلوب کیا گیا تھا۔ پھر اس کو سات سپاہیوں کے ذریعہ کوڑے لگوائے گئے تھے۔ اس کے جسم کو رسی سے باندھکر اس کی تکلیف کو اور زیادہ بڑھا دیا گیا تھا۔ اس کے شاگردوں نے رپورٹ پیش کی کہ جب اس کو صلیب سے باندھنے کے لئے لیجایا جا رہا تھا تو اس نے یہ الفاظ کہے کہ "مجھے بہت عرصہ سے اس کی آرزو تھی۔ اس میں اس خوشی کے موقع کےلئے توقع کررہا تھا۔ مسیح کے جسم کو لٹکائے جانے کے ذریعہ صلیب کو مخصوص کردیا گیا ہے"۔ اس کو جو لوگ ستارہے تھے ان کے درمیان اس نے دو دن تک لگاتا پرچار کیا۔ اور تب تک پرچار کرتا رہا جب تک کہ اس کی موت نہیں ہوگئی تھی۔ تو ماکو 52 صدی میں جب وہ ہندستان آیا تو جنوبی ہندوستان میں اس کو بھالے سے مارا گیا تھا۔ اس نے وہاں یسوع مسیح کا پرچار کیا تھا۔ اس کی موت کے سبب سے اس نے ماننے والوں سے اس کے نام سے ایک کلیسیا قائم کی تھی۔ اور وہ آج بھی قائم ہے۔ متیاہ جو یہودا اسکریوتی کی جگہ پرشاگردمقرر ہؤا تھا اس کو سنگسار کیا گیا تھا اس اس کا سر تلوار سے الگ کردیا گیاتھا۔ روم میں عیسوی 67 میں نیرو بادشاہ جو ایک ظالم شہنشاہ تھا اس نے پولس کو ستاتا۔ اس کو تلوار سے قتل کردیا اور اس سر الگ کردیا گیا تھا۔ ایسے روایات ديگر رسولوں کے بارے میں بھی پائے جاتے ہیں۔ مگر انکے تاریخی ہونے یا قابل اعتماد ہونے کو ‎ثابت نہیں کرتے۔

یہ اتنا اہمیت نہیں رکھتا کہ رسول کس طرح سے مرے تھے بلکہ حقیقت میں یہ اہمیت رکھتا ہے کہ وہ سب کے سب اپنے ایمان کی خاطر مرے کے لئے تیار تھے۔ اگر یسوع مسیح مرکر زندہ نہ ہوتا تو اس کے شاگرد اس کو معلوم نہیں کرپاتے۔ اس پر کامل طور سے ایمان نہیں لاسکتے تھے۔ اس کا مرکز زندہہ ہونا انکے لئے قوت کا باعث بنا۔ اگر کوئی جھوٹی یا من گھڑت بات ہوتو لوگ اس کے لئےمرنے کے لئے تیار نہیں ہونگے۔ اپنے ایمان کو چھوڑنےکے لئے انکار کرنا جو مسیح پر تھا رسولوں کے لئے ایک عجیب ثبوت تھا جس کی انہوں نے گواہی دی کہ سچ مچ مسیح مردوں سے زندہ ہؤا ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا کلام پاک میں تمام رسولوں کی موت کو قلمبند کیا گیا ہے؟ کس طرح ہر ایک رسولوں کی موت واقع ہوئی تھی؟