settings icon
share icon
سوال

روزانہ دُعاکرنے کی کیا اہمیت ہے ؟

جواب


سادہ الفاظ میں کہاجائے تو مسیح کے پیروکاروں کے لیے دُعا خُدا کے ساتھ بات چیت کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ دُعا اُس ذات کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر مکالمے کا ذریعہ ہے جس نے ہمیں تخلیق کیا ہے۔ دُعا کے ذریعے سے روزانہ کی بنیاد پر مواصلات کی اہمیت کا زیادہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ بہرحال دُعا اِس قدر اہم ہے کہ کلامِ مُقدس کے اندر اِس کا ذکر 250 سے زیادہ دفعہ کیا گیا ہے۔ پس روزانہ بلاناغہ دُعا کرنا کیوں اہم ہے؟ سب سے پہلے تو روزانہ دُعا کرنا ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے تمام پہلوؤں کو خُدا کے سامنے رکھ سکیں۔ دوسرا یہ کہ روزانہ دُعا کرنا ہمیں ہر روز خُدا کی طرف سے عطا کردہ سبھی چیزوں کے لیے اُس کا شکر بجا لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تیسرا یہ کہ روزانہ دُعا کرنا ہمیں اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے اور اپنے گناہوں پر قابو پانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ روزانہ دُعا کرنا خُدا کی عبادت کرنے اور اُس کے احکام کی تابعداری کرنے کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اور آخر میں روزانہ دُعا کرنا اِس با ت کو تسلیم کرنے کا ایک طریقہ ہے کہ ہماری زندگیوں پر خُدا کا اختیار ہے۔ آئیے اِن میں سے ہر ایک اہم وجہ پر تھوڑی سی مزید تفصیل کے ساتھ نظر ڈالتے ہیں۔

‏روزانہ دُعا کرنا ہمیں اپنی زندگی کے تمام پہلوؤں کو خُدا کے سامنے رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ زندگی کے حالات روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حالات بالکل کم وقت میں اچھے سے بُرے اور پھر بُرے سے بدترین ہو سکتے ہیں۔ خُدا ہمیں بلاتا ہے کہ ہم اپنے خدشات کو اُس کے پاس لائیں تاکہ ہم اُسکی طرف رغبت رکھیں اور برکت پائیں۔ وہ ہمیں بلاتا ہے کہ ہم اُس کے ساتھ اپنی خوشیوں اور کامیابیوں کو بانٹیں۔ درحقیقت یرمیاہ 33باب3 آیت بیان کرتی ہے کہ "مجھے پُکار اور مَیں تجھے جواب دُوں گا اور بڑی بڑی اور گہری باتیں جن کو تُو نہیں جانتا تجھ پر ظاہر کرُوں گا۔ " ‏خُدا چاہتا ہے کہ ہم اُسے پکاریں تاکہ وہ ہماری دُعاؤں کا جواب دے سکے۔ وہ ہمارے ساتھ ناقابلِ یقین نعمتیں بھی بانٹنا چاہتا ہے جنہیں ہم اُس صورت میں کبھی بھی حاصل نہ کر پاتے اگر ہم دُعا کے وسیلے سے خُدا تک نہ پہنچتے۔ اور آخر میں یعقوب 4باب8 آیت ہمیں بتاتی ہے کہ "خُدا کے نزدِیک جاؤ تو وہ تمہارے نزدِیک آئے گا ۔ " خُدا ہمیشہ ہی ہمارے نزدیک ہونا چاہتا ہے۔

روزانہ دُعا کرنا ہمیں ہر روز خُدا کی طرف سے عطا کردہ سبھی چیزوں کے لیے اُس کا شکر بجا لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے کہ ہمیں اپنے خُدا کا ہر اُس چیز کے لیے جو وہ ہمیں فراہم کرتا ہے اور جو کچھ وہ ہمارے لیے کرتا ہے شکر بجا لانا چاہیے۔ ہم پر روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی اُس کی بھلائی اور محبت بھری مہربانی و شفت کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ 1 تواریخ 16باب34 آیت میں ہمیں حکم دیا گیا ہے "خُداوند کا شکر کرو اِس لئے کہ وہ نیک ہے۔ کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے ۔" زبور نویس 9 زبور 1 آیت میں بیان کرتا ہے کہ "مَیں اپنے پُورے دِل سے خُداوند کی شکر گُذاری کرُو ں گا۔ مَیں تیرے سب عجیب کاموں کا بیان کرُوں گا۔" ہم روزانہ کی بنیاد پر دُعا کرتے ہیں تاکہ ہم اُس کی وفاداری اور اپنی روزمرّہ کی زندگی میں اُسکی کثرت کی برکات کی فراہمی کو تسلیم کریں۔

روزانہ دُعا کرنا ہمیں اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے اور اپنے گناہوں پر قابو پانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔آئیے اِس حقیقت کا سامنا کریں، ہم ہر روز جانے انجانے میں گناہ کرتے ہیں۔ پس خُداوند یسوع مسیح کے پیروکاروں کی حیثیت سے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟کلامِ مُقدس اِس بات کو بالکل واضح کرتا ہے کہ : "مَیں نے تیرے حضور اپنے گُناہ کو مان لِیا اور اپنی بدکاری کو نہ چھپایا۔ مَیں نے کہا مَیں خُداوند کے حضور اپنی خطاؤں کااِقرار کرُوں گا اور تُو نے میرے گُناہ کی بدی کو معاف کِیا " (32 زبور 5 آیت)۔ جو کچھ خُدا علیمِ کُل ہونے کے ناطے جانتا ہے اُسے بھی اُس کے سامنے روزانہ کی بنیاد پر پیش کریں۔ روزانہ دُعائیہ وقت ایک ایسا بہترین موقع ہے جس کے دوران ہم اپنی ذات پر سے گناہ کے شدید قسم کے بوجھ کو اتار کر پھینک سکتے ہیں۔بہت سارے مسیحی ایسے گناہوں کے ساتھ ہی گھومتے پھرتے رہتے ہیں جن کا اُنہوں نے کبھی اعتراف نہیں کیا ہوتا، اور یہ چیز ایک مسیحی کے خُداوند یسوع کے ساتھ ذاتی تعلقات میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ہمیں بطورِ مسیحی عاجزی کے ساتھ اپنے آپ کو خُدا کے حضور پیش کرنا چاہیے اور دُعا میں معافی مانگنی چاہیے۔ روزانہ دُعا کرنے کا ایک اور اہم عنصر یہ ہے کہ ہم اُس میں خُدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کے لیے قوت بھی مانگ سکتے ہیں۔گناہ چھوڑنے میں صرف خُدا ہی ہماری مدد کر سکتا ہے اور ایسا ممکن بنانے کے لیے اُس ہماری التجا اور توبہ کو سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔

روزانہ دُعا کرنا خُدا کی پرستش کرنے اور اُس کے احکام کی تابعداری کرنے کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے۔غالباً 1 تھسلنیکیوں 5باب16-18 آیات سے بہتر کوئی بھی اور آیت اِس بات کا بہتر خلاصہ نہیں کرتی کہ کیوں ہمیں روزانہ کی بنیاد پر دُعا کرنی چاہیے۔ اِن آیات میں مرقوم ہے کہ "ہر وقت خُوش رہو۔بِلاناغہ دُعا کرو۔ہر ایک بات میں شکر گُذاری کرو کیونکہ مسیح یسوع میں تمہاری بابت خُدا کی یہی مرضی ہے۔" یہ خُدا کی اپنی مرضی ہے کہ اُسکے فرزند اُس میں خوش رہیں، اُس سے دُعا کریں اور اُس کی شکر گزاری کریں۔ بلاناغہ دُعا کرنے کا مطلب ہے کہ ہم دُعا کرنے کو اپنی روزانہ کی عادت بنا لیں اور اُس سے کبھی بھی پیچھے نہ ہٹیں۔ دُعا کرنا ایک طرح سے پرستش کرنے کا بھی عمل ہے، کیونکہ اُس سے دُعا کرنے کے ذریعے سے ہم اُسے یہ دکھاتے ہیں کہ ہم اُس کی کس طرح سے پرستش کرتے ہیں۔ روزانہ دُعا کرنا تابعداری کا بھی عمل ہے جس کی وجہ سے خُدا یہ دیکھ کر خوش ہوتا ہے کہ اُس کے فرزند اُس کے حکمو ں پر عمل کر رہے ہیں۔

روزانہ دُعا کرنا اِس با ت کو تسلیم کرنے کا ایک طریقہ ہے کہ ہماری زندگیوں پر خُدا کا اختیار ہے۔مسیحی ہونے کی حیثیت سے ہم جانتے ہیں کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے۔ خُدا مکمل طور پر خود مختار ہے۔ کچھ بھی ایسا وقوع پذیر نہیں ہوتا جس کے بارے میں خُدا کو علم نہ ہو (یسعیاہ 46باب9-10 آیات؛ دانی ایل 4باب17 آیت)۔ کیونکہ وہ ہر ایک چیز پر اختیار رکھتا ہے اِس لیے وہی ہماری ساری عبادت اور تعریف کے لائق ہے"اَے خُداوند عظمت اور قُدرت اور جلال اور غلبہ اور حشمت تیرے ہی لئے ہیں کیونکہ سب کچھ جو آسمان اور زمین میں ہے تیرا ہے ۔ اَے خُداوند بادشاہی تیری ہے اور تُو ہی بحیثیتِ سردار سبھوں سے مُمتاز ہے " (1 تواریخ 29باب11 آیت)۔ خُدا ہمارا عظیم بادشاہ ہے اور اِس حیثیت سے وہ ہماری زندگی کے ہر ایک پہلو پر اختیار رکھتا ہے۔ ہر روز ہمیں اپنی زندگی میں اُس کے مناسب مقام کو عاجزی اور احترام کے ساتھ تسلیم کرنا چاہے جو ایسے عظیم اور مہیب بادشاہ کے لیے ہے۔

آخر میں دُعا ایک ایسی چیز ہے جو ہمیں روزانہ کی بنیاد پر کرنی چاہیے۔ پھر بھی بہت سارے مسیحیوں کے لیے روزانہ کی دُعا میں اپنی ذات کو عاجز کرنا ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔ جو لوگ کئی سالوں سے خُداوند کے ساتھ چل رہے ہیں اُن کے نزدیک روزانہ کی دُعا ایک عام معمول کے مطابق ہو سکتی ہے جس میں مناسب یقین اور احترام کی کمی ہو۔ چاہے کوئی نیا ایماندار ہو یا پھر پہلے سے قائم شُدہ ایماندار، دُعا کو ہمیشہ ہی خُدا سے بات کرنے کا بہترین طریقہ سمجھا جانا چاہیے۔ فرض کریں کہ آپ کسی عزیز یا قریبی دوست سے بات نہ کریں تو یہ رشتہ کب تک قائم رہے گا؟روزانہ دُعا کرنا اپنے آسمانی باپ کے ساتھ روزانہ رفاقت رکھنا ہے۔ یہ واقعی حیرت انگیز ہے کہ خُدا ہمارے ساتھ رفاقت رکھنا چاہتا ہے۔ زبور نویس بجا طور پر پوچھتا ہے کہ "اِنسان کیا ہے کہ تُو اُسے یاد رکھّے اور آدم زاد کیا ہے کہ تُو اُس کی خبر لے؟ " (8زبور4 آیت)۔ روزانہ کی جانے والی دُعا اِس ناقابلِ یقین سچائی اور حیرت انگیز استحقاق کو سمجھنے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

روزانہ دُعاکرنے کی کیا اہمیت ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries