settings icon
share icon
سوال

ثقافتی نسبتیت پسندی کیا ہے ؟

جواب


ثقافتی نسبتیت پسندی دراصل یہ نظریہ ہے کہ تمام کے تمام عقائد، رسومات اور اخلاقیات کا افراد کے ساتھ اُن کے سماجی پسِ منظر کی روشنی میں نسبتی تعلق ہے۔ دوسرے الفاظ میں "درست" اور "غلط" کا تعین سماجی صورتحال کی بناء پر ہوگا، اگر کوئی چیز کسی معاشرے میں اخلاقی تصور کی جاتی ہے تو وہ کسی دوسرے معاشرے میں غیر اخلاقی تصور کی جا سکتی ہے۔ اور کیونکہ اخلاقیات کا کوئی عالمگیر معیار موجود نہیں ہے اِس لیے کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے معاشرے کے رسوم و رواج کے بارے میں کوئی منفی بات کہے۔

ثقافتی نسبتیت پسندی کو بڑے پیمانے پرجدید بشریات (علمِ نوعِ انسان) کی طرف سے قبول کیا جاتا ہے۔ ثقافتی لحاظ سے نسبتیت پسند یہ مانتے ہیں کہ ہر ایک معاشرے کی سبھی رسومات قابلِ احترام اور اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں اور سب ایک جتنی اہمیت کی حامل ہیں۔ ثقافتوں میں عدم مطابقت ، حتیٰ کہ وہ اخلاقی اعتقادات جو باہمی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ متصادم ہیں اُن میں سے کسی کو بھی غلط یا صحیح اور اچھے اور بُرے کے تصور کے ساتھ نہیں دیکھنا چاہیے۔ آج کل کے بشریات کے پیروکار یہ خیال کرتے ہیں کہ تمام کی تمام ثقافتیں انسانی وجودیت کا یکساں طور پر جائز اظہار ہیں، اور اُن سب کا مطالعہ بالکل غیر جانبدارانہ طور پر کیا جانا چاہیے۔

ثقافتی نسبتیت پسندی کا اخلاقی نسبتیت پسندی کے ساتھ قریبی تعلق ہے جس کے مطابق سچائی عالمگیر طور پر یکساں نہیں بلکہ جگہ اور حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔ ابھی اچھائی اور بُرائی کی پہچان کس بنیاد پر کی جائے گی اُس کا تعین کوئی ایک فرد یا وہ معاشرہ کرے گا۔ اب چونکہ سچائی خارجی/عالمگیر نہیں ہے اِس لیے سچائی کے متعلق کوئی ایسے خارجی /عالمگیر معیار بھی نہیں ہو سکتے جن کا اطلاق سبھی معاشروں پر یکساں طور پر کر دیا جائے۔ کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ کوئی دوسرا شخص غلط ہے یا صحیح؛ یہ ذاتی خیال کا معاملہ ہے اور کوئی بھی معاشرہ کسی دوسرے معاشرے کی عدالت نہیں کر سکتا۔

ثقافتی نسبتیت پسندی کسی بھی معاشرے کے اندر کسی بھی طرح کے ثقافتی اظہار میں کچھ بھی غلط نہیں دیکھتی( اور نہ ہی کچھ صحیح دیکھتی ہے) ۔پس قدیم مایائی تہذیب کے اندر خود کو اذیت دینے، اپنے جسم کے اعضاء کو کاٹ ڈالنے اور انسانوں کی قربانی گزراننے جیسے عوامل میں نہ تو کچھ اچھا ہے اور نہ ہی کچھ بُرا؛ یہ تو محض اُن کی معاشرتی خصوصیات ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے 4 جولائی کو امریکہ میں آتش بازی کرنے کا رواج ہے۔ انسانوں کی قربانی اور آتش بازی –یہ دونوں دو مختلف تہذیبوں کی پیداوار ہیں۔

جنوری 2002 میں جب صدر بُش نے دہشت گرد اقوام کو "بدی کا دُھرا/محور" قرار دیا تھا تو اُس وقت ثقافتی نسبتیت پسندی کے پیروکار بہت نادم ہوئے تھے۔ کیونکہ کسی ایک معاشرے کا کسی دوسرے معاشرے کو "بد" کہنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی نسبتیت پسندوں پر لعنت ملامت کر رہا ہو۔ حالیہ طور پر ایک تحریک چل رہی ہے جس کا نعرہ ہے "بنیاد پرست اسلام کے خلاف لڑنے کی بجائے اُسے سمجھیں"، یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نسبتیت پسندی ترقی کر رہی ہے۔ ثقافتی نسبتیت پسند یہ مانتے ہیں کہ مغرب کے لوگوں کو اپنے تصورات کو دہشت گردوں پر نہیں تھوپنا چاہیے، جس میں یہ تصورات پیش کرنا بھی غلط ہے کہ عام بے گناہ لوگوں کو مارنے کے لیے خود کُش حملے بُری چیز ہیں۔ بنیاد پرست اسلام کے اندر جہاد کا جو تصور ہے وہ بھی اُسی قدر اہم اور جائز ہے جس قدر مغربی تہذیبوں کے اپنے تصورات اور نظریات جائز ہیں۔ اورنسبتیت پسند کہتے ہیں کہ 11 ستمبر کے حملے کے لیے جس قدر دہشت گرد ذمہ دار ہیں امریکہ خود بھی اُس کے لیے اُتنا ہی ذمہ دار ہے۔

ثقافتی طور پر نسبتیت پسند عام طور پر مشنریوں کے کام کی مخالفت کرتے ہیں۔ جب انجیل کا پیغام کسی دِل کے اندر داخل ہوتا ہے اور زندگیوں کو تبدیل کرتا ہے تو اُس صورت میں لازمی طور پر کچھ ثقافتی اور معاشرتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر جب ڈون اور کیرل رچرڈسن نے نیوگِنی میں نیدرلینڈ کے ساوی قبیلے کے درمیان بشارت کا کام کیا تو 1962 میں ساوی قبیلے کے بہت سارے لوگوں کی زندگیاں تبدیل ہو گئیں: خاص طور پر اُنہوں نے اپنی آدم خوری کی قدیم رسم اور خاوند کے مر جانے پر بیوہ کو اُسی کی چِتاکے ساتھ قربان کر دینے کی رسم کو چھوڑ دیا۔ ثقافتی نسبتیت پسندی کے ماننے والے رچرڈسنز پر اُن کے اِس عمل کی وجہ سے ثقافتی سامراجیت کو فروغ دینے کا الزام لگا سکتے ہیں، لیکن دُنیا کے زیادہ تر لوگ اِس بات پر اتفاق کریں گے کہ آدم خوری جیسی رسم کو ختم کرنا ایک اچھی بات ہے۔ ( مشن کے وسیلے سے ساوی قبیلے کی تبدیلی اور اُن کے ہاں معاشرے کی اِس اصلاح کاری کے بارے میں مکمل طور پر جاننے کے لیے ڈون رچرڈ سن کی کتاب Peach Child کا مطالعہ کیجئے)۔

بطورِ مسیحی ہم ہر ایک معاشرتی فرق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تمام لوگوں کی قدر کرتے ہیں، کیونکہ ہم اِس بات کو مانتے ہیں کہ تمام لوگوں کو خُدا کی شبیہ پر تخلیق کیا گیا ہے (پیدایش 1باب27آیت)۔ ہم اِس بات کو بھی مانتے ہیں کہ مختلف معاشروں کے اندر فرق ایک خوبصورت چیز ہے اور لوگوں کے کھانوں، کپڑوں اور زبان وغیرہ میں جو فرق پایا جاتا ہے اُس کو محفوظ رکھا جانا چاہیے اور اُس کی تعریف بھی کی جانی چاہیے۔ لیکن اِس کے ساتھ ہی، ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ گناہ کی وجہ سے انسانوں کے سبھی عقائد اور اُن کے سبھی عمل نہ تو خُدا پرستانہ ہیں اور نہ ہی معاشرے کے لیے مکمل طور پر فائدہ مند ہیں۔ سچائی کبھی داخلی نہیں ہوتی (یوحنا 17باب17آیت)؛ سچائی عالمگیر ہے اور اِس کائنات کے اندر ایک ایسا اخلاقی معیار ہے جس کی روشنی میں ہر ایک معاشرے کے ہر ایک شخص کو جوابدہ ہونا پڑے گا (مکاشفہ 20باب11-12آیات)۔

بطورِ مشنری ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ پوری دُنیا کو مغرب کی پیروی کرنے کی تلقین کریں۔ اِس کے برعکس ہمارا مقصد خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے نجات کی خوشخبری کو ساری دُنیا تک لے کر جانا ہے۔ انجیل کا پیغام ایک ایسی سماجی اصلاح کا کام شروع کرے گا کہ کوئی بھی معاشرہ جس کی کچھ رسومات یا کام خُدا کے اخلاقی معیار کے مطابق نہیں ہونگے اُس میں تبدیلی آ جائے گی – اور جس طرح خُدا کا کلام وہاں پر پھیلتا چلا جائے گا بُت پرستی، کثرتِ ازدواج اورغلامی وغیرہ کا خاتمہ ہوتا چلا جائے گا (دیکھئے اعمال 19باب)۔ اخلاقی معاملات میں مشنری جن لوگوں میں خدمت کر رہے ہوتے ہیں وہ اُن لوگوں کی ثقافت کو محفوظ رکھتے اور اُس کی عزت کرتے ہیں ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ثقافتی نسبتیت پسندی کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries